عقیدہ، کہانی اور سلطنت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Amjadکہانی میں معانی کہاں سے آتے ہیں؟ اس میں رنگ اور تاثیر کون بھرتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے- مگر اس سے منسلک ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ کون سی کہانی یا پھر کس کی کہانی؟ غلام عباس یا کرشن چندر یا پھر منٹو اور بیدی کی کہانیاں؟ فسانہ آزاد اور الف لیلہ کی داستانیں یا کلیلہ و دِمنہ یا سعدی و روُمی کی حکایات؟ یا پھر سـسی پنوں اور شیریں فرہاد کی لوک کہانیاں؟ اگر معاملہ یہاں تک ہے تو افسانوی کہانیوں میں معانی اور تاثر کہانی کار ہی بھرتا ہے بلکہ کہانیوں میں کہانی معاشرے کے وہ کردار بھرتے ہیں جس ک تجربہ اور مشاہدہ کہانی کار کو ہوتا ہے۔ الف و لیلہ اور دوسری داستانوی کہانیوں میں معانی صدیاں اور زمانے بھرتے ہیں کیونکہ کسی بھی کہانی میں کہانی کی سچائی سے زیادہ اُن حقیقتوں کا بیان مقصود ہوتا ہے جو انسانی زندگی کا استعارا ہیں۔ اِسی طرح رومانوی لوک کہانیوں میں شاعر، کلا کار اور داستان گو بہت سے حالات و واقعات بلکہ معنویت تخلیق کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِن کہانیوں کے بیان کنندہ بہت سے ہوتے ہیں لیکن کہانی کار شاید کوئی بھی نہیں ہوتا۔

مگر ایک مہا سوال اب بھی باقی ہے۔ وہ یہ کہ کہانیوں کی کہانی اور داستانوں کی داستان جس میں دنیا کے بہت سے معاشرے اپنے شب و روز بسر کرتے ہیں، جس میں کروڑوں لوگ جیتے اور مرتے ہیں اور شاید جس کے لیے اور جس پر جیتے اور مرتے ہیں۔ جِسے لوگ اَمر بتاتے اور لا فانی کہتے ہیں اور جسے اَن گنت لوگ لکھتے اور سناتے رہے ہیں اور لکھتے اور سناتے رہیں گے۔ ایسی کہانیوں کی کہانی اور ایسی داستانوں کی داستان میں معانی اور لا فانیت کہاں سے آتی ہے! انسانی کمزوریوں سے؟ معجزہِء بیان و اظہار سے؟ پُر اسرار منبعِ حیات و کائنات سے؟ یا پھر ایسی نِسبت اور ایسے مقام و مرتبے سے جسے پر ہم بہت کم غور کرتے ہیں! دوسرے لفظوں میں اگر کہانی کے پیچھے کہانی کار ہوتا ہے تو کہانی کار کے پیچھے کون سی قوت، کون سی تحریک کارفرما ہوتی ہے؟ اور یہ کہانی مذاہب اور عقائد کی کہانی ہے۔

ویسے تو 800 سے 200 قبل مسیح میں ویدانت کے سمبندھ سے ہندوُ دھرم کا رسمی آغاز کچھ بنیدی عقائد کی مرکزیت سے ہوگیا تھا۔ بلکہ ہندومت، جین مت اور بدھ مت کا نظریاتی جنم بھی اسی دور میں ہو چکا تھا۔ لیکن ان تینوں مذاہب کے پھیلاؤ اور تمکنت میں سلطنت کی شان و شوکت اور جاہ و حشمت نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ سلطان، سلطنت پر براجمان ہونے کے بعد، کوئی عقیدہ قبول کر لے یا عقیدہ قبول کرنے کے بعد کوئی خطہ کوئی ملک ہتھیالے۔ تو بہت سے لوگ سلطان کی نظرِعنایت اور اِلتفات کے لیے بھی اُس دین کا کلمہ بھرنے لگتے ہیں۔ 620 سے 350 قبل مسیح ہندو دھرم کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ دھرم کے اندر کوئی انقلابی نظریات کی قلمکاری ہوئی بلکہ بادشاہ چندر گپت موریہ نے )عملی اور علامتی انداز میں ہند (304-232 ق م) ہندو دھرم کے فروغ میں بے پناہ اضافہ کیا۔ قنوج میں پُرانوں اور ویدانتی تنظیم کے بعد موریہ نے گجرات، بنگال اور اڑیسہ تک پنڈتوں کے دَل کے دَل روانہ کیے تاکہ قنوج کے ماڈل پر۔ جس میں ذات پات کا نظام مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ جنوبی ہندوستان تک معاشرے کی تنظیمِ نو کی جا سکے۔ اِسی دور میں ہندو مت کا پیغام جاوّا، سیّام اور برما تک پھیلایا گیا۔

جین روایات کے مطابق اپنی عمر کے آخرے عشرے میں چندر گپت موریہ جین مت سے بہت متاثر ہوا اور نتیجتاً جین مت کا اثرو رسوخ بھی ہندوستان کے مرکزی اور جنوب مشرقی حصوں میں بڑھ گیا۔

کہتے ہیں کہ اشوک راجہ (دورِ حکمرانی 268 تا 232 قبل مسیح) نے کلِنگا کی خونخوار جنگ کے بعد پچھتاوے اور مداوے میں بدھ مت قبول کر لیا۔ اشوک کا یہ بھی خیال تھا کہ بدھ مت ہندوستان کے سیاسی اتحاد کے لیے ثقافتی بنیادیں فراہم کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے بدھ مت کو برِصغیر کے طول وعرض میں فروغ و شرف بخشا۔ اشوک نے ہی گوتم بدھ کی حیات و پیغام پر مبنی کہانی مورتیوں کے ذریعے ہندوستان کے چپے چپے تک پہنچائی۔ دوسرے لفظوں میں یہ اشوک کا شخصی مت، باوجود کچھ تاریخی اور تحقیقی اختلافات کے۔ بدھ مت کے طور پر پھلا پھولا۔ مگر بدھ مت پر اشوک کے اثرہ رسوخ کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کی دخترو فرزند نے بدھ مت کا دائرہ کار سری لنکا، کشمیر، افغانستان مشرقی اور وسط ایشیاء تک بڑھا دیا اور اِسی خاندان نے ہی بدھ مت کے مقدس صحیفے مُرتب کیے اور ٹیکسلا کو مرکزِ علم و دانش بنا ڈالا۔

اسی طرح چین میں بدھ مت کا آغاز اُس وقت ہوا جب دوسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ \”ووُتائی\” نے گوتم کے ایک سنہری مجسمے کی عبادت شروع کی۔ لیکن چین میں بدھ مت کا باقاعدہ آغاز پہلی صدی بعد مسیح میں ہوا جب شہنشاہ \”مِنگ تی\” گوتم کا ہیولا خواب میں دیکھ کر دِل گرفتہ ہوا اور طائفے ہندوستان بھیج کر بہت سے راہب مدعو کیے اور مقدس کُتب منگوائیں۔ اور پھر اپنی سلطنت میں بدھ مت کا شاہی پرچار کروایا۔ بعد میں شاہی خاندان \”شمالی وی\” کی بدولت چوتھی سے چھٹی صدی قبل مسیح میں بدھ مت، جغرافیائی وسعت کے ساتھ ساتھ چین میں ہر سمت پھیل گیا۔

یسُوع مسیح کی عزت و تکریم ڈھائی تین سو سال تک فقط چند غلاموں اور مزدوروں کے ضمیر تک ہی محدود رہی جنہیں یہودی مختلف عقائد کی وجہ سے رومن شہنشاہ طرح طرح کی اذیتیں دیا کرتے تھے۔ چوتھی صدی کے آغاز میں کانسٹینٹائن کے مسیحیت قبول کرتے ہی گویا اِس مذہب کا ستارہ اِمتیاز چمک اُٹھا۔ اُس کے مشرف بہ مسیحیت ہونے کو بھی کسی خواب یا سریاتی اشارے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اور جب اُسے اِسی شناخت کے ساتھ اپنے مخالفین سے جنگ میں فتح یابی ہوئی تو اُس نے مسیحیت کی اشاعت عام کر دی۔ اور پھر دیوی دیوتاؤں پر قائم سابقہ عقائد کمزور پڑنے لگے۔ آنے والے ایک آدھ کو چھوڑ کر تمام رومن شہنشاہوں نے مسیحیٗت کی آبیاری کر کے اِس کی مضبوط داغ بیل ڈالی۔ آٹھویں صدی تک جب یہ سلسلہ \”کارولِنگیّن\” خانوادے تک پہنچا۔ جس میں شارلمین جیسا معرُوف و مستحکم شہنشاہ بھی شامل تھا۔ تو یکے بعد دیگرے کئی ایک بادشاہوں نے مسیحیّت کا پیغام مشرقی اور مغربی یورپ تک پھیلا دیا۔

بہر حال یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کس مذہبی پیغام میں کتنی صداقت اور طاقت ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ دنیا کے اکثر بڑے مذاہب، طاقت اور سلطنت کے سمبندھ سے ہی مقبول و معروف ہوے۔ یعنی مذاہب کو اپنے پیغام کی حقانیت اور روحانّیت سے نہیں بلکہ سلطنت کی وسعت پذیری اور قوت و جبروت سے شُہرت اور پیروکاریت موصول ہوئی۔ جب کسی عقیدے کے پیچھے دیو قامت درباریت، شاہی ادارے اور انعام و اکرام ایستادہ ہوں تو عظیمُ المرتبت کہانیوں اور داستانوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ہزار ہا سال تک جاری رہتا ہے۔ اور پھر وہ مذاہب نہ صرف تنو مند اور ناقابلِ تنقید ادارے بن جاتے ہیں بلکہ بذاتِ خود ایک نظریاتی سلطنت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کے بیسیوں ایسے مذاہب یا تو مَر کھپ گئے یا پھر انتہائی محدود ہو گئے جن کو ریاست اور سلطنت کی طاقت میسر نہ آ سکی یا پھر شہنشاہوں نے اپنے عقیدے سے منفرد کسی دوسرے عقیدے کو اپنے آغاز میں ہی تاخت و تاراج کر ڈالا۔ یہ سلسلہ زمانۂ قدیم سے آج دن تک جاری ہے۔

مثال کے طور پر ریاستی طاقت سے محروم مجوسیت (زردشتیت)، بہائیت، سکھ مت، کیلاشیت، شمنزم اور اِن جیسے کئی چھوٹے چھوٹے مذاہب سسک سسک کر جی رہے ہیں۔ اور کئی ایک قدیم، جیسا کہ میسوپوٹیمین، یُونانی، افریقی، چینی، جاپانی، شرق ایشیائی مذاہب، رسومات اور عقائد، صدیوں پہلے سلطنتی طاقتوں کے تعصب اور ظلم و استہزاء سے گمنامی کی موت سو چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *