زیر بن، زبر نہ بن، متاں پیش پوی

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ سیانے جانتے ہیں کہ کیوں ہوا، کیوں ہوتا ہے اور وہاں سے کس کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ ہم جیسے تو یہ سوچ کر اور دیکھ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے جھنڈوں کے درمیان ہمارا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا اور زمانے بھر کے لیڈروں کے درمیان ہمارا وزیر اعظم کھڑا فی البدیہہ انگریزی بول رہا تھا۔

جو ہم سے ایک درجہ زیادہ سیانے ہیں انھوں نے اس تقریر اور اس کے مندرجات کے ساتھ ساتھ اس اجلاس کے دوران دیے گئے دیگر بیانات اور لیے گئے فیصلوں پر تبصرے بھی کرنے شروع کر دیے۔

چند قنوطی حضرات کو بھٹو صاحب کی تقریر یاد آئی۔ خدا نہ کرے اب کسی وزیر اعظم کا انجام بھٹو صاحب والا ہو۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وزیر اعظم کا عہدہ ہمارے جمہوری حق کی علامت ہے۔ ہم علامتوں پر جان دینے والے لوگ ہیں۔ لولی، لنگڑی، سمجھوتوں کے بوجھ سے جھکی، جیسی تیسی جمہوریت ہمیں کسی بھی طرح کی آمریت کی نسبت قبول ہے۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ

ایسا ہے کہ جمہوریت کا حسن ہی اختلاف رائے میں ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سے سو اختلافات کے باوجود ایک بات قابل تعریف نظر آتی ہے کہ کئی معاملات پر عوامی احتجاج دیکھ کر لیے گئے فیصلے تبدیل کر لیے گئے۔

خیبر پختونحوا میں بچیوں کے لیے عبایہ کی پابندی کا نوٹیفیکیشن اور ایئر پورٹ پر پلاسٹک مڑھوانے کا فیصلہ واپس لینا دو بڑی مثالیں ہیں۔

یوں بھی خان صاحب سیاسی سمجھ بوجھ کی بنیاد جسے وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کے مخالف اسے یو ٹرن کہتے درحقیقت ایک لچکدار رویہ ہے۔ ہمیں ان کی یہ خوبی بہت پسند ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں یوٹرن نہ لینے والا( لچکدار رویہ نہ دکھانے والا) احمق ہے۔ ہمیں اس بات سے 100 فیصد اتفاق ہے۔

ہوا یوں کہ ایک دو روز پہلے، ’دی نیشن‘ میں خالد حسین صاحب کا بنایا ہوا ایک خاکہ شائع ہوا اور پھر اس خاکے کے چھپنے پر اخبار نے دست بستہ معافی مانگی۔ مبینہ طور پر کارٹونسٹ فی الحال کارٹون نہیں بنا رہے۔

اس واقعے سے کچھ روز قبل صحافیوں کی ایک جوڑی کا پروگرام بھی بند کرا دیا گیا۔ ان سے پہلے بھی کئی بڑ بولے اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھو کر یو ٹیوب پہ بولتے نظر آتے ہیں۔

وہ غلطیاں جو کسی نہ کسی سطح پر کی جا رہی ہوتی ہیں سامنے آ جاتی ہیں اور یوں ان کو درست کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں حکومت کی ساکھ اور کارکردگی بہتر سے بہتر ہوتی جاتی ہے۔

حزب اختلاف تو منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی ہے اور جب منہ کھولتی ہے تو اپنا ہی راگ الاپتی ہے۔ ایسے میں فقط صحافی، عوام کی آنکھیں، کان اور زبان بنے ہوئے ہیں۔ اندھے، گونگے اور بہرے لوگوں کی بستی پر حکومت کرنے میں کیا لطف؟

مزہ تو تب ہے کہ صحافی آزاد ہو اور اس کی تنقید کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کارکردگی بہتر کی جائے۔ تنقید برائے تنقید کرنے والوں کو عوام خود ہی رد کر دیتے ہیں۔ یہ ہی جمہوری معاشرے کا چلن ہوتا ہے۔

جہاں تک کارٹون کا تعلق ہے تو یہ ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس میں علامت در علامت کا استعمال ہوتا ہے۔ ممکن ہے کچھ علامتیں کسی ایک ثقافت میں کسی اور طرح استعمال ہوتی ہوں اور دوسری ثقافت میں ان کا استعمال مختلف ہو۔

سینسرشپ

مذکورہ خاکے میں تو مجھے ایسا بھی کوئی ابہام نظر نہ آیا۔ گھوڑا ایک مخلص اور محنتی، وفا دار کارکن یا ساتھی کی علامت ہے جبکہ گھوڑے پر کاٹھی کسنے یا سواری لاد لینے والا عیار اور موقع پرست شخص کی علامت ہے۔ اسی طرح گاجر سبز باغ دکھانے کی علامت ہے اور اس کا ایک ایسی چھڑی پر بندھا ہونا جو سوار نے ہاتھ میں پکڑ کر گھوڑے کے سامنے لٹکا رکھی ہو ایک ایسے انعام کی علامت ہے جو اس مخلص دوست کو تیز دوڑنے پر بھی نہیں ملتا۔

یہ کارٹون درحقیقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ وہی موقف ہے جو ہماری ریاست نے اختیار کیا۔ کارٹونسٹ نے کیا یہ کہ ٹرمپ کی مبینہ ثالثی کی پیش کش کو سبز باغ کہا ہے۔

خیر آرٹ کے لیے کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کی اپنی تشریح ہوتی ہے، یہ ہی بات دیگر فنون لطیفہ پر بھی صادق آتی ہے۔

مجھے سن کر دکھ ہوا کہ ایک تخلیق کار کو اپنی تخلیق کی وضاحت دینا پڑی۔ پی ٹی آئی حکومت کے گزرے ایک سال کے تجربے سے اتنی تو مجھے امید ہے کہ خاکے کو سمجھ لینے کے بعد ہمارے فاضل دوست کو دوبارہ خاکے بنانے کی اجازت مل جائے گی اور وہ اپنا دال دلیہ پھر سے کمانے لگیں گے۔

ایک حکایت سن لیں۔ ایک بادشاہ نے اپنے لیے ایک عالی شان محل بنانے کا حکم دیا کہ جس کو دیکھنے کو دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئیں۔ محل بننا شروع ہوا تو ایک بڑھیا روتی پیٹتی دربار میں آئی کہ دہائی ہے، دہائی ہے، میں لٹ گئی۔

بادشاہ نے ماجرا دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بڑھیا کم نصیب کی کٹیا بادشاہ کے مجوزہ محل کے عین صدر دروازے کے سامنے پڑتی ہے اور بڑھیا کسی صورت اپنی کٹیا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

وزیروں مشیروں نے کہا کہ حضور بے حقیقت بڑھیا ہے اٹھا کر کہیں بھی پھینک دیں کون باز پرس کرے گا۔؟

اس پر عادل بادشاہ نے کہا کہ نہیں بڑھیا کی کٹیا وہیں رہے گی اور دیکھنے والے تا قیامت دیکھیں گے کہ منصف بادشاہوں کے دور میں ایک غریب بڑھیا کو بھی جینے کا وہی حق حاصل ہے جو ایک بادشاہ کو ملا ہے۔

حضور! عرض یہ ہے کہ خدا نے آپ کو مال و منال اور حکومت سے نوازا ہے۔ یہ غریب صحافی، یہ کارٹونسٹ، یہ شاعر، آزمائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے پاس نہ ایٹم بم ہے نہ کوئی اور طاقت۔ قلم اور برش سے یہ آپ کا کیا بگاڑ لیں گے؟

ان بے چاروں کو ان کا کام کرنے دیں تاکہ کل کو جب آپ کی ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو تو اس میں یہ کم نصیب بڑھیائیں اپنی اپنی کٹیاوں میں بیٹھی آپ کے انصاف کی تصویر بنی نظر آئیں۔ ایک کارٹونسٹ کے بنائے گئے خاکے سے آپ کی مضبوط سلطنت کا پایہ بھی نہیں ہلتا مگر اس پر پابندی سے بدنامی کی جو دھول اڑے گی وہ کلاہ و دستار پہ بڑی بد نما لگے گی۔

مزید یہ کہ صحافیوں، شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور گلو کاروں وغیرہ کا ایک عجیب چلن ہے۔ ان پر پابندی لگ جائے تو یہ امر ہو جاتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے راتوں رات لاکھوں سے کروڑوں ہو جاتے ہیں اور ان کا وہ کام جس پر پابندی لگی ہو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

اس لیے اگر اس قبیلے کے کسی فرد کی گوشمالی مقصود ہو تو بہتر ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ وزیر اعظم روحانیت پر یقین رکھتے ہیں ہماری بات چاہے نہ سمجھیں خواجہ فرید کی بات ضرور سمجھ جائیں گے۔

’زیر بن، زبر نہ بن متاں پیش پوی‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10847 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp