ستائیس ستمبر کو یو این میں عمران خان کی تقریر پر میرا تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کی یو این میں تقریر سنی جو شستہ انگریزی، خوبصورت تشبیہات اور جذبات سے مزین ضرور تھی لیکن کم از کم مجھے اس میں کوئی مقصدیت نظر آئی بلکہ ذہن میں مختلف سوالات سر اٹھانے لگے۔ کیا خان صاحب یو این میں ”مسلمانوں اور اسلام“ کی وکالت کرنے گئے تھے یا پھر انہیں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا تھا۔ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں کوئی مفتی یا خطیب نہیں اور نہ ہی یہ فورم اس مقصد کے لئے تھا۔

میرے خیال میں اس نادر موقع کو محض لفاظی کی نذر کردیا گیا جس سے ملک اور قوم کو کچھ نہیں ملنے والا اور نہ ہی کشمیر اور کشمیرہوں کے مسائل کا کوئی حل نظر آتا ہے۔ اصل مسائل سے پردہ پوشی کرکے جذباتی اور خوبصورت انگریزی تقریر جس میں مذہب کا سہارا لیا گیا اور ایک بار پھر لوگوں کے مذہبی احساسات کو کیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس خطاب سے شاید پاکستان کے سادہ عوام اور کچھ مخصوص طبقوں میں مقبولیت تو کسی حد تک مل سکتی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر کسی پزیرائی کی توقع نہیں اور نہ ہی ملک کی بہتری کی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔

کمزور سفارتکاری کا یہ حال ہے کہ کشمیر کے موقف پر ایک سو تہتر میں صرف سولہ ممالک کی سپورٹ ہمیں مل سکی۔ سعودی عرب اور ”مسلم امہ“ کے ممالک تک نے ہمارے موقف کی تائید نہیں کی اور بھارت کے حق میں ووٹ دیا۔ کشمیر کے مسئلہ پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ ممکن ہے کہ ان کے مصائب اب پہلے سے سوا ہوجائیں۔

کشمیر کے مدعے پر میں پر شدید احتجاج کرتا ہوں اور بھارت کی طرف سے جبر و تشدد کے اقدامات پر محھے تشویش بھی ہے۔ لیکن اس مسئلہ کا حل میرے نزدیک صرف اور صرف مذاکرات ہیں جس میں تینوں فریق شامل ہوں اور فیصلہ صرف اور صرف کشمیریوں کی رائے اور خواہش کے مطابق ہو۔

خان صاحب کی اس جذباتی تقریر سے پہلے بھی یو این میں کئی شعلہ بیان مقرروں نے بہت دھواں دار تقاریر کیں تھی جیسے کہ بھٹو صاحب کا شہرہ آفاق بیان اور پولینڈ کی جنگ بندی کی قرار داد پھاڑ کے واک آؤٹ کر جانا جس کے دوسرے ہی روز سقوط مشرقی پاکستان رونما ہوگیا۔ یاسر عرفات، احمدی نژاد، قدافی، رابرٹ موگابے، صدام حسین کے تقریں بھی کسی طرح فن خطابت کے معیار پر کم درجہ کی نہیں تھیں۔ جنرل ضیا الحق مرحوم نے تو پی ٹی وی کے ذریعے بظاہر یو این میں قرآن پاک کی تلاوت بھی کروا دی اور دوران خطاب اپنے آنسوؤں سے رومال بھی گیلا کردیا لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ کیا عالمی رائے عامہ کے کان پر کوئی جوں تک رینگی۔ کیا ان تقاریر سے حالات میں کوئی بہتری آئی۔ جواب ایک بڑے ”نو“ کے سوا کچھ نہیں۔

کچھ ناعاقبت اندیش جنگ کی باتیں بھی کررہے ہیں۔ جنگ میرے نزدیک کوئی حل ہے ہی نہیں۔ اس سے تو صرف ٹوٹل بربادی ہی ہوگی۔ اس حقیقت کو دونوں طرف کے حکمران جتنی جلدی سمجھ لیں بہتر ہے۔ بھارت اور پاکستان کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے ایک ذرا سی لاپروہی یا غلطی خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیگی دونوں ممالک کی آبادی کا بیشتر حصہ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے کیا وہ اس ممکنہ تباہ کاری کو برداشت کر سکیں گے۔

آج کی جنگ اہٹمی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ لفاظیوں کے بجائے اگر حکومت معیشت کی بہتری۔ بہتر سفارت کاری۔ ملک میں جمہوری اداروں کی بحالی۔ سیاسی انتقام سے اجتناب۔ سوشل جسٹس۔ تجارتی خسارے پر قابو اور تعلیم پر توجہ دے تو آنے والے چند سالوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

کشمیر کا نعرہ ہمارے سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ ”پاکستان خطرے میں ہے اور خدانخواستہ کسی نازک دور سے گزررہا ہے“ یہ ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں ایسے نعرے کچھ حلقوں کو تو شاید سوٹ کرتے ہوں لیکن اس نے عوام کا بھرکس نکال دیا۔ اب وطن عزیز مزید تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کی محبت اور اس کی معاشی۔ جمہوری اور معاشرتی بہتری میری اولین ترجیح ہے۔ اور کسی بھی مصلحت اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر میں اس مقصد کے لئے میں آواز اٹھاتا رہوں گا ۔ میری بات ایک مخصوص سوچ رکھنے والے طبقے کو ضرور ناگوار گزرے گی اور طنز و تنقید کے تیر بھی چلائے جائیں گے۔ مجھے آپ کی رائے کا احترام بھی ہے کہ اختلاف رائے آپ کا حق ہے لیکن شائستہ اور دلائل کے ساتھ۔
میرا ایمان ہے کہ مکالمہ ہی ایک صحتمند معاشرے کی پہچان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •