ماں کا دکھ اور کتے کے کاٹے سے موت!


حسنین میں دو راتوں سے نہیں سویا، یقین کرو میں جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں میرے سامنے اس بچے کی شکل آ جاتی ہے یار۔ گول مٹول، \"husnainایسا پیارا سا بچہ، دس سال کی عمر تھی۔ مجھے ابھی چار پانچ دن پہلے اس کے ماموں کا فون آیا۔ وہ  علامات بتاتے جا رہے تھے اور مجھے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے۔ اس بچے کو پانی پینے میں شدید مشکل ہو رہی تھی، پانی کو دیکھ کر بھی اس پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی تھی۔ وہ بار بار شدید بے چینی محسوس کرتا، ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتا پھر کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہو جاتا۔ وہ لوگ اسے سنبھال ہی نہیں پا رہے تھے۔ یار مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انہیں کیسے کہہ دوں کہ ہاں، یہ بیماری وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ آخر بہت کشمکش کے بات میں نے انہیں بتا دیا اور کہا کہ اسے فوری طور پر شہر کے ہسپتال لانے کا بندوبست کیجیے۔
ماں باپ جب اسے لے کر ہسپتال آئے ہیں تو میں بیان نہیں کر سکتا کس قدر اذیت ناک منظر تھا۔ گاڑی کے چاروں دروازے بند کیے ہوئے تھے اور بچے پر چادر ڈالی ہوئی تھی۔ وہ بار بار کوشش کرتا کہ چادر ہٹا دے، ہاتھ پاؤں مارتا، گاڑی کے شیشوں پر دیوانگی سے مکے مارتا، اس کی ماں بے چاری روتی تھی، چیختی تھی لیکن اس کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔ سب لوگ گاڑی سے دور کھڑے ہوئے تھے۔ اندر سے وارڈ بوائے سٹریچر لے کر آئے، گاڑی کا دروازہ کھولا، اس دس سال کے بچے کو سنبھالنا ایک تکلیف دہ منظر تھا۔ تین چار لوگوں نے اسے قابو کر کے سٹریچر پر لٹایا، اب وہ لے جانے لگے ہیں تو ماں نہیں لے جانے دیتی۔ اسے معلوم تھا حسنین کہ ریبیز موت ہے۔ وہ کہتی تم لوگ میرے بچے کو مارنے لے کر جا رہے ہو، وہ اسٹریچر کے آگے آ جاتی، خدا جانتا ہے کتنا دردناک منظر تھا۔ اسے اندر لے کر گئے۔ بالکل علیحدہ سے ایک کمرہ اس کے لیے تیار کیا گیا تھا، وہاں اس کو لٹا دیا۔ وہ بے ہوش تھا۔ ہوش میں آیا تو ممی ممی پکارنے لگا۔ ماں پاس گئی، کچھ باتیں اس بچے نے مجھ سے کیں۔ تھوڑی دیر بعد کہنے لگا کہ مجھے جوس اور چپس کھانے ہیں۔ میں دوڑ کر کینٹین سے لے آیا۔ جب اس کے ہاتھ میں جوس دیا تو وہ بے تابی سے پینا چاہتا تھا لیکن پی نہیں پا رہا تھا۔ اسے بار بار جھٹکے لگتے، پینا چاہتا لیکن حلق بند ہو جاتا، وہ چپس وہ جوس ویسے ہی پڑے رہے۔ وہ پھر بے ہوش ہو گیا۔
وہ اٹھتا، پانی مانگتا، ماں بے چاری کس دل سے پانی دیتی ہو گی، وہ نہیں پی سکتا، بے ہوش ہو جائے گا، اسے معلوم ہے، لیکن پھر بھی ہر بار ماں اس کے منہ میں پانی ٹپکانے کی کوشش کرتی، اس کا منہ بند ہو جاتا، منہ سے بہہ جاتا سارا پانی۔ بچہ پھر جھٹکے کھاتا، عجیب و غریب آوازیں نکالتا، بے ہوش ہو جاتا۔ بعد میں اس پر پاگل پن کے دورے بھی پڑنے لگے۔ پاس موجود لوگوں کو کاٹنے کی کوشش کرتا۔ ماں باپ کھڑے رو رہے ہیں، دھاڑیں مارتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
ڈاکٹروں کا بورڈ بیٹھا، ہر ممکن کوشش کی، اس کے ماں باپ کو بہت بار بٹھا کر سمجھایا، ان کی کاؤنسلنگ کی، لیکن ہر بار جب ہم لوگ وہاں سے اٹھتے تو ہماری آنکھوں میں آنسو ہوتے تھے۔ آپ کیسے ایک ماں کو بتا سکتے ہیں کہ تمہارا بیٹا بس ایک آدھ دن میں مر جائے گا، اور اسی تکلیف میں مرے گا۔ ہسپتال کی ایم ایس نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ بیٹا، تم مجھے کتنے عرصے سے جانتے ہو، کس لیے یہ بچہ تم نے یہاں داخل کروایا۔ تمہیں معلوم تھا ہم کیا اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ دکھ مجھے ساری زندگی رہے گا کہ میں اس بچے کے لیے کچھ نہیں کر سکی۔
ابھی تین مہینے پہلے وہ بچہ کھیلتا کودتا ادھر سے ادھر دوڑتا پھرتا تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ وہ دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر کھیل رہا تھا کہ ایک پاگل کتے نے اسے کاٹ لیا۔ اس کتے نے تیس چالیس مزید لوگوں کو بھی اسی دن کاٹا تھا۔ ماں باپ اسے ہسپتال لے گئے، وہاں کتے کاٹے کی ویکسین نہیں تھی، بازار سے خرید کر لگوا دی۔ ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کر دی۔ وہ لوگ گھر آ گئے۔ بے فکر تھے کہ علاج ہو گیا۔ ایک ہفتے پہلے اسے بخار ہوا، دو دن میں یہ سب علامتیں ظاہر ہوئیں اور باقی سب میں تمہیں بتا چکا۔ کل شام فون آیا کہ وہ بچہ مر گیا۔ یار یقین کرو ان دو راتوں میں پھوٹ پھوٹ کر رویا ہوں میں۔ تم مجھے جانتے ہو، بڑی بڑی میڈیکل ایمرجینسیز دیکھی ہیں، لیکن یار میں ٹوٹ گیا اس پھول سے بچے کو دیکھ کر، اس کی ماں کو تڑپتا دیکھ کر، بہت تکلیف ہے یار، کس سے کہتا، اب تمہارا فون آیا تو بتا رہا ہوں۔
یار، یہ میری زندگی کا پانچواں یا چھٹا ایسا کیس تھا۔ بڑی عمر کے ریبیز والے مریض پھر بھی کچھ ضبط کر جاتے تھے۔ انہیں دیکھ کر بھی تکلیف ہوتی تھی لیکن یہ تو چھوٹا سا بچہ تھا یار، پھر یہ بار بار گھٹنوں کے بل چلنے کی کوشش کرتا، کاٹنے کو دوڑتا، یہ سب میں کبھی نہیں بھول سکتا حسنین۔
جانتے ہو غلطی کہاں ہوئی۔ اسے ریبیز امیونوگلوبیولین RIG نہیں لگایا گیا۔ یہ ضروری ہوتا ہے۔ ہم لوگوں نے کتنا کام کیا تھا یار، کہاں کہاں جا کر معلوماتی پروگرام نہیں کیے، جو کر سکتے تھے کیا، چھوٹے سے چھوٹے ہسپتال گئے، تم بھی ساتھ ہوتے تھے یار، باقاعدہ سچے جذبے کے ساتھ ریبیز کی معلومات ڈاکٹروں اور عام لوگوں تک پھیلائیں، پھر بھی ہم کچھ نہیں کر سکے۔ اسے ویکسین لگ گئی لیکن جب تک ویکسین اپنا کام شروع کرتی، وائرس اس کے دماغ تک پہنچ چکا تھا، وائرس کو روکنے کے لیے فوری طور پر ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگانا ضروری تھا، یہ اکثر نسخوں میں نہیں لکھا جاتا۔ کچھ بھی کرو یار، لکھ ہی دو کم از کم، لوگوں تک یہ بات پہنچ جائے کہ کتا اگر کاٹ لے تو اسے ہلکا مت لیں، ہرگز اگنور نہ کریں۔
شہباز سے آج صبح بات ہوئی اور اب تک فقیر آنکھیں نہیں بند کر پا رہا۔ سونے سے پہلے یہ معاملہ پورا ہو جائے تو بہتر ہے۔
ریبیز موت ہے!
کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!
ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسینز مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، بہرحال اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔
اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔
اگر کتا آپ کے یہاں پالتو ہے، یا آپ جانوروں کے ڈاکٹر ہیں، یا آپ فوج میں ہیں، یا دیہی علاقے کی پولیس میں ہیں، یا کسی بھی ایسی جگہ ہیں جہاں دوران ملازمت آپ کھلے میدانوں کا رخ کر سکتے ہیں، یا کتوں والے کسی بھی علاقے میں جانا پڑ سکتا ہے تو آپ ریبیز سے بچاؤ کا حفاظتی کورس بھی کر سکتے ہیں۔ سیل کلچرڈ کوئی بھی ویکسین اس شیڈول سے لگوائی جا سکتی ہے: پہلا دن، تیسرا دن، ساتواں دن۔ اس کے بعد اگر کتا کاٹ جائے تو بھی آپ کو ویکسین دوبارہ لگوانی ہو گی لیکن ایک تو یہ کہ صرف دو ٹیکے لگوانے پڑیں گے اور دوسرا یہ کہ آپ میں ریبیز کے خلاف مدافعت پہلے سے موجود ہو گی۔
ریبیز سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آج تک پانچ سے زیادہ لوگ بچ نہیں سکے۔ وہ بھی دس بارہ سال پہلے ایک تجربہ شروع کیا گیا تھا جس میں مریضوں کو مصنوعی طریقے سے کئی ماہ تک بے ہوش رکھا گیا، انہیں مختلف دوائیں دی گئیں اور آہستہ آہستہ جب وائرس ختم ہو گیا تب ہوش میں لایا گیا۔ لیکن یہ طریقہ بھی کئی سو میں سے صرف پانچ لوگ بچا سکا۔ ان پانچ کے بارے میں بھی ڈاکٹر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں والدین سے ریبیز کے خلاف قوت مدافعت آئی ہو گی۔
بلی، گائے، بھینس، گھوڑا، گدھا، چمگادڑ، ہر وہ جانور جو دودھ پلانے والا ہے، وہ ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاگل کتا جب انہیں کاٹتا ہے تو وہ اپنے جراثیم ان میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہی جراثیم انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں اگر یہ جانور کاٹ لیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔
صرف شہر کراچی میں ہر سال تیس ہزار کتے کاٹے کے مریض مختلف ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ اندازہ کر لیجے باقی ملک میں کیا صورت حال ہو گی۔ پالتو کتوں کی ویکسینیشن بھی اس سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
شہباز، میرے دوست، کاش کہ اب کوئی بدترین دشمن بھی اس بیماری کا شکار نہ ہو۔ فقیر کا فرض اور قلم کا قرض ادا ہوا!
Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain