ع غ قسم کے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ع غ ایک کامیاب انسان ہے اور جیسے کہ کامیاب لوگ ہوتے ہیں اُس میں کوئی خرابی نہیں، خرابیاں صرف ناکام انسانوں میں ہوتی ہیں، ع غ صبح بستر سے جاگنگ کرتا ہوا اٹھتا ہے اور رات کو سر کے بل کھڑا ہو کر مراقبہ کرتا ہے، یہ دونوں کام کرتے ہوئے آج تک اسے کسی نے دیکھا تو نہیں مگر راوی کا بیان یہی ہے کہ ع غ ایسا ہی پھرتیلا ہے۔ واضح رہے کہ راوی ع غ کا سالا ہے۔ ع غ میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں، مثلاً وہ ایک ہاتھ سے تالی بجا لیتا ہے، ایک دن اُس کے ملازم نے جوتے پالش نہیں کیے تو ع غ نے ایک مناسب رفتار سے اپنا ہاتھ اُس کے داہنے گال کے ساتھ مس کیا، حیرت انگیز طور پر تالی کی مترنم آواز آئی جو (سالے کے ) کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوئی، اُس دن سے سالا صاحب نے ع غ کی کامیابیوں کی فہرست میں یہ خوبی بھی جمع کر لی۔

ع غ کو گفتگو میں بھی کمال حاصل ہے، وہ لوگوں سے باتیں کرتا جاتا ہے اور لوگ اُس کے سحر میں یوں کھو جاتے ہیں کہ انہیں دنیا و مافیہا کی خبر ہی نہیں رہتی، بڑی مشکل سے انہیں جھنجوڑ کر اٹھایا جاتا ہے، اس بات کا راوی ع غ کا سالا ہی نہیں بلکہ دفتر کے وہ تمام افراد ہیں جنہیں اکثرع غ اپنی کامیابی کی کہانی سنا کر متاثر کرتا رہتا ہے۔

دراصل ع غ اُن نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے جو کم وقت میں دولت سمیٹنا چاہتے ہیں، یہ وہ کام ہے جو ع غ سے بہتر شاید ہی کسی اور نے کیا ہو۔ جب وہ موج میں ہوتا ہے تو لوگوں کو بتاتا ہے کہ کیسے اُس نے ایک چھوٹی سی کمپنی بنا کر کاروبار شروع کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کمپنی کروڑوں روپوں کا بزنس کرنے لگی۔ ایک مرتبہ کسی نشست میں ایک نوجوان نے پوچھا کہ سر دیکھتے ہی دیکھتے کی تشریح کریں کہ یہ کیسے ہوا کہ ایک لاکھ روپے کی کمپنی چند برس میں ہی کروڑوں کی بن گئی!

اس کے جواب میں ع غ نے اپنی جد و جہد کی کہانی سنائی اور بتایا کہ جب اُس نے کاروبار شروع کیا تو اُس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے، سیلف ہیلپ کی کتاب میں اُس نے پڑھا تھا کہ پیسے کسی کے پاس بھی نہیں ہوتے یہ کمانے پڑتے ہیں چنانچہ اُس نے کسی سیٹھ کے ہاں ملازمت کر لی، یہ چند ہزار روپے کی نوکری تھی مگر اُس نے ہمت نہیں ہاری۔ ایک روز سیٹھ کی بیوی بیمار ہو گئی تو اسے اچانک دکان چھوڑ کر افرا تفری میں جانا پڑا، اسی چکر میں وہ گلے کو تالا لگانا بھول گیا، ع غ نے جان لیا کہ دراصل یہی وہ موقع ہے جو قدرت نے اسے فراہم کیا ہے، سیلف ہیلپ کی کتابوں میں بھی اُس نے یہی پڑھا تھا کہ قدرت جب کوئی چانس دے تو اسے کھونا نہیں چاہیے بلکہ لپک کر بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ع غ نے یہ فائدہ اٹھا لیا۔

اپنا کاروبار شروع کرنے کے بعد بھی قدرت نے ع غ کو ایسے کئی موقع فراہم کیے جو اُس نے ضائع نہیں کیے، مثلاً اُس کا پہلا کاروبار سرکاری محکموں کو مشینری سپلائی کرنا تھا، سرکاری اہلکار بھلے لوگ ہوتے ہیں، ایسے ہی کسی خدا ترس کلرک نے ع غ کو سرکار کے ساتھ کاروبار کرنے کے دو سنہرے گُر سکھائے، پہلا، کوالٹی چاہے جتنی بھی گھٹیا ہو پرتمہاری چیز کا بھاؤ سب سے کم ہونا چاہیے اوردوسرا، فائل کا پیٹ کاغذوں سے بھرا ہو نا چاہیے۔ ع غ نے یہ باتیں کسی سیلف ہیلپ کی کتاب میں نہیں پڑھی تھیں سو فوراً پلے سے کس کے باندھ لیں۔

البتہ تیسرا اصول جو اُس مرد فہم و دانش نے نہیں بتایا تھا مگر ع غ کے استاد جناب شفیق تجوری والا المعروف تالا توڑ مرحوم و مغفورنے سمجھایا تھا کہ فائل ہی نہیں افسر کا پیٹ بھی بھرا ہونا چاہیے، اُس پر عمل کرتے ہوئے ع غ نے نیک دل کلرک کے ہاتھ پر چند ہزار کے نوٹ یہ کہہ کر رکھ دیے کہ اگلے ماہ بٹیا کا نکاح ہے، میری طرف سے پیشگی سلامی قبول فرمائیں۔ یہ سُن کر کلرک کی آنکھیں بھر آئیں مگر زہد و تقویٰ کے اس پیکر نے وہ نوٹ واپس کر دیے، جواب میں ع غ کی بھی آنکھیں پُر نم ہو گئیں اوراُس نے فوراً سلامی کی رقم دگنی کر دی۔ بے شک ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔

ع غ کی کامیاب زندگی ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے، شاید ہی کبھی کوئی ایسا موقع آیا ہو جب ع غ دل ہار بیٹھا ہو، حالانکہ اپنے لوگ کسی شخص کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، فوراً حسد میں مبتلا ہو کر اُس کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں یا اسے بد نام کرنے کی مہم چلا دیتے ہیں۔ ع غ نے ایسا موقع ہی نہیں آنے دیا اور اِس کا سہرا ع غ کے ایک اور استاد الحاج حضرت لطیف پوڈر والا مد و ظلہ کے سر جاتا ہے جنہوں نے شروع میں ہی اسے یہ لطیف نکتہ سمجھا دیا تھا کہ کاروبار جیسا بھی ہو ہر سال عمرہ کرنا نہیں چھوڑنا اور اپنے مسلک کی مسجد کے مولوی کو چندہ دینا نہیں بھولنا، یہ بات بھی ع غ نے کسی سیلف ہیلف کتاب میں نہیں پڑھی تھی سو فوراً یاد کر لی۔ وہ دن اور آج کا دن ع غ نہ صرف کھل کر چندہ دیتا ہے بلکہ راوی کے مطابق ضرورت مند جوان بیواؤں کی حسب توفیق داد رسی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں راوی سالا نہیں بلکہ دور پار کی ایک سالی ہے جو بیوہ ہے۔

آج ع غ اکیلا نہیں بلکہ اس جیسے لاکھوں لوگ ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، کوئی صحافت کاع غ ہے تو کوئی حکومت کا، کوئی بیوروکریسی کا ع غ ہے تو کوئی کاروبار کا۔ اِنہیں جب موقع ملتا ہے یہ عام لوگوں کو بھاشن دینا شروع کر دیتے ہیں، بھاشن کبھی اخلاقیات کے موضوع پر ہوتا ہے تو کبھی مذہب پر، کبھی یہ لوگ سماج کی برائیوں کی وجہ سمجھا رہے ہوتے ہیں اور کبھی اِس بات پر سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک میں اتنی کرپشن کیوں ہے۔

بے شک اِن سب ع غ لوگوں کو سیلف ہیلپ کے موضو ع پر نئی کتاب لکھنی چاہیے، مجھے یقین ہے وہ ریکارڈ توڑ دے گی۔ مگر شاید یہ میری خام خیالی ہے کیونکہ یہ لوگ کتاب لکھنے سے ماورا ہو چکے ہیں، یہ خود کو دیو مالائی قسم کا کوئی کردار سمجھتے ہیں اور اِن کا خیال ہے کہ اِن کی ”کامیابی“ کی وجہ اِن کی فہم و فراست، بالغ نظری اور اوللعزمی وغیرہ ہے۔ یہ ٹی وی پر بیٹھے تجزیہ فرما رہے ہوں یا بطور افسر کرسی پر برا جمان ہوں، اِن کے لہجوں میں قطعیت ہوتی ہے اور یہ ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے ان کے علاوہ باقی تمام لوگ ان سے کمتر ذہن کے مالک ہیں کیونکہ اگر وہ ذہین فطین ہوتے تو اِن ع غ

لوگوں کے ہمرکاب ہوتے۔ دراصل قصور اِن کا نہیں ہمارا اپنا ہے، یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے ع غ کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ جینوئن رول ماڈل ہمیں قابل قبول نہیں۔ ہم سب کو راتوں رات آسان طریقے سے امیر بننا ہے، شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا ہے اور طاقت سمیٹنی ہے، اب اِس کے لیے ع غ بننا پڑے، استاد لطیف پوڈر والا کی شاگردی اختیار کرنی پڑے یا علامہ تماش بین المعروف جھوٹی سرکار کے چرنوں میں بیٹھنا پڑے، ہمیں منظور ہے۔ جس ملک میں ع غ اعلیٰ عہدوں پر قابض ہوں، دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر ٹی وی پر بیٹھ جائیں اور مذہب کو کاروبار بنا کر چنگھاڑتے پھریں، اُس ملک ع غ ہی رول ماڈل ہوگا، ط ظ نہیں!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کردہ تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 337 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada