جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریباً ایک مہینہ ہوا ہے کہ کراچی میں ایک پندرہ سالہ لڑکا، جس پر چوری کا الزام تھا، کچھ لوگوں نے جنگلے کے ساتھ باندھ کر مارڈالا۔ اس کی شرٹ پر لکھا ہو ا تھا، ”اپنا ٹائم بھی آے گا“۔ اس کا ٹائم کیا آنا تھا، وقت سے بہت پہلے اس کی موت کاٹائم آگیا۔ پورا ملک چیخ اٹھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ جوں جوں ملک میں لا قانونیت بڑھ رہی ہے، اس طرح کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے وجود میں آنے کے بعد ’موب جسٹس‘ یا ’عوامی انصاف‘ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ (اگر موب کا ترجمہ صحیح کیا جاے تو اسے بلوائیوں کا انصاف کہنا چاہیے۔ ) ِمیڈیا میں ا س طرح کے واقعات کو عوامی انصاف یا عوامی انتقام کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی، بلکہ ان کے اکسانے پر دوجوان بھائیوں کو مارنے کے بعد 1122 کے دفتر کے سامنے سرکاری نل کے ساتھ الٹا لٹکا دیا گیا تھا۔ میڈیا نے اس کو بھی عوامی انتقام کے نام پر بہت اچھالا۔ حالانکہ جوڈیشل انکواری میں ان بھائیوں پر ڈکیتی کا الزام ثابت نہ ہوسکا۔

بعد میں بہت شور مچا تو کچھ گرفتا ریاں ہوئیں۔ اب زیادہ تر لوگ بری ہو گئے اور دو چار تھوڑی تھوڑی سزا بھگت کر رہائی کے قریب ہیں۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ یو حنا آباد لاہور میں بم دھماکہ کے بعد عوام کے ہاتھوں قتل ہونے والا لڑکا عام شہری نکلا جو کہ ادھر خریداری کے لیے گیا تھا۔ کسی کو بھی سزا نہ ملی۔

ہمارے معاشرہ میں تحمل، صبر اور برداشت کا شدید فقدان ہے۔ لاقانونیت موجود ہے۔ لوگوں کا عدالتوں اور پولیس پر اعتماد مجروح ہو چکا ہے جس کا ایک مظہرغیرت کے نام پربہنوں، ماؤں اور بیویوں کا قتل ہے۔

زنا کے الزام اور عورتوں کو چھیڑ چھاڑ کے نام پر ہمارا رد عمل انتہائی سخت اور خوفناک ہوتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل پر ہمیں گواہ نہیں ملتے۔ پورا خاندان اور کسی حد تک معاشرہ بھی قاتل کا ہمدرد بن جاتا ہے۔

عزت کے نام پر انا پرستی کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ عوامی انصاف کو بھی یہی خیالات سہارا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عزت کا مطلب صرف ہماری اپنی عز ت اور انا ہے۔ مخالف کوہم قابل عزت گردانتے ہی نہیں۔ اس کی عزت نفس کی ہمیں پروا ہ ہی نہیں ہوتی۔ بے ادبی اور گستاخی ہمارے ہاں عام ہے۔ دوسروں کی عزت نفس کی پامالی ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کسی بھی واقعہ کو سمجھے اور سوچے بغیر ہم فوری رد عمل دے دیتے ہیں۔

اس کے باوجود ہمارے معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات عام ہیں۔ اس چھیڑ چھاڑ کو سعادت حسن منٹو نے اپنے مضمون ’کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی‘ میں ایک عورت کی زبانی بیان کیا ہے۔

”مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے متعلق ہمارا خیال یہ ہے کہ ایسی فضول اور نا زیبا حرکت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ اس قسم کی حرکت وہ لوگ کرتے ہیں جو اخلاق حمیدہ سے عاری ہوتے ہیں، جن کی آنکھوں میں شرم کا پانی نہیں ہوتا۔یہ ہماری آزادی میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب بنی ہوئی ہے۔ کوئی پکچر دیکھنے جاؤ و سب کی گردنیں ہماری طرف مڑ جائیں گی۔ اندھیرا ہوتا ہے تو اس بات کا دھڑکا رہتا ہے کہ اپنی ٹانگ کھجلانے کے بہانے ساتھ والے لالہ جی ہماری ٹانگ کھجلانا شروع کر دیں گے۔ شاپنگ کے لئے جائیں تو اور مصیبتیں سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ دکاندار ہی آنکھ سینک رہے ہیں اور اپنی حرص پوری کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی فقرہ بھی چست کردیتا ہے، ”کشمیر کے سیب ادھر بھی دیکھتے جائیے۔ انڈر وئیر کے نئے نئے ڈیزائین آے ہیں، ملاحظہ فر ماتے جائیے۔ ایک نظر ادھر بھی، بالکل نیا مال ہے۔ “۔ جی اکثر یہ چاہتا ہے کہ اپنی چھتری ان ملعونوں کے حلق میں گھونس دیں یا ہینڈ بیگ ان کے منہ پر دے ماریں۔ مگر بے کار کے فضیحتے سے ڈر لگتا ہے اس لئے مجبوراً خاموش رہنا پڑتا ہے۔ ”

موجودہ دور میں اس مجبوری کو زبان مل گئی اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ان مسائل کو اجا گر کرنا شروع کردیا۔

می ٹو تحریک کاآغازہوا۔ عورتوں کو بھی حوصلہ ملا اور انہوں نے بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ بہت سی ایسی خواتیں جن کو بازاروں، شاہراہوں اور کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان میں حوصلہ نہیں ہوتا تھا کہ شکائیت کریں،بول اٹھیں۔ پچھلے دنوں ملتان سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک عورت کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا رد عمل پورے ملک اور بیرون ملک سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے دیکھا۔

اس خاتوں کے کہنے کے مطابق شروع میں تو اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کی کمر کو چھو رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ڈسک کی خرابی کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا رہتا ہے اس لئے اس نے توجہ نہ دی۔ کچھ دیر کے بعد اس کے دوپٹے کو کھینچا گیا جس سے اس کو پتا چلا کہ کوئی اس سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔

اس کے بعد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ تھپڑ مارے گئے، بدزبانی ہوئی اور ویڈیو بھی بنا کے اپ لوڈ کر دی گئی۔ پورا میڈیامرد کی زیادتی کے خلاف چلا اٹھا۔ بس میں اور میڈیا میں، جو بھی آواز کہانی کے دووسرے رخ کے بارے میں اٹھی، شدت سے دبا دی گئی۔

اس کے بعد اہم سوال اٹھتے ہیں۔ اگر تو اس مرد کی زیادتی تھی تو کیا اس کو سزاغلطی کے عین مطابق ملی یا اب اس سے زیادتی ہو گئی ہے؟ اس کا جواب قانون دان زیادہ اچھے طریقے سے دے سکتے ہیں۔ اور دوسرا اس سے بھی اہم سوال ہے کہ اگر اس عورت کو دوپٹہ کھینچنے کے بارے میں بھی غلط فہمی ہوئی ہے، جس کا امکان موجود ہے کیونکہ اس کے اپنے کہنے کے مطابق اس کی کمر کی تکلیف کی وجہ سے اس طرح کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں، پھر اس مرد کی عزت تو خاک میں رل گئی۔

کیا اس معاملہ میں بھی ہم سب کہیں موب جسٹس کی طرف ہی تو نہیں چلے گئے؟ پوری قوم ہی اس مرد پر برسنا شروع ہو گئی ہے۔ اگرکوئی اور آواز آتی بھی ہے تو اسے بھی ویسی ہی پھٹکار سننا پڑتی ہے۔ کیا اس معاملہ میں بھی ہمارا رویہ جذباتی حدود کو پار تو نہیں کر رہا؟ سوال اٹھانے والا بھی زیر عتاب ہے۔ کیا یہ سب کچھ غیرت کے نام پرجائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

یاد رکھنے والی بات ہے کہ اکتوبر 1991 میں نواز شریف نے بحیثیت وزیر اعظم اعلان کیا تھا کہ جرائم کی روک تھام کے لئے سزائیں سرعام دی جائیں گی۔ چیف جسٹس محمد اٖفضل نے ازخود نوٹس لیتے ہوے اس پر عملدرآمد ایک عبوری حکم کے ذریعے روک دیا۔ 1994 میں کورٹ کے لارجر بنچ نے بھی کسی مجرم کو سر عام پھانسی دینا آئین کے آرٹیکل 14 (الف) سے متصادم قرار دیا تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت ہر انسان کی حرمت اور وقار کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کے انسانی وقار کے حق کو مانتا ہے، چاہے وہ کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے کسی سزا کی ویڈیو بنا نا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ اگر وہ آدمی مجرم بھی تھا تو کیا اس کی ویڈیوبنانا اور اپ لوڈ کرنا جائز تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •