مسٹر وزیر اعظم تقریر سے آگے کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی اقوام متحدہ کے چوہترویں اجلاس میں تقریر پر ملک میں خاص طور بہت زیادہ بحث ہورہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی یہ تقریر کئی لحاظ سے یادگار ہے۔ ایک تو یہ اس وقت ہوئی جب کشمیر میں بھارت کم و بیش دو ماہمیں کرفیو لگا کر کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررہا تھا، دوسری اس وقت جب عالمی طاقتیں اسلحے اور اپنی معیشت کے زور پر دیگر ملکوں خاص طور پر ایران کو دھمکیاں دے رہی تھیں۔ تیسرے اس وقت جب امریکہ کسی نہ کسی طرح افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کوشاں تھا۔

عمران خان کی تقریر کا لب لبا ب کچھ یوں ہے۔ ۔ کہ عالمی طاقتیں پاکستان میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مدد کریں آگے بڑھیں، امیر سیاستدان یاماضی کے سیاستدان منی لانڈرنگ کے ذریعے ملکی معیشت کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امیر ملک ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہماری مدد کریں۔ تیسرا دنیا اسلام فوبیا کا شکار ہوچکی ہے۔ اور اپنے رویوں سے مسلمانوں کو ایک کونے میں دھکیل رہی ہے۔

اور چوتھا کشمیر کا مسئلہ ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہے۔ حقوق انسانی کی پامالی سے لے کر کشمیر پر ناجائز قبضے تک سب بھارت کا اپنا کیا دھرا ہے۔ اس تقریر کو لے کر ملک بھر میں عمران خان ہی موضوع بحث ہیں۔ عمران خان کو چاہنے والے انہیں قائد اعظم ثانی کے رتبہ پر سرفراز کرچکے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ انہیں مفکر پاکستان اور مفکر اسلام بھی بنا ڈالیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ثانی کا لاحقہ اڑا کر انہیں قائد اعظم بنا ڈالیں۔

اگر کوئی ان سے اختلاف رکھنے یا اذرا سی اختلافی بات کرنے کی جسارت کرتے ہے تو یہ معرکہ حق و باطل بناڈالتے ہیں اور تذلیل کے لیے ہرحد پار کرجاتے ہیں۔ ان حالات میں عمرا ن خان کی تقریر کو تنقیدی طور پر دیکھنا اپنے آپکو بلاوں کے آگے ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ بھی ریڈیکلائزیشن کی ایک قسم ہے۔ عمران کو اس پر سوچنا چاہیے۔ خود اسے پیرو کار اس کے خلاف بات کرنے کو غداری کے مترداف کہتے ہیں اور دشنام طرازی سے باز نہیں آتے۔

مجھ نا چیز کو سیاسیات کا ادنیٰ سے طالب علم ہوتے ہوئے بظاہر تو اس تقریر میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہاں عمل کرنا ایک الگ بات ہے۔ یہ عمران خان کی ان تقریروں سے ملتی جلتی ہے جو وہ الیکشن دوہزار اٹھارہ سے پہلے کیا کرتے تھے، وہ تقریریں نہیں جو انہوں نے کنٹینر پر کی تھیں۔ ماضی میں، ایسے مطالبات ترقی پذیر ممالک کئی اور رہنما عالمی فورم پر عالمی طاقتوں سے کرچکے ہیں۔ طاقت ور ملک ان پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔

وجہ ان کی اپنے اپنے بلاک ہیں اور ہر ملک اپنے اپنے مفاد سے جڑا ہے۔ تاہم مجھے بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی یاد آتی ہے جو کہتے تھے کہ ان طاقت ور ممالک کی ذمہ دا ر ی ہے کہ وہ ترقی کے ثمرات ترقی پذیر ممالک تک بھی پہنچائیں اور دنیا کو برابری کی سطح پر لانے میں کردار ادا کریں۔ اب یہ ذمہ داری من موہن سنگھ کے اپنے ملک پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی معاشی اور عسکری طاقت کا استعمال اس طریقے سے کریں کہ ان کے اپنے ملک میں آبادی مین نسبتاً کم قومیتوں کا استحصال نہ ہو۔ جہاں تک کشمیر کی بات ہے وہ بھارت کا ہے ہی نہیں۔ یہ اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کی کئی قراردادیں موجودہیں۔ کشمیریوں کے خلاف فوج کا استعمال، کرفیو، ان کے حقوق سے محرومی، یہ سب بربریت کی مثالیں ہیں۔ جلد یا بدیر بھارت کومکافات عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ قانون قدرت ہے۔

ترقی یافتہ ممالک سے امید رکھنا مجھے وہ میر تقی میر کا وہ شعر یاد آجاتا ہے۔
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جو پاکستان جیسے ملک کو جھیلنا پڑرہے ہیں وہ اصل میں ان صنعتی ممالک کی وجہ سے ہیں جو فضا میں ایسی گیسوں کے اخراج کا موجب ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہیں۔ ہمیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سر دست تو یہ ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنا ہوگا۔ عمران خان اگر کچھ کرسکتے ہیں تو وطن واپسی پر یہ کام کرڈالیں۔ عمران خان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ چنیدہ انصاف کو سپورٹ کرتے ہیں۔

احتساب ہو پچھلے دس سالوں کا۔ یہاں مالی کرپشن کی وہ رٹ لگاتے ہیں مگر بدعنوانی کے ان پہلووں کو نظر انداز کرجاتے ہیں جن میں اختیارات کا ناجائز استعمال، اقربا پروی، آئین شکنی وغیرہ شامل ہیں۔ پھر عمران کی اپنی صفوں میں وہی صورتیں ہیں جو گزشتہ دس سالوں میں اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہیں۔ جو بھی بدعنوان ہے وہ ملک دشمن ہے چاہے وہ آئین شکن ہے یا قانون شکن ”اب انصاف کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ کوئی مقدس گائے نہیں۔ اگر عوامی نمائندے پکڑے جاسکتے ہیں تو اور باقی کیوں نہیں۔

جیسے اوپر ذکر کیا ہے ہم آلودگی پھیلانے والے اور ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نقصانات کا باعث بننے والی صنعتوں کا بائیکاٹ بھی کرسکتے ہیں۔ یہ معاشی ہتھیار ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی ہم استعمال کرنے کے قابل نہیں۔ ہمیں اپنے آپکو قابل بنانا ہوگا۔

صنعتی فضلہ خطرناک گیسو ں کی صورت میں فضا میں پھینکنے والے ان ممالک کی مصنوعات کے استعمال کو کم کرکے ہم اپنا کردا ر ادا کرسکتے ہیں اور اس طریقے سے انہیں ذمہ دار بننے پر مجبور بھی کرسکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ۔ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ جب تک دنیا کو معاشی طریقوں سے جواب نہیں دیا جاتا یہ مسئلہ یو ں ہی چلتا رہے گا۔ اسی طرح اسلامو فوبیا کی جو بات کی عمران خان نے وہ بہت حد تک سچ ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میں ہم نے ایسے نظریات کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔

سنہ اسی کی دہائی میں افغان جہاد کے لیے جب مجاہدین کی ضرورت پڑی تو عام لوگوں کو جہاد کی طرف مائل کرنے کے لیے اسلام کے اندر سے ہی ایسی تاویلیں نکالی گئیں تھیں جن سے لوگوں کو لڑنے مرنے پر تیار کرنا تھا۔ حالانکہ اس وقت کئی دانشوروں نے اس عمل کو آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ پہلے ہمارے اداروں نے مجاہدین پیدا کیے پھر ان کو ختم کرنے کے لیے جنگیں لڑیں جو اب تک جارہی ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ؟ ہمیں اپنے اند ر بھی جھانکنا ہوگا۔ مذہبی رواداری کی مثالیں پچھلی پانچ چھ دہائیوں میں اتنی نہیں ملتیں جتنے واقعات مذہبی عدم برداشت کے ہوچکے ہیں اسلامی دنیا میں۔

دوہزار ستر ہمیں جس طرح سے اسلام کے نام پر پورے ملک میں جلاؤ گھیراؤ ہوا کیا عمران خان نے اس کی مذمت کی تھی۔ خان صاحب کو اپنا دامن بھی صاف کرنا ہوگا۔ اور اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا ہوگا۔ جب اسلام آباد کو سیل کیا جارہا تھا خان صاحب اور اس کی پارٹی بغلیں بجارہے تھے یہاں تک کہ کچھ حواری مظاہرین کی مدد کررہے تھے۔ یہ پالیسی تو اس وقت بدلی جب عمران کی اپنی حکومت بن چکی تھی۔

کشمیر ایک سلگتا مسئلہ ہے ”وہاں انسانیت کا قتل عام ہورہا ہے اور بھارت بدمعاشی کررہا ہے۔ مشرف اور ایسے کئی قدآور ماضی میں کشمیر کے اندر عسکریت پسندی کو ہوا دینے کا اعتراف کرچکے ہیں۔ ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے خان صاحب کو زیادہ با اختیار ہونا چاہیے تھا۔ مگر افسوس کہ وہ جذباتیت کی باتیں کرتے رہے۔ یقینا انہیں معلوم تھا کہ کیسے اپنے پیروکاروں کو مزید پکا کرنا ہے۔ ۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کشمیر پر سیاسی حل نکالنا ہے یا فوجی حل ؟ بار بار ایٹمی جنگ کی دھمکیوں سے بہتر تھا کہ ہم بھارت سے معاشی تعلقات استوار کرتے۔

مگر کیا کرتے اس کے لیے ہمیں سیاسی قیادت کو طاقتوربنتے نہیں دیکھنا۔ اگر ستر سالوں میں کشمیر میں وہ تحریک پیدا نہیں ہوئی جو نو لاکھ بھارتی فوج کو باہر نکا ل سکے تو یقینا اس مسئلے کا حل اور طریقے سے نکالنا ہوگا، کیوں نہ بھارت کے ساتھ تجارتی روابط قائم کیے جائیں۔ نواز شریف کی پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ بھارت کے مفادات پاکستان میں ہوں گے تو پاکستان کی بات مانے گا۔ ایک دوسرے کو راستہ دینے سے بات بنے گی۔

تجارتی روابط قائم ہونے سے دونوں ملک معاشی بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ عمران خان کے حامیوں کو اپنی یادداشتوں پر زور دینا ہوگا کہ تقریر بہتر ہے یا سفارتی محاز پر کامیابی۔ عمران نے اعتراف تو کیا کہ دنیا نے ساتھ نہیں دیا۔ ۔ کیوں نہیں ساتھ دیا اس طرف بھی سوچنا ہوگا۔ ورنہ مستقبل میں بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جیسے انیس ستمبر کو ہوا۔

پاکستان کو انیس ستمبر کو اقوام متحدہ کی ہیومن راءٹس کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنا تھی وہ اس لیے نہیں کرسکا کہ سولہ ممالک کی حمایت نہیں ملی۔ ۔ خارجہ محاذ پر ہم پٹ گئے مگر تقریر بہت اچھی تھی۔ جب کہ گیارہ ستمبر کو وزیرخارجہ نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اٹھاون ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اور عمران نے اس کی تائید بھی کی تھی۔ عمران خان کی تقریر اچھی ہے کیا ضیا نے اسی اسمبلی میں تقریر نہیں کی تھی۔ کیا بے نظیر بھٹو نے بھارت کی چیرہ دستیوں کا پردہ چاک نہیں کیا تھا اور کیا نواز شریف نے دوہزارسولہ کو برہان وانی کو خراج تحسین پیش نہیں کیا تھا۔ ۔ آگے کرنا کیا ہے ؟

سیاسی و معاشی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے شور نہ مچایا جائے۔ ۔ کشمیر کا مسئلہ صرف گرجنے سے نہیں حل ہوگا بلکہ برسنے سے حل ہوگا۔ معاشی بہتری پر توجہ دی جائے۔ ایف بی آر کی رپورٹ ہے کہ اس کوارٹر میں بھی ریوینیو کے شارٹ فال میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے، ان حامیوں کے لیے بھی سوچنے او ر شرمندہ ہونے کا مقام ہے جو ابھی قائداعظم ثانی بنانے میں مصروف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رضا کھرل کی دیگر تحریریں
رضا کھرل کی دیگر تحریریں