دو ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ٹیچر کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے پیارے دوست سید تحسین عباس بخاری صاحب!

آداب!

تم پر رب رحمن کی بے کنار رحمتیں اور بے شمار برکتیں۔ امید ہے عمر رواں کے سارے فسانے شاندار ہوں گے۔ لیکن یار! شاندار کہاں ہوں گے؟ پانچ دن پہلے تک شاید شاندار ہوں لیکن اب تو زیست کے اوراق ہی بے ترتیب ہو گئے ہوں گے۔ یقین کرو جب سے تمہارے ہاتھوں کو ہتھکڑی میں جکڑے دیکھا ہے، دماغ ماؤف سا ہے اور دل اداسی کی لپیٹ میں۔ تم پرریاست کے ”بے داغ لوگوں“ نے ”داغ“ لگایا ہے کہ تم نے دو ہزار روپے رشوت لی ہے۔

اے میرے دوست! میں نہیں جانتا کہ تم نے رشوت لی ہے یا نہیں اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ ہم پہلی بار ایک دوسرے سے کب متعارف ہوئے تھے۔ شاید آج سے 15 سال پہلے عمران سریز کے توسط سے۔ بہرحال متعارف ہونے کی جو بھی وجہ ہو۔ میں جس تحسین عباس بخاری کو جانتا ہوں وہ باکردار، غیر متعصب، محنتی، باذوق اور علم و ادب کی دلدادہ شخصیت کا مالک ہے۔ وہ تحسین عباس بخاری جس نے اپنا پیٹ کاٹ کر اور محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی اور رزق حلال کمایا۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تم نے تحصیل احمد پور شرقیہ کے ناکام ترین اور بدنام زمانہ پرائمری سکول امیرآباد کو محنت، محبت اور مہارت سے بہترین سکولوں کی صف لا کھڑا کیا اور جس کے تعلیمی معیار کا مقابلہ اوچ شریف کے کئی نجی سکولوں کے معیار سے کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی تمہارا جرم تھا۔

پیارے تحسین! 2004 ء سے 2014 ء تک نجانے کتنی ہی بار تم ہماری دکان سے کرایہ پر عمران سریز کے ناول لیتے رہے ہو گے۔ مجھے یہ سوچ کر ہی ہنسی آتی ہے کہ تم جو پانچ روپے کرایہ کی مد میں رعایت کرانے کے روادار نہ تھے، محض دو ہزار روپوں کی خاطر اپنی خودداری اور اپنے وقار کو گروی رکھ دو گے؟ لیکن اب تمہیں پتہ لگ گیا ہو گا کہ یہاں کیسے کیسے چمتکار ہوتے ہیں۔ ایسے ایسے چمتکار کہ دو ہزار کی برآمدگی کے لئے اور ”دو ٹکے“ کے ”رشوت خور“ استاد کو نشان عبرت بنانے کے لئے قانون 70 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے بنفس نفیس تمہاری دہلیز پر آن پہنچا۔ ”فوری“ اور ”سستے“ انصاف سے پہلے ریاستی عہدیداروں نے تمہاری تصویر بنا کر تشہیر کرنی بھی ضروری سمجھی تاکہ دوسرے گناہگار عبرت حاصل کریں۔

اچھے دوست! یہ سطور لکھنے سے پیشتر میں یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوتا رہا کہ جب تمہارے ہاتھوں کو ہتھکڑی میں جکڑا گیا ہو گا، اس وقت تمہارے کیا احساسات ہوئے ہوں گے؟ میر جعفر، میر صادق اور بروٹس میں سے کس ”استعارے“ کو تم نے اپنی نم آنکھوں سے یاد کیا ہو گا؟

اے میرے محترم دوست! میرے پاس سوائے دعاؤں، آنسوؤں اور اپنی بے بسی کے، تمہیں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ تاہم نمریتا کی چیخ، صلاح الدین کے شکوے، میر حسن کی آخری ہچکی، فیضان کی لاش سے اٹھتی بو، ثمر عباس کی کٹی شرم گاہ اور عامر مسیح کی لاش پر پڑنے والے ٹھڈوں کو یاد کر کے اور اپنے زندہ عہد کی خاموش مردہ آوازوں کو کوستے ہوئے، میں کچھ معروضات تمہارے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

میرے پیارے دوست! جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر تم ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم اس ملک کے شہری ہو جس ملک میں علیل قائداعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہو جایا کرتی ہے اور یہاں آئین بنانے والے سولی چڑھ جایا کرتے ہیں جبکہ مقبول عوامی قیادتیں کبھی جلاوطن، کبھی سکیورٹی رسک، کبھی نا اہل اور کبھی سرراہ قتل کر دی جاتی ہیں۔ کبھی نہ بھولنا کہ یہاں کی جمہوریت میں فاطمہ جناح، اعتزاز احسن اور نواب زادہ نصراللہ خان جیسے صدارتی امیدواروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور ”ہار“ ہی ان کا مقدر ہوتی ہے جیسا کہ تم اپنے مقدر سے ”ہار“ گئے۔

تحسین! ہمیشہ یاد رکھنا کہ اس پاک سر زمین میں حکیم محمد سعید، صلاح الدین یوسف جیسے لوگ تاریک راہوں میں مر جایا کرتے ہیں۔ یہاں ساحر لدھیانوی، جوگندر ناتھ منڈل، ڈاکٹر حمیداللہ، قرۃ العین حیدر، استاد بڑے غلام علی خان، جگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر عبدالسلام اور عاطف میاں جیسے لوگ ملک چھوڑ جایا کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگوں کو نظربند رکھا جاتا ہے سو تم کس کھیت کی مولی ہو۔ بہتر ہوتا کہ تم بھی کسی نہ کسی طریقے سے یہ ملک ہی چھوڑ جاتے۔

میرے یار! شکر کرو کہ تم ابھی زندہ ہو ورنہ یہاں تو اہل اور اہل دل افسر اور ٹیچر خودکشی کر لیا کرتے ہیں اور دیکھو اینٹی کرپشن کے اس تلخ تجربے کے بعد زندگی میں کبھی بھی ایمان دار استاد نہ بننا کیونکہ اس مملکت خداداد میں فرض شناس استادوں کو کھڈے لائن لگا کر ”تبدیلی“ کے ”پچھواڑے“ پر مہر ثبت کی جاتی ہے۔

عزیزم! ہمیشہ خیال میں رہے کہ یہاں شہرخوباں کی مرصع و مسجع شاہراہ دستور پر سولہ سنگھار کیے جھانجھریں چھنکاتے سبز آئین میں آرٹیکل آٹھ سے 28 کی شمولیت کے باوجود یہاں اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ سو کبھی بھی اپنا حق مانگنے کی کوشش نہ کرنا۔ اس دھرتی پر استاد لوگ تعلیم سے محروم لوگوں کو علمی بیداری کے دائرے میں لانے کی کوشش میں حاشیوں پر دھکیلے جاتے ہیں۔

برادرم! لوگوں کو علم اور ادب کا سبق پڑھانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ یہاں سید سبط حسن، علی عباس جلالپوری، شوکت صدیقی، سعادت حسن منٹو، ساغر صدیقی، حبیب جالب، شہاب دہلوی، استاد حسین بخش ڈھڈی، جاذب انصاری، پٹھانے خان، ساغر نقوی، سید قمر عباس بخاری، ڈاکٹر اخترتاتاری، خاک اوچوی اور جانباز جتوئی جیسے فلسفی، شاعر اور آرٹسٹ کسمپرسی، خستہ حالی اور ”قحط دوا“ کے ہاتھوں خاموشی سے موت کے گھاٹیوں میں اتر جاتے ہیں اور منظور حسین منظر اوچوی، تاج محمد راجپوت، ہمراز سیال اوچوی، موسیٰ سعید اور استاد سخاوت حسین خان جیسے نابغہ روزگار گم نامی کے صحرا میں جیتے جی مر جاتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا۔

اے میرے دوست! پاک سر زمین میں قانون کئی کئی سال مصلحت کی قبا اوڑھ کر خواب خرگوش کے مزے لیتا ہے اور پھر اچانک جھرجھری لے کر جاگتا ہے۔ جیسا کہ تمہارے معاملے میں جھرجھری بلکہ انگڑائی لے کر جاگا۔ یاد رکھنا کہ تم اس اسلامی جمہوری ایٹمی مملکت کے ”معزز“ شہری ہو جہاں ہسپتال میں ”بیمار“ ’شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلوں میں ”شہد“ نکلتا ہے۔ یقینا اس سنہرے واقعے سے تم سمجھ گئے ہو گے کہ پینافلیکس کے دو ہزار کی رقم رشوت کے دو ہزار روپوں میں کیسے ڈھل کر تمہیں جیل پہنچا گئی۔

تحسین عباس بخاری! بطور ایک ٹیچر کے، تم نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو یہ بتایا ہو گا کہ ہمارے دین کی آفاقی تعلیمات میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے لیکن جب تم جیل سے چھوٹ کر ”عملی زندگی“ میں آؤ تو اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یہ ہی درس دینا کہ مملکت خداداد میں ”بڑا آدمی“ بننے کے لئے ریا کاری، منافقت، قبضہ گیری، چمچہ گیری، جھوٹ، نا انصافی، ظلم، لاقانونیت، رشوت، عصبیت، کفر سازی، منشیات، گدی نشینی اور جہالت سے لے کر گندہ پانی، جعلی دودھ، غلیظ خوراک، گدھوں کے گوشت کی ترسیل تک اسلام کی اس انوکھی تجربہ گاہ میں ”ہاتھ کی صفائی“ کو ہی مکمل ایمان کا درجہ حاصل ہے۔ تمہارے ہاتھوں میں نظر آنے والی ہتھکڑی دراصل ہاتھ ہی کی صفائی کا دوسرا رخ ہے۔

اے میرے دوست! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انصاف، قانون اور اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس عظیم اسلامی ملک میں انصاف کے حصول کے لئے انسان کے پاس حضرت نوح علیہ السلام کی عمر، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور قارون کی دولت لازمی ہونی چاہیے۔ زندان میں اپنے عظیم ”جرم“ کو یاد کر کے تم ذرا مظہر حسین خواجہ نامی اس ”خطرناک مجرم“ کو ضرور یاد کرنا جو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں 19 سال تک قید کی زندگی کا بوجھ اٹھاتا رہا اور جو جیل میں ہی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر طبعی موت مر گیا، اس کی وفات کے دو سال بعد عزت مآب عدالت عظمیٰ اسے تمام الزامات سے ”باعزت“ بری کر دیتی ہے۔

یار! حیرت ہے کہ پاکستان میں اتنا عرصہ ”جھک“ مارنے کے بعد بھی تم نہیں جان پائے کہ یہاں انتظامی مشینری کی طرف سے ملزم کو اُس کی حیثیت کے مطابق ڈیل کیا جاتا ہے۔ یہاں طاقت ور کو سرکاری پروٹوکول سے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور تم جیسے کمزوروں کو ہتھکڑیاں لگا کر، انتہائی تذلیل کے ساتھ ”ڈالے“ میں ڈالا جاتا ہے۔ مجھے تو رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ جب عوام سائیکل و موبائل چور کو پکڑ کر اُسے گنجا کر دیں، اُسے ٹھڈے گھونسے لاتیں ماریں، اُسے سڑک پر گھسیٹیں، اُس کی بھنویں مونڈ دیں، اُسے گالیاں بکیں، اپنے معلم کی تذلیل کریں۔ یہ سب کچھ کر کے اُسے پولیس کے حوالے کر دیں لیکن اربوں کی کرپشن کے ملزمان کو ووٹ دے کر عزت سے پارلیمنٹ میں بٹھائیں تو پھر ایسی عوام کا کیا مقدر ہو گا؟

سید تحسین عباس بخاری! انشاء اللہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب تم جیل سے باہر کھلی فضاؤں میں سانس لو گے۔ لیکن باہر آ کر یہ حقیقت بھی ہمیشہ تمہارے دل و دماغ پر مرقوم رہے کہ آصف زرداری، نواز شریف اور لیاقت قائم خانی جیسی ”اجلی“ شخصیات ہی پاکستان کا ”حقیقی“ اور ”روشن“ چہرہ ہیں، جن کو ”ماں“ جیسی ریاست اور باپ جیسی حکومت کے ”دامادوں“ کا درجہ حاصل ہے۔ ورنہ اپنے خون جگر سے علم و تدریس کی شمعیں روشن کر کے جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں کو ملیا میٹ کرنے والے تم جیسے قابل، محنتی، دیانت دار اور خوددار استاد کی اوقات تو محض دوہزار روپے کی ہے۔

جو اپنے محکمے کا چلتا پھرتا صدقہ ہوتے ہیں۔ دو ہزار روپے سے زیادہ تمہاری اس معاشرے میں، اس ملک میں کوئی اوقات نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں۔ لاریب کہ اس دھرتی پر تمہاری ہماری نسلیں ہی بے نام ونشان ہیں۔ سو اے میرے پیارے دوست اپنی اوقات کبھی بھی مت بھولنا۔ اللہ تعالی تمہیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

نیک خواہشات کے ساتھ
نعیم احمد ناز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •