عمران خان کی تقریر اور ہمارے خارجہ امور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق حالیہ اقدامات کو عالمی دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریباً 50 منٹ تقریر کی۔ ”وزیر اعظم عمران خان کا تاریخی خطاب“ دنیا کا ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ عمران خان کی تقریر کو پاکستان کی طرف سے عالمی برادری کو کشمیر پر ایک واضح موقف قرار دیا ہے۔

عمران خان کے مداح کہتے ہیں کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور مسلسل محاصرے اور ذرائع مواصلات کی بندش کے باعث کشمیر یوں کو درپیش مصائب و مشکلات کو بھر پور اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ کچھ عمران خان کے چاہنے والے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کو ایک مسلم عالمی رہنما کی تقریر قرار دے رہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا میں عمران خان کو مسلمانوں کا لیڈر قرار دے رہے ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں اسلام کا مقدمہ پیش کیا۔

اوراسلامو فوبیا پر بھی بات کرنے کی ہمت کی جو کہ اس سے قبل کسی مسلم رہنما نے نہیں کی۔ لیکن جہاں اس تقریر کو سراہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے وہیں چند لوگ ایسے بھی ہیں جن کا خیال میں تقریر اور سفارت کاری دو الگ چیزیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے بہترین تقریر کی لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کتنے ممالک ہمارے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کتنے ممالک کشمیر کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں؟

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں سیشن میں پاکستان کشمیر سے متعلق قراردار کیوں نہ لا سکا؟ گیارہ ستمبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے پچاس سے زیادہ ممالک کی حمایت سے ایک مشترکہ بیان پیش کر دیا ہے جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔ اگلے دن 12 ستمبر کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے بیان کو 58 ممالک کی حمایت حاصل ہے اور عمران خان نے ان تمام ممالک کا شکریہ بھی ادا کر دیا۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 19 ستمبر تک بھارت کے خلاف ایک قرارداد پیش کرنا تھی تاکہ اس قرارداد کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جا سکے، اس قرارداد کو پیش کرنے کے لئے پاکستان کو کونسل کے 47 میں سے صرف 16 رکن ممالک کی حمایت درکار تھی۔

لیکن پاکستان اس اجلاس میں قرارداد جمع کرانے کے لیے درکار کم سے کم ممالک کی حمایت کی شرط بھی پوری نہیں کر سکا۔ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں 58 ممالک کی حمایت کے حوالے سے بیان بھی دیا تھا۔ حالانکہ جنیوا کے انسانی حقوق کونسل میں اراکین کی تعداد صرف 47 ہے۔ اس ملک کا یہ بنیادی المیہ ہے کہ یہاں سچ کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔ جھوٹ کو اس عمدگی سے پیش کیا جاتا ہے کہ یقین کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ یہی حال اس معاملے کا بھی ہے۔

کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس پاکستان اور تنظیم کے صدر ترکی کی خواہش کے باوجود اب تک منعقد نہیں کیا جاسکا۔ اس حوالے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہمارے ساتھ ایک پیج پر نہیں ہیں۔ خارجہ سطح پر اسلام آباد کا انحصار چین اور خلیجی ممالک پر رہا ہے تاہم نئے حالات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، پاکستان کی بجائے بھارت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ آج کل کسی بھی دو ممالک کے تعلقات باہمی مفادات پر ہوتے ہیں نہ کہ اسلامی بھائی چارے پر۔

عالمی سیاست کے سینے میں نہ تو دل ہوتا ہے اور نہ ہی ضمیر، یہ صرف مفادات کے گرد گھومتی ہے، عمران خان کو یہ کیوں کہنا پڑا کہ کشمیر سے متعلق وہ بین الاقوامی برداری کے اقدامات سے مایوس ہیں؟ وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ کیوں کہا کہ اگر کوئی مسلمان ممالک اس وقت کشمیر کے بجائے تجارتی یا دیگر معاملات کی وجہ سے انڈیا کے ساتھ ہیں تو اس پر پاکستان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سفارتی طور پر ہم اپنا پیغام دنیا کو ٹھیک طریقے سے نہیں پہنچا سکے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سفارتی محاذ پر ناکامی کے خلاف درست حکمت عملی تشکیل دی جائے مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بالا رنگ و نسل انسانی مسئلہ ہے۔ ہمیں کشمیر کے حوالے سے بہتر لابنگ کرنا ہو گی۔ نئے سرے سے دوست بنانا ہوں گے۔ اپنے مفاد کو دیکھنا ہو گا۔ خارجہ پالیسی کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اس وقت

ہمیں اس پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ بین الاقوامی تعلقات میں نہ تو کوئی دوست مستقل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دشمن ہمیشہ دشمن رہتا ہے، اگرچہ قومی مفاد ہر قسم کے حالات میں دائمی رہتا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اسلام آباد کی توجہ پاک امریکہ تعلقات، افغان امن عمل جب کہ بھارت کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر مرکوز رہی۔ حال ہی میں نئی دہلی کی طرف سے متنازع جموں و کشمیر کی خصوصی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کی وجہ سے نہ صرف پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہو گیا بلکہ یہ صورتحال پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اس وقت ایک غیر معمولی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی، دوسرے ملکوں سے تعلقات استوار کرنے، بگڑے تعلقات سنوارنے اور باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خارجہ پالیسی بہتر اور دور رس ہو تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تقاریر اور بیانات خارجہ امور کے متبادل نہیں ہو سکتے۔ تقاریر کوئی بھی کر سکتا ہے۔ ہمیں دنیا میں ایسے دوستوں کی ضرورت ہے جو ہمارے نقطہ نظر کو سمجھیں اور ساتھ دیں۔ اس کے لیے ہمیں لابنگ کرنی ہو گی۔ نئے دوست بنانے ہوں گے۔ خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب آپ کی کامیابی تب ہو گی جب دنیا میں ہماری بات سنی جائے گی۔ جب دنیا کشمیر سے متعلق ہمارے موقف کو مانے گی۔ جب ہم اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق قرار داد لانے کے پوزیشن میں ہوں گے۔ تقاریر ماضی میں بھی بہت کی گئی ہیں اب بھی ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات نہیں مفادات کی گیم ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •