بش ڈاکٹرائن، عمران خان کی تقریر اور کشمیری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشلستان وزیراعظم پاکستان کی تقریر پر ابھی تک تقسیم کا شکار نظر آتا ہے۔
واہ واہ کیا تقریر تھی، صدیوں میں کوئی ایسا لیڈر پیدا ہوتا ہے جو یوں بستے باندھ دے۔
بکواس، کھوکھلی بڑھک بازی، تضادات کا مجموعہ اور گرتی ساکھ کو بچانے کی کوشش تھی بس۔

یہ دو مؤقف زیادہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں جو دو انتہائی پوزیشنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس تقسیم کی وجہ ”بُش ڈاکٹرائن“ جیسی سوچ ہے۔ بش ڈاکٹرائن کا سادہ مطلب یہ سمجھیں کہ اگر تم ہمارے غیر مشروط حامی نہیں تو لازماً ہمارے مخالف ہو۔

کشمیر میں مودی حکومت کی بدمعاشانہ واردات کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت مایوس، دلگرفتہ اور بے بسی کی کیفیت کا شکار تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیا کریں گے، کیا ہو سکتا ہے؟ نام نہاد امہ پلا جھاڑ کر سائیڈ پر کھڑی ہو گئی تھی۔ عرب آ کر مشورہ دے گئے بھائی جی کشمیر کو مسلمانوں کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ہم جن کی نمازیں پڑھتے تھے وہ ہمارے کوزے توڑنا شروع ہو گئے۔

حکومت بھی دباؤ میں تھی۔ حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر کھڑے ادارے بھی دباؤ محسوس کر رہے تھے لیکن ظاہر ہے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ جنگ تو ظاہر ہے نہیں کر سکتے تھے۔ سفارتی امکانات محدود اور پلڑا فریق مخالف کے حق میں تھا۔ لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہوں اور آپ کے بس میں کچھ نہ ہو تو صورت حال آسان نہیں ہوتی۔ اس کیفیت کی وضاحت اس وقت یا تو عمران اور باجوہ کر سکتے ہیں یا کٹے پھٹے لہو لہان مریض کو دیکھتا ہوا وہ ڈاکٹر جسے پتہ ہو کہ میرے بس میں کچھ نہیں، لیکن جس پر مریض کے پورے خاندان کی امید بھری نظریں لگی ہوں۔

ایسے میں واقعی ڈوبتے کے لیے تنکے کا سہارا کافی رہتا ہے۔ حکومت کو نہ صرف خود سہارا چاہیے تھا کہ خراب معاشی صورتحال اور گورننس کی وجہ سے دباؤ میں آئی حکومت کی پیٹھ پر کشمیر بھی آخری تنکے کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا بلکہ اسے پاکستانیوں کی مایوسی کا تدارک بھی کرنا تھا۔

یہ تنکے سیکیوریٹی کونسل کے اجلاس میں ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ کوئی فائدہ نہ ہوا۔ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھی الٹے سیدھے ٹویٹوں اور دعووں کے باوجود نامرادی ہی ہمارے حصے میں آئی۔ اگلا بڑا میچ جہاں عالمی تماشائیوں کی نظریں لگی تھیں، جنرل اسمبلی اجلاس تھا۔ یہاں وزیراعظم نے جو کہا وہ پاکستانیوں کی اکثریت کے جذبات کی کامیاب ترجمانی تھی۔ بے بسی کی کیفیت کے شکار پاکستانی چاہ رہے تھے کہ کوئی بات تو کرے۔ وزیراعظم نے ہی کرنی تھی، ٹھیک کی، ٹھوک کے کی۔ جو بات وزیراعظم نے بہترین کی وہ کشمیر پر تھی۔ منی لانڈرنگ پر بات کرتے پاکستان کی سابق حکومتوں کا ذکر اقوام عالم کے لیڈروں سے زیادہ اپنے مداحوں کی مایوسی دور کرنے اور پھر سے ہلاشیری دینے کی کوشش تھی، بلاجواز اور سطحی۔

اب اگر کوئی یہ سمجھے کہ تقریر کے بعد مودی معافی مانگ کر سری نگر سے دہلی لوٹ جائے گا تو یہ تقریر کا نہیں ایسا سمجھنے والے کا قصور ہے۔ اگر کوئی یہ سوچے کہ بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات والی اقوام کٹی کر کے پاکستان کے ساتھ آ کھڑی ہوں گی تو وہ اپنے اپ سے پوچھ لے کہ خود تو میں 5 روپے کلو سستے آلو لینے کے لیے محلے والی دکان چھوڑ کر اتوار بازار جاتا ہوں اور دنیا سے اربوں ڈالر کا کاروبار چھوڑنے کی توقع رکھتا ہوں، صرف ایک تقریر کی وجہ سے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ امید ہے دل سے جواب مل جائے گا۔

ہاں یہ تقریر کشمیریوں کے لیے حیات بخش پیغام ہے کہ مایوسی اور پریشانی کی اس گھڑی میں پاکستان کا دل ان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستانیوں کو احساس ہوا کہ ہماری حکومت وہی بولتی ہے جو ہمارے دل میں ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کشمیر پر وہی بولا جو میرے اور آپ کے دل میں ہے تو کیا ان کی حکومت جمہوریت، معیشت، گورننس، نظام عدل، بلا امتیاز احتساب، اقربا پروری، جرائم، سادگی، صحت، تعلیم، روزگار وغیرہ وغیرہ جیسے پہلوؤں پر بھی ایسا ہی سوچتی اور کرتی ہے جیسا ہم چاہتے ہیں۔ آپ کا جواب آپ کو پتہ ہو گا، میرا جواب تو ہے بالکل نہیں۔ کھوکھلے نعرے اور خالی خولی بڑھکیں ہیں بس، یہ حکومت ایک کے بعد ایک یوٹرن لے رہی ہے اور اب یوٹرن کو اعلی قائدانہ وصف بھی گردانتی ہے۔

ایک اور پہلو بھی ہے۔ آپ تو پاکستان ہیں، اگر امریکہ بھی ہوں تو ایک تقریر سے کہیں مسائل حل نہیں ہوتے۔ بین الاقوامی معاملات میں سب سے اہم بات تاریخ کی درست سمت پر کھڑا رہنا ہے۔ جب آپ کے بس میں عملاً کچھ نہ ہو تو یہ مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ کشمیر کو اسی کیفیت کا شکار ہوئے 72 برس بیت گئے۔ کب تک وہ اس جبر و ظلم کا شکار رہیں گے؟ ہم یہ سوال کر سکتے ہیں، ہمیں کرنا بھی چاہیے لیکن دنیا کو بتانے، جگانے کے لیے۔ گھر بیٹھے بغیر کچھ کیے ہمیں اپنی منہوس تھکاوٹ کشمیریوں کے دروازے پر ڈھیر کرنے کا حق نہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نہیں کچھ کرنے جوگے نہ کریں لیکن کشمیریوں کو یہ مشورہ دینے کا اختیار ہمارے پاس نہیں کہ کچھ نہیں بننا تم بھی چھوڑ دو۔

یہ فیصلہ صرف اور صرف کشمیریوں کا ہے اور یہی حق خود ارادیت کی روح اور تقاضا ہے جس کا ہم رونا روتے ہیں۔ باقی سچی بات ہے کہ وادی والوں کو برداشت کرنا دہلی کے بس میں ہے نہ اسلام آباد کے بس میں۔ ایل او سی سے اس طرف جن کے پاس دائمی اختیار ہے وہ ایک ریٹائرڈ بنک کیشیئر اور مقتول جوان بیٹے کے باپ ماما قدیر اور اس کے ساتھ چلتے چند بچوں، عورتوں اور بوڑھے بلوچوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں جو محض یہ پوچھتے ہیں کہ ہمارے باپ، بھائی، بیٹے جو لے گئے تھے وہ کدھر ہیں؟ وہ اتنے حُروں کو کیسے برداشت کریں گے جو 80 ہزار جانیں قربان کر چکے پھر بھی ہندوستان سے یہ سوال پوچھنے سے باز نہیں آتے کہ جب خود ارادیت ہمارا حق ہے تو تم کیوں اس سے انکار کرتے ہو؟

پٹھان کوٹ سے اس طرف والوں کی استطاعت کا تماشا دنیا دیکھ رہی ہے۔ ہر 9 کشمیریوں پر ایک بندوق والا فوجی بٹھا کر مودی اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو خاموش کروا کے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ یہ جذباتی بات بالکل بھی نہیں۔ کشمیر کا حل کشمیر سے ہی نکلے گا۔ اور ضرور نکلے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •