کیا پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بننا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تجربہ کر کے دیکھیں۔ اپنے کسی صاحب ِ حیثیث دوست یا رشتہ دار کے پاس جائیں۔ ایسے صاحب کے پاس جن کی پاس نئے ماڈل کی چمکتی ہوئی گاڑی ہو اور جو ایک عدد ذاتی گھر کے مالک بھی ہوں۔ جو گرمیوں میں ملک سے باہر بھی جاتے ہوں۔ اور پوچھیں کہ کیا پاکستان میں سب کے علاج معالجہ کی سہولیات لئے مفت ہونی چاہییں۔ وہ فوراً کہیں گے کہ ضرور۔ کیوں نہیں ریاست کو چاہیے کہ غریب سے غریب آدمی کو بھی علاج کی مفت سہولیات مہیا کرے۔

اس کے بعد آپ دریافت کریں کہ کیا تعلیم کی سہولت بھی حکومت مفت مہیا کرے؟ اس پر وہ کہیں گے کہ تعلیم تو ہر ایک کا حق ہے۔ ضرورایسا ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بننا چاہیے۔ ریاست کا کام ہے کہ جس کے سر پر چھت نہیں اسے گھر بھی مہیا کرے۔ آخر برطانیہ، کینیڈا، اور ناروے میں اس طرح ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتا؟ آخر میں آپ دریافت کریں کہ اگر حکومت آج سے آپ کے ٹیکس کو دو گنا یا تین گنا کردے تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

تو وہ صاحب یقینی طور پر جھنجھلا اُٹھیں گے۔ اور غصے سے کہیں گے کہ ہم تو پہلے ہی ٹیکسوں کے ہاتھوں ستائے ہوئے ہیں اور آپ ہم پر مزید ظلم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ کاروبار چلتا ہی کہاں ہے کہ ہم پر اور بوجھ ڈالا جائے۔ یہ ملک تو رہنے کے قابل نہیں۔ وہ اپنے حالات کا اتنا دردناک نقشہ کھینچیں گے کہ آپ پر رقت طاری ہوجائے گی۔ حالانکہ ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ اگر پاکستان کو ایک ویلفیئر سٹیٹ یا فلاحی ریاست بنانا ہے تو پاکستان کے لوگوں سے زیادہ نہیں بہت زیادہ ٹیکس تو وصول کرنا پڑے گا۔

اس کے باوجود جب انتخابات سے قبل کوئی سیاستدان اعلان کرتا ہے کہ ہم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنا دیں گے تو ہم تالیاں پیٹنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی پارٹی یہ اعلان کرے کہ وہ اقتدار میں آکر ٹیکس کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کردے گی تو اس کے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوجائے۔ ہم یہ کبھی نہیں سوچتے کہ فلاحی ریاست بنانے کا مطلب ہی ٹیکسوں میں اضافہ ہے۔

ہم سب سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر تو ٹیکسوں کے بے تحاشا بوجھ لدے ہوئے ہیں۔ ایک موازنہ کرکے دیکھتے ہیں۔ اگر ایک شخص پاکستان میں چار لاکھ روپیہ ماہوار کما رہا ہے تو وہ یہاں کے لحاظ سے بہت امیر آدمی ہے۔ ایسا شخص آرام دہ زندگی گذار سکتا ہے۔ یہ شخص تقریباً پچاس پچپن ہزار روپیہ ماہوار انکم ٹیکس دے گا۔ اگر انگلستان میں کوئی شخص اس کے برابر رقم برطانوی پاؤنڈز میں کما رہا ہے تو وہاں کی قوت ِ خرید کے لحاظ سے یہ شخص معمولی آمد کا شخص شمار ہوگا لیکن یہ برطانوی وہاں پر ایک لاکھ روپیہ ماہوار کے برابر رقم انکم ٹیکس ادا کرے گا۔

اگر کینیڈا کے کیلگری کے علاقہ میں کوئی شخص چار لاکھ روپیہ کے برابر رقم ماہوار کما رہا ہے تو یہ شخص وہاں کے حالات کے لحاظ سے کوئی امیر آدمی نہیں شمار ہوگا لیکن وہ اسی ہزار پاکستانی روپیہ کے برابر رقم ہر ماہ بطورٹیکس ادا کرے گا۔ ظاہر ہے کہ ان ممالک میں پاکستان کی نسبت بہت زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہے۔ اور یہ بھی اُس صورت میں ہے کہ پاکستانی ٹیکس ا دا کرے۔ اس وقت صورت ِ حال یہ ہے کہ بیس کروڑ کے ملک میں سے صرف 20 لاکھ پاکستانی ٹیکس کے فائلر ہیں یعنی یہ لوگ ٹیکس کے گوشوارے جمع کراتے ہیں اور عملی طور پر جو ٹیکس دے رہے ہیں ان کی تعداد اس سے بھی بہت کم ہے۔ گویا ایک فیصد سے بھی کم لوگ ملک کو کوئی انکم ٹیکس دیتے ہیں۔

اب ایک اور وسوسہ پیش کیا جائے گا۔ اور وہ یہ کہ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکس یعنی ان ڈائریکٹ ٹیکس بہت زیادہ ہیں۔ اگر چہ ہم انکم ٹیکس تو نہیں دیتے لیکن یہ بالواسطہ یا ان ڈائریکٹ ٹیکس دے دے کر تو ہماری کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اور کچھ سالوں سے پاکستان میں کل ٹیکسوں میں سے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا حصہ ساٹھ فیصد کے لگ بھگ رہ رہا ہے۔ اور اس میں سے 64 فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکس سیلز ٹیکس کی صورت میں وصول ہو رہا ہے۔ اس وسوسے کو جانچنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔

اور وہ یہ ہے کہ پہلے یہ حساب کیا جائے کہ ڈالروں میں پورے ملک کی اندرونی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کتنی ہے؟ اور پھر یہ شرح نکالی جائے کہ اس کا کتنے فیصد ہر قسم کے ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کو وصول ہوتا ہے؟ جس ملک میں یہ شرح زیادہ ہو گی، اس ملک میں زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہوگا اور جس ملک میں یہ شرح کم ہو گی اس میں کم ٹیکس وصول ہو رہا ہو گا۔ 2008 میں پاکستان میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی اور اب گذشتہ مالی سال کے دوران یہ شرح بڑھ کر 11.6 فیصد تک پہنچی۔

شاید اس سال اضافے کا رحجان برقرار نہ رہ سکے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کی فلاحی ریاستوں میں یہ شرح کتنی ہوتی ہے؟ جرمنی میں یہ شرح 37 فیصد، برطانیہ میں 33 فیصد، ناروے میں 38 فیصد اور کینیڈا میں 32 فیصد ہے۔ اور یہ پیش ِ نظر رہے کہ ان ممالک کی پیداوار ہمارے سے بہت زیادہ ہے اور ہماری ملکی پیداوار زیادہ تر ’نور ِ نظر اور لخت جگر‘ پیدا کرنے تک محدود ہے۔ ان ممالک میں اتنی پیداواری صلاحیتوں کے ساتھ ٹیکس اتنی زیادہ شرح سے وصول کیا جاتا ہے تب جا کر فلاحی ریاست کام کرتی ہے۔ اور ہم فقط جذبات کی حرارت سے اس انجن کو چلانے پر مصّر ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ ٹیکس جمع کرنے کے بارے میں موجودہ حکومت کی کاوشیں کیا نتائج پیدا کر رہی ہیں۔ موجودہ بجٹ وہ پہلا بجٹ ہے جو موجودہ حکومت نے تیار کیا تھا۔ اس مالی سال میں گذشتہ مالی سال میں جمع کیے جانے والے بجٹ کی نسبت 30 فیصد زیادہ کا ہدف رکھا گیا ہے۔ گوکہ پہلے دو ماہ کے دوران گذشتہ سال کی نسبت 20 فیصد زیادہ ٹیکس جمع ہوا ہے لیکن یہ ہدف سے کم ہے۔ ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی صاحب کے مطابق ملک کا اسی فیصد ٹیکس تین سو کمپنیوں سے مختلف صورتوں میں وصول ہوتا ہے۔

یہ کمزور بنیاد ہی ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک میں ہر شخص کے مالی معاملات ریکارڈ پر ہوں۔ حکومت کی یہ تجویز ہے کہ جو پچاس ہزار روپے سے زیادہ خریداری کرے اس کا شناختی کارڈ نمبر رسید پر لکھا جائے لیکن تاجر طبقہ اس کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔ سب سے خوب مخالفت تو بنوں کے تا جر صاحبان کی طرف سے دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے سیلز ٹیکس کے نظام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ان سے اس طرح سیلز ٹیکس جمع کیا تو وہ اپنے علاقہ میں پولیو کی مہم نہیں چلنے دیں گے۔

بہت خوب۔ اس دھمکی کا مطلب تھا کہ اگر ہم سے ٹیکس وصول کیا تو ہم اپنے بچوں کو معذور ہونے دیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے تاجر برادری میں ٹیکس دینے کا رحجان بہر حال پاکستان کے باقی طبقوں سے بھی کم ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر تو ہم ٹیکس دینے کو تیار ہیں اور اب کی نسبت بہت زیادہ شرح سے دینے کے لئے تیار ہیں، تب تو پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے مطالبے کو ایک سنجیدہ مطالبہ سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم ٹیکس دینے کو ہی تیار نہیں تو فلاحی ریاست اپنے اخراجات کہاں سے پورے کرے گی؟ تب تو یہ خیال محض ایک جھنجھنا ہے جو انتخابات کے قریب ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دیا جاتا ہے اور ہم باقی پانچ سال اسے بجا بجا کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •