تقریر سے لائی گئی تبدیلی اور پر امید قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کا 74 واں اجلاس 27 ستمبر کو منعقد کیا گیا جس میں وزیرعظم عمران خان نیازی کی تشریف آوری ہوئی۔ وہاں بیٹھے لوگوں میں سے کچھ نے تالیاں بجائیں۔ خان صاحب سٹیج پر آئے مائیک کے سامنے کھڑے ہوکر جنرل اسمبلی میں تقریر کرنے لگے۔ ان کو پندرہ منٹ کا ٹائم دیا گیا لیکن خان صاحب نے پندرہ منٹ پورے ہونے کے بعد تینتیس منٹ بعد خدا حافظ بولا۔ اڑتالیس منٹ میں خان صاحب نے دنیا کو سب سے پہلا پیغام یہ دیا کہ ہم وقت نامی چیز کو کچھ نہیں سمجھتے جب تک ہماری بات مکمل نہی ہوگی ہم یہاں سے ہلنے والے نہیں۔

بہرکیف اپنی تقریر کے دوران خان صاحب نے انڈیا جیسے نام نہاد جمہوری ملک کو کھری کھری سنائیں۔ جیسا کہ ہماری قوم امید لگائے بیٹھی تھی کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن وہاں پر موجود لوگ اتنے سنگدل تھے کہ کسی کی آنکھ سے ایک آنسو تک نہ ٹپکا۔ مگر پاکستان میں بسنے والوں کے دل جیت لیے اور ایک دفعہ پھر خان صاحب میں لوگ اپنے بچوں کا مستقبل دیکھنے لگے۔ ہر کوئی کہتا پھر رہا ہے کہ واہ مزہ آگیا خان صاحب کی تقریر سے۔ آج تک پاکستان کے کسی وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں ایسا خطاب نہی کیا لیکن اگر خان صاحب کی کی گئی ان تقاریر پر نظرثانی کی جائے جو پاکستان میں وہ پچھلے چھ سالوں سے کرتے آرہے ہیں تو شاید اس تقریر کو سمجھنے میں یہ آسانی پیدا ہو سکے کہ آئندہ دنوں میں کون سی تبدیلی یا خوشخبری پاکستانیوں کو سننے میں مل سکتی ہے۔

29 اپریل 2018 کو خان صاحب نے مینارپاکستان میں جلسے کے دوران اپنی قوم سے خطاب کیاتھا اور بتایا کہ پاکستان پر زرداری، نواز شریف نے مل کر چھ ہزار ارب سے ستائیس ہزار ارب تک قرضہ چڑھایاجس سے ملک میں بیروزگاری آئی اور ہمارے پاس قرض واپس کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ ہم قرض واپس کرنے کے لیے اور قرضے لے رہے ہیں لیکن اگر آپ ہمیں ووٹ دیں گے ہم ملک کو قرضوں سے پاک کردیں گے کیونکہ ہمارے پاس اسد عمر جیسا وزیرخزانہ موجود ہے جو اکنامک پالیسز کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔

اب خان صاحب کو قوم نے اس طرح کی تقاریر سے متاثر ہوکر ووٹ دیا اس کے بعد نہ وہ وزیرخزانہ رہا اور نہ وہ تدبیر۔ ایک اور تقریر میں قوم سے وعدہ کیا کہ اگر اقتدار میں آنے کے بعد میرے پاس کسی دوسرے ملک سے قرضہ لینے کا آخری آپشن ہوا تو میں خودکشی کرلونگا۔ لیکن ہم خان صاحب کی خودکشی کے حق میں اس وقت بھی نہی تھے اور اب بھی نہی ہیں لیکن قوم نے دیکھا اقتدار ملنے کے بعد خان صاحب نے دوسرے ممالک سے محض قرضے ہی نہیں لیے بلکہ آئی ایم ایف سے بھاری قرضہ مشکل ترین شرائط پر لے کر اپنی ہی تقریر میں کیے وعدے سے مکر گئے۔

اس کے علاوہ خان صاحب اپنی تقاریر میں ہی کہا کرتے تھے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ ہر سیاسی پارٹی چور اور کرپٹ ترین چہروں سے بھری پڑی ہے۔ اب چونکہ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو بھی کرپشن کیس میں نا اہل قرار دے کر سیاست سے آؤٹ کیا تھا مگر قوم نے خان صاحب کی ضرورت سمجھ کر چپ سادھ لی اور آج جہانگیرترین کا رتبہ حکومتی اراکین میں سب سے اعلیٰ ترین سمجھا جاتا ہے۔ وہ باتیں جن سے ماضی کے حکمران غدار تصور کیے گئے وہی باتیں جب خان صاحب نے انٹرنیشنل فارم پر خود کیں تو قوم نے ایسی باتوں کو حقیقت سمجھ کر قبول کیا۔

اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ خان صاحب اپنی تقاریر سے یوٹرن لینے کے بعد بھی ایسی کون سی خوبی رکھتے ہیں جو وہ اپنی نئی تقریر سے دوبارہ ہر ایک کو مول لیتے ہیں تو ایک بات سمجھیں جب تک ایک باپ کا سایہ اس کے بچے پر قائم رہتا ہے تب تک تو وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتا ہے دنیا اور اپنے دوست احباب کے سامنے ایک خاص رتبہ رکھتا ہے مگر جونہی اس کا باپ بچے کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھالیتا ہے تو دنیا اس کے ساتھ بہت بری طرح پیش آتی ہے کیونکہ اس وقت لاڈ پیار کرنے والا باپ ساتھ چھوڑ چکا ہوتا ہے۔

اب اگر خان صاحب کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر سے کسی کو یہ لگتا ہے کہ اب کشمیر آزاد کروانے میں کوئی رکاوٹ نہی رہی اگر کوئی رکاوٹ تھی تو وہ خان صاحب کی تقریر کے بعد معدوم ہو چکی ہے تو وہ شاہ محمود قریشی کے مطابق احمقوں کی دنیا میں رہائش پذیر ہے۔ لیکن اس تقریر سے اتنی تبدیلی ضرور آئے گی جتنی پچھلے چھ سالوں میں کی گئی تقاریر سے آئی ہے یعنی کچھ دن قوم حقائق کو پس پشت ڈال کر امید کی دنیا میں رہنے لگے گی اس کے بعد پھر اندھیری رات۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •