انٹرنیشنل ہارٹ ڈے: دل عشاق کی خبر لینا 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا

 حیدر علی آتش تو کسی لہر میں یہ حقیقت بیانی کر گئے لیکن ہمیں بحثیت ایک ڈاکٹر کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ دل کا تعلق ایک عمر کے بعد ہمت ہار جانے کے بعد چپ سادھ لینا تھا۔

دل ایک ایسا عضو جسم ہے جو ہم ڈاکٹروں کے لئے تو بے انتہا اہم ہے ہی لیکن اہل دل کے لئے تو دل ہی سب کچھ ہے۔ نہ صرف اہل دل بلکہ اہل عقل و دانش بھی زیادہ تر دل کے ہاتھوں مجبور نظر آتے ہیں۔ اور آج شعرائے کرام کے اسی جان لیوا یعنی دل بےقرار کا انٹرنیشنل ڈے منایا جا رہا ہے۔

دل کو حال قرار میں دیکھا

یہ کرشمہ بہار میں دیکھا

زمانوں کے سفر پہ نکلیے تو احساس ہو گا کہ دل کا جادو ہر دور میں سر چڑھ کے بولا، دل کی بےچینیاں کبھی اوجھل نہ ہوئیں۔ غالب صبر طلب عاشقی اور بے تاب تمنا کے ہاتھوں مجبور ہو کے پوچھتے ہی رہے کہ

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

اور دیکھیے، آخر آخر میں غالب بھی کچھ اوبھ گئے تھے

جس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا

اور میر تو اپنی وفاؤں اور چاہتوں کا ہی ثبوت دیتے رہے

اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور

یہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اور

ذوق تو باقاعدہ دل کو سرزنش کرتے نظر آئے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

جگر مراد آبادی کو دل کی بےوفائی سے گلہ ہی رہا

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

دل کو جس کا ہونا تھا، ہو چکا، ہمارے فیض صاحب پھر بھی تشویش میں مبتلا رہے

رات ڈھلنے لگی ہے سینوں میں

آگ سلگاؤ آبگینوں میں

دل عشاق کی خبر لینا

پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں

فیض صاحب کا کیا پوچھتے ہیں، عجیب خواش نوا مسافر تھے، وہ تو دل کے حکم پر وطن بدر بھی ہو جاتے تھے

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

دل کا اتنا تذکرہ بچپن ہی میں سن لیا تھا کہ تجسس پال لیا کہ یہ دل آخر چیز ہے کیا؟ ہمیں جاننا ہے۔ کبھی کچھ چاہتا ہے کبھی کچھ، کبھی کھلکھلانے پہ مجبور کرتا ہے تو کبھی اشک بہانے پہ۔

میڈیکل کالج میں پہنچے تو زیادہ تر لوگ مردہ لاشوں کی چیر پھاڑ سے خوفزدہ تھے جو میڈیکل کی پڑھائی کا ایک لازم حصہ تھا۔ اور ہماری باچھیں کھلی تھیں کہ آخر کار دیدار ہو گا۔ ڈائسیکشن ہال میں کئ لوگ بے ہوش ہوئے۔ کچھ مردہ لاشوں پہ لگی دوائی کی ناگوار بو کے ہاتھوں قے کرنے پہ مجبور ہوئے اور ہم تھے کہ چاقو ہاتھ میں تھامے ایک نامعلوم لاش کے سرہانے کھڑے انتظار کی گھڑیاں گن رہے تھے کہ کب سینہ چاک کریں اور اپنی آنکھوں سے اس نادان دوست کو دیکھیں۔ کچھ لوگوں نے ہم سے ہماری طبعیت ٹھیک ہونے کا پوچھ ہی لیا اور ان کی نگاہوں میں چھپی حیرت آج بھی نہیں بھولی۔

ڈائسیکشن شروع کی اور ہم جو سب کچھ کاٹنے کو تیار بیٹھے تھے پر برق گر پڑی۔ معلوم ہوا کہ ہم نے جسم کی پرت پرت علیحدہ کرنی ہے اور سینہ کھلنے میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ مایوسی تو بہت ہوئی لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ ہاں غالب کی طرح تمنا کچھ اور بھی بے تاب ہو گئی۔

دل کا کیا رنگ کروں خوں جگر ہونے تک

خدا خدا کر کے وہ دن آن پہنچا جب پسلیاں کاٹ کے دل نکالا جانا تھا۔ یقین جانیے کہ ہمارے دل کا تو خون ہی ہو گیا جب ہم نے دل وحشی کو دیکھا۔ سوکھا سا جیسے کوئی مرجھایا ہوا پھول، سیاہی مائل رنگت جیسے کوئی اماوس کی رات، بے جاں ہماری ہتھیلی میں سمایا ہوا اور ہمارے دل کی دھڑکنیں بےتاب بھی اور نا ہموار بھی۔

شعراء کی تمنائیں اپنی جگہ، ہمارا اضطراب بھی ٹھیک لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہی ہے وہ جس سے رگوں میں لہو دوڑتا پھرتا ہے۔ یہی ہے وہ جو زندگی کا ضامن ہے ، یہی ہے وہ جو اپنا کام کیے جاتا ہے ایک آوارہ ، بے فکرے اور مخلص دوست کی طرح!

سو آج کا دن دنیا بھر اس انمول دوست کی قدر سکھانے اور اس کا خیال رکھنے کےنام ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر روز سینکڑوں لوگ دل کے دورے سے مر جاتے ہیں۔ دل کا دورہ دل کی جسم اور دماغ کو خون پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی کو کہا جاتا ہے۔ جب دل پہ کام کا وزن بڑھ جائے، شاعرانہ بوجھ نہیں بلکہ حقیقی بوجھ تو دل تھک کے آنکھیں موند لیتا ہے۔

دل کے تھکنے کے کچھ بنیادی اسباب ہیں جن میں ہمارا معاشرہ خود کفیل ہے۔ عمر کے ساتھ بڑھتا ہوا پیٹ، غیر متوازن غذا، فیٹس اور میٹھے کا بے طرح استعمال، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور ورزش کی کمی کے باعث ہر شخص آتش فشاں کے دہانے پہ کھڑا ہے۔ وہ دل ناتواں جو پروردگار نے ساٹھ کلو وزنی جسم کے لئے بنایا ہے جب سو کلو کے لئے کام کرے گا تو ہانپتے کانپتے وقت سے پہلے ساتھ چھوڑ دے گا۔

مزنگ کی مچھلی، پھجے کے پائے اور گوالمنڈی کی مٹھائیاں بہت اشتہا انگیز ہیں مگر دل کے گرد کتنی چربی جمع ہو کے شریانوں کو بند کرتی ہیں، یہ کس کو فکر۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اگر کسی کو گائیڈ کرنے کی کوشش کی جائے تو بڑی بے نیازی سے جواب ملتا ہے ” مرنا تو ہے ہی ایک دن، اب کیا کھانے کو ترستے مر جائیں”۔

اس بےترتیب اور بے محابا کھانے کے شوق نے جہاں موٹاپے، شوگر اور بلڈ پریشر کو جنم دیاہے، وہیں گدھے، کتے چوہے اور مینڈک کھلانے کا عذاب بھی طاری ہے پھر بھی ہوٹلوں کے ذائقے سے لذت کشید کرنے پہ کسی کو کوئی عار نہیں۔

کچھ ٹی وی چینلز پہ چلنے والے کوکنگ پروگراموں نے قوم کا مزاج بگاڑ دیا ہے اور سادہ غذا کسی کی ترجیح ہی نہیں رہی۔ یقین جانیے، ہر چیز دسترس میں ہوتے ہوۓ بھی ہمیں اپنی اماں کے ہاتھ کا بنا ہوا لذت سے بھرا سادہ سالن اور گرم پھلکا یاد آتا ہے۔

ہم جب بھی مغرب یاترا کو جاتے ہیں، اسی نوے برس کے مرد وزن کو ورزش کی غرض سے بھاگتے دیکھ کے رشک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بے اختیار دل میں خیال آتا ہے کہ ورزش کرنا تو کوئی راکٹ سائنس بھی نہیں جو صرف ترقی یافتہ قوموں کا خاصہ ہو، کم کھانا اور انتہائی سادہ کھانا تو ہمارے پیغمبر کی سنت بھی ہے اور ہمیں ہی یاد نہیں۔

سو ہمارے دل کا آپ سب کے دل کو انس بھرا پیغام ہے کہ قدر کیجئے اس تحفہ نایاب کی، قبل اس کے کہ اس کی ہمت جواب دے جائے اور ٹک ٹک کی بجائے ایک سیدھی لکیر، آپ کے پیاروں کو قبل از وقت جدائی کا عذاب دے جائے۔

ہم چلتے ہیں ، ہمارا جم انتظار کر رہا ہے! (یہ جم کم بخت کوئی جواں سال گبھرو نہیں، ایک سادہ سی عمارت ہے جہاں دل کے دھڑکتے چلے جانے کے لئے اچھل کود کی جاتی ہے)۔ اس دوران آپ کچھ دل کی باتیں پڑھ لیں، آج رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔

اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ

اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈتے رہے

٭٭٭

خدا کرے مری طرح تیرا کسی پہ آئے دل

تو بھی جگر کو تھام کے کہتا پھرے کہ ہائے دل

٭٭٭

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

دے اور بھی دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور۔۔

٭٭٭

بہت کہا تھا کہ دل میں رکھنا دلوں کی باتیں

بہت کہا تھا کہ سب کو ان کی خبر نہ کرنا

​٭٭٭

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

٭٭٭

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے​

٭٭٭

دِل تو میرا اُداس ھے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ھے۔

٭٭٭

یہی دِل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے

اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے

٭٭٭

امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہوگئی آخر

٭٭٭

دلِ فطرت شناس آخر، کہیں یونہی دھڑکتا ہے

فریبِ حسن ہے جشنِ چراغاں ، ہم نہ کہتے تھے

٭٭٭

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی راز داں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اپنا سو وہ مہرباں نہیں ہے

ارے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ ہمارے پروفیسر شبنم دل نے ایک کتاب لکھ رکھی ہے، “دل کی باتیں”۔ فیروز سنز سے چھپی تھی۔ وہاں تو تالا پڑ گیا۔ دیکھیے شاید پرانی کتابوں کی کسی دکان سے مل سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •