قانون جانو، حق لو: ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کا قانون


\"tahir-chaudhry\"خواتین ہماری آبادی کا تقریباً آدھا (49 فیصد) حصہ ہیں۔ ماضی کے برعکس ملکی آبادی کا یہ آدھا حصہ بھی اب ملک کی ترقی میں اُسی طرح کردار ادا کر رہا ہے جس طرح باقی آدھا حصہ (مرد) مختلف ملازمتیں اور کام کر رہا ہے۔ لڑکیاں ہر سال امتحانات میں شاندار نتائج دے رہی ہیں تو خواتین دفاتر میں، بینکوں میں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں میں، فوج میں، یہاں تک کہ کمانڈو اور پائلٹ بن کر اپنے اوپر لگا کمزور ہونے کا لیبل اتار پھینک رہی ہیں۔ ہمت اور حوصلے کے داستانیں رقم کرتی یہ خواتین مردوں کے معاشرے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔

خواتین کی ملازمت کے حوالے سے صورتحال پہلے سے بہتر تو ہے لیکن ابھی بھی انہیں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ملازمت کی جگہ پر خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک انہیں ہراساں کرنا، عجیب و غریب نفسیاتی رویوں اور ذہنی بیماروں کے طنز و تشنیع کا سامنا ہے۔

ملازمت کی جگہوں پر خواتین کے استحصال اور انہیں منفی رویوں سے بچانے کیلئے حکومت پنجاب نے جو ایک مستحسن اقدام کیا وہ ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کا ترمیمی ایکٹ 2012 کا نفاذ تھا۔ اس ایکٹ میں یہ کہا گیا کہ دوران ملازمت خواتین کو تنگ کرنا، آوازیں کسنا، غیر اخلاقی حرکتیں کرنا، زبردستی تعلق رکھنے پر مجبور کرنا، انکار کی صورت میں سنگین دھمکیاں دینا اور دفتری مراعات کو ذاتی تعلق سے منسوب کرنا خواتین کو جنسی بنیاد پر ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔

اسی ایکٹ کے تحت صوبے بھر کے ہر سرکاری محکمے، نجی ادارے، ہسپتال، یونیورسٹی اور فیکٹری میں انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا کہا گیا۔ ادارے کا سربراہ اس انکوائری کمیٹی کے اوپر ایک اتھارٹی مقرر کرے گا اور خواتین کے تحفظ کیلئے ایک ضابطہ اخلاق بنا کر اسے انگریزی اور اردو زبان میں ادارے میں کسی نمایاں جگہ پر آویزاں کروائے گا۔ اگر آپ کے ادارے میں مندرجہ بالا تین احکامات میں سے کسی پر عمل نہیں ہوتا تو آپ اس سے متعلق تحریری شکایت خاتون محتسب پنجاب کو ایکٹ کی دفعہ 11 کے تحت بھجواتے ہیں، ان ہدایات کی خلاف ورزی پر ادارے کے سربراہ کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ خواتین ملازمت کی جگہ پر ہراساں کرنے کیخلاف درخواستیں براہ راست خاتون محتسب پنجاب کے دفتر بھی بھجوا سکتی ہیں، جس پر ایکشن لیا جاتا ہے اور آپ کی داد رسی کی جاتی ہے۔

خاتون محتسب پنجاب کے دفتر میں درخواست دینے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک سادہ کاغذ پر اپنی شکایت، مسئلہ لکھیں، شناختی کارڈ کی کاپی اور ایک سٹامپ پیپر ساتھ لگائیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ آپ نے درخواست میں جو کچھ لکھا، درست لکھا، جھوٹ نہیں ہے اور اسے خاتون محتسب پنجاب کے دفتر میں بھجوا دیں۔ خاتون محتسب پنجاب کے دفتر میں درخواست دینے کے کوئی پیسے نہیں لگتے اور نہ ہی وہاں آپ کا کیس لڑنے کیلئے وکیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ ایک وکیل کی طرح اپنا کیس خود لڑ سکتی ہیں۔ یہ درخواست بذات خود، ای میل یا خط کی صورت میں بھی بھیجی جا سکتی ہے۔ اس درخواست کی وصولی کی آپ کو اطلاع دی جاتی ہے، اسکا نمبر بتایا جاتا ہے اور اس پر کیا کارروائی کی گئی اسکے بارے میں بھی اطلاع دی جاتی ہے۔

قانون کے بارے میں مزید جاننا ہو تو کمنٹس میں سوال کیجیے، فارغ وقت ملتے ہی جواب دے دیا جائے گا۔

طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

Facebook Comments HS