ستمبر اور جنرل اسمبلی۔ وزیراعظم کا خطاب اور خطبہ
ستمبر کا مہینہ امریکہ کے شہر نیویارک میں سربراہان مملکت کے سالانہ اجتماع کا مہینہ ہے۔ اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس ہر سال یہیں منعقد ہوتا ہے اور دنیا بھر سے تمام ممبر ممالک سے ان کی ترجمانی زیادہ تر ان ممالک کے سربراہان ہی کرتے ہیں۔ یہ سالانہ سربراہی اجتماع سربراہان کو آپس میں ملنے بات چیت کرنے اور براہ راست سفارتکاری کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ چونکہ اقوام متحدہ کا صدر دفتر نیویارک میں ہے لہٰذا روایتی طور پر امریکی صدر بحیثیت میزبان ملک اپنی تقریر سے اس اجلاس کو پہلے خطاب کرتا ہے۔ اس بہت ہی مصروف ہفتے کے دوران ممالک اپنی کارکردگی کے علاوہ اپنے دیگر ممالک سے تعلقات پر بھی گفتگو کرتے ہیں اور اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ بین اقوامی برادری کو ان مسائل سے آگاہ رکھا جاسکے اور مسائل کی بابت اپنا موقف اور فریق دوئم کا تجاوز دنیا کے سامنے رکھا جاسکے۔
بھارت کے 5 اگست 2019 کے کشمیر کی بابت اقدامات سے بر صغیر پاک و ہند میں پاک بھارت تنازعہ کشمیر کے حوالے سے پیدا شدہ صورت حال نے خطے کے امن پر کاری ضرب لگائی ہے اور پاکستان کو بھارتی اقدامات پر شدید تحفظات ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت نے جو رویہ کشمیری عوام کے ساتھ اپنا رکھا ہے جو حالیہ اکیسویں صدی کے تناظر میں انتہائی بہمانہ اور غیر انسانی رویہ ہے، کشمیری عوام بد ترین کرفیو میں گھربوں میں زندہ درگور کردیے گئے ہیں۔ بھارتی سیکیورٹی ادارے مردوں اور نوجوان لڑکوں کو گھروں سے اٹھا کر نامعلوم جگہوں پر عقوبت خانوں میں لے جارہے ہیں۔ عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ غرضیکہ کشمیر جنت نظیر وادی ایک زمینی جہنم میں بدل چکی ہے جس کا آقا نریندرمودی ہے اور بھارت کی سیکیورٹی فورسز کا لاکھوں کی تعداد میں عملہ جلاد کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اور مظلوم کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی کی پاداش کاٹ رہے ہیں۔
کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور بین الاقوامی برادری اس کی تکمیل کی باقاعدہ ضامن ہے۔ پاکستان کا کشمیر اور کشمیری عوام سے دل و جان کا رشتہ ہے اور پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا ہے۔
5 اگست کے بعد کا کشمیر نہ پاکستان اور نہ ہی کشمیری عوام کے لئے قابل قبول ہے۔
موجودہ کشمیری حالات کے تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان پاکستان و کشمیری عوام کے دلوں کو آواز بن کر نیویارک تشریف لائے اور جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے جو خطاب پینتالیس منٹ تک سربراہ اجلاس سے فرمایا یہ وہی خطاب تھا جو جناب عمران خان نیویارک میں اپنے قیام کے دوران نہایت مفصل انداز میں کونسل آف فارن افئرز میں کر چکے تھے۔
بہرحال وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں حسب معمول فی البدیہہ خطاب کیا اور جنرل اسمبلی کے دیے گے وقت سے کوئی آدھ گھنٹہ زیادہ وہ مخاطب رہے۔
وزیراعظم کی تقریر کے چار حصے بنائے جاسکتے ہیں جس میں دو نہایت اہم یعنی کشمیر اور اسلاموفوبیا اور دیگر دو، اسلاموفوبیا ہی کے نتجے میں ہونے والا نسلی امتیازہے جس میں انہوں نے حجاب کا تذکرہ کیا اور اس کے مقابل انہوں نے ایک کم لباس پہنے یعنی بکنی والی مغربی خاتون کو رکھاجبکہ حجاب کا معاملہ یورپ کے چند ممالک بالخصوص فرانس تک محدود ہے حالانکہ اگر صرف مذہبی بنیادوں پر انتہا پسندی کو دیکھا تو اس کا نشانہ زیادہ تر ایک خاص حلیے کے مرد ہی ہوتے ہیں مجرد خواتین اس کا نشانہ مغرب میں بہت کم ہیں اور اب یہ حالات بھی کافی بہتر ہوئے ہیں کیونکہ اسوقت دہشت گردی قدرے کنٹرول ہے جس کی وجہ بین الاقوامی یکساں ردعمل ہے۔
خواتین سے خاص مسلم خواتین سے بد سلوکی کی بات کی جائے تو اس بد سلوکی میں آج بھارت سر فہرست ہے جہاں برقعہ پوش خواتین اور بچیوں کو ناصرف ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ ان سے بد سلوکی اور بے عزتی بھی کی جاتی ہے اور اس کے ثبوت جابجا میڈیا اور سوشل میڈیا ہر موجود ہیں۔ میری دانست میں وزیراعظم نے اس خاص موضوع پر بہت وقت لیا وہ عمومی انداز میں اس بات کو زیادہ موثر طریقے سے موجودہ حالات سے ہم آہنگ کر کے بین الاقوامی تناظر میں پیش کرتے تو بہتر ہوتا اور اس کا اثر بھی ہوتا، میری دانست میں، یہ بات طوالت کے باعث پر اثر نہ رہی۔
نبی صل اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر جان قربان، وزیراعظم حرمت نبی ص کی بابت جو بات کی وہ نہایت اہم تھی اس انتہائی اہم اور مسلمانوں کی دلی اور جذباتی وابستگی والے مسئلے کو پاکستان کے اور صرف پاکستان ہی کے دیگرتمام وزرائےاعظم بہت شد و مد سے باور کراتے رہے ہیں اور جناب عمران خان نے بھی اس کا اظہار کیا مگر انہوں نے اس معاملے کی دوسروں سے زیادہ بہتر محنت اپنی ذاتی اور مسلمانوں کی دلی اور جذباتی وابستگی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے کیا۔
سب سے اہم مسئلہ جو اس وقت افق دنیا پر کشت وخون کی داستانیں رقم کر رہا ہے وہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے صرف جذبات ہی کی بنیاد پر اپنا موقف پیش کیا۔ عوام جذباتی تقاریر اور موقف کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور عوامی راہنما اپنے جذباتی زور خطابت سے عوام کے دل جیت لیتے ہیں۔ مگر اقوام متحدہ عوامی نہیں ایک بین الاقوامی فورم ہے جہاں باتوں اور دعوؤں کو زمینی حقائق سے جوڑنا ہوتا ہے۔ جذباتیت کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کر لیا جائے تو مقدمہ مضبوط اور جیت کے سفر پر رواں ہوجاتا ہے۔ زمینی حقائق سے استدلال دعوے کی فولادی بنیاد ہے۔ اس سے یاور سامعین اور منصب چونک کر معاملے کی سنگینی کا بہتر اندازہ کر سکتے ہیں۔
یعنی وزیراعظم اگر اپنی تقریر کے ساتھ بین الاقوامی اداروں اور میڈیا رپورٹوں کو لف کرتے اور بھارتی ظلم و بربریت کی تصاویر بھی دیکھا دیتے (جیسا کہ اسرائیلی وزیراعظم ایرانی ایٹمی تنصیبات اور ترک صدر نے اسرائیلی یہودی بستیوں کیے بتدریج اضافے کا نقشہ ) وزیراعظم بھی پیلٹ گنز سے چھلنی کشمیری چہرے، بے آبرو بچیوں کی آہ و فریاد بھارتی فوج کی درندگی کی منہ بولتی داستانیں تمثیل و تصویر کے ساتھ پیش کرتے تو ہم یقیناً ان دوستوں کی سفارتی ہمدردیاں اس حد تک ضرور حاصل کر لیتے کہ بھارت کشمیری عوام پر مزید ظلم روا رکھنے سے پہلے ضرور سوچتا۔ یہاں وزیراعظم نے صرف جذباتی مقدمہ لڑا جو پاکستان کے عوام میں تو بہت پذیرائی پا چکا ہے مگر اس کو بین اقوامی طور پر جذباتی تقریر کے روپ میں دیکھا جارہا ہے۔
وزیراعظم بھارت کو اور مودی کو براہ راست مخاطب کرکے ہٹلر اور آر ایس ایس کا رکن کہا جو درست ہے۔ انہیں گجرات میں مسلم قتل عام پر زیادہ بات کرنا چاہیے تھی۔ دنیا ہر واضح ہو جاتا کہ بھارت منظم طریقے سے کشمیری عوام کی مسلم بنیادوں پر نسل کشی کر رہا ہے، یہ مودی حکومت کا خاصہ ہے۔ وزیراعظم نے جنگ کا تذکرہ بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ ہم چونکہ بھارت کے مقابلے میں چھوٹا ملک ہیں لہٰذا ہمارا دفاع اسے ایٹمی جنگ بناسکتا ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا عندیہ دینا اور پھر جیسا ان کی کابینہ کے وزرا بموں کے اوزان تک کی معلومات دے رہے ہیں یہ ہمارے اٹکی ہتھیاروں کی حفاظت اور ہیڈلنگ پر بڑا سوال اٹھا سکتے ہیں۔ دنیا پہلے ہی ہمیں غیر ذمہ دار ریاست قرار دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہی ایسے میں ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی بابت محتاط رہنا چاہیے۔
وزیراعظم کو یہ بات ہر گز نہیں کہنی چاہیے تھی کہ ”بھارت میں پانچ سو دہشت گرد داخل ہونے والے ہیں“ یہاں ہاکستان کی واضح پالیسی ہے کہ ہم کسی دوسرے ملک میں کوئی دخل اندازی نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کلبھوشن کا ذکر بھی کیا اور سمجھوتہ ایکسپریس حادثہ کا بھی جو میری دانست میں زیادہ اپنی ملکی سیاست کے تناظر میں ایک پوائنٹ سکور تھا کہ عمران خان کی دانست میں کہ دیکھا کسی دوسرے وزیراعظم کو یہ ”جرات“ نہ ہوئی میں نے ذکر کیا۔
ہاں اگر وہ کلبھوشن کے معاملے کو اٹھانا ہی چاہتے تھے تو انہیں بلوچستان میں بھارتی دراندازی کو بھی بیان کرنا چاہے تھا۔ میرا نہیں خیال کہ اقوام متحدہ کے چند ممبر ممالک کے علاوہ کسی دوسرے ملک کو افغانستان اور کشمیر کے علاوہ بھی کسی اور معاملے کا پتہ بھی ہوگا۔ وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر جذباتیت سے بھرپور تھی، عوامی تھی اور اس سے عوام کی بہت دلجوئی ہوئی۔ سفارتی اعتبار سے یہ اس حد تک موثر تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کو لے کر صورتحال خراب ہے اور شاید سنگین ہے۔
بھٹو کو حواری بومدین (جو الجزائر کے صدر تھے ) نے کہا تھا کشمیر اسوقت خود آزاد ہوجائے گا جب کشمیری اپنی قبریں ہمالیہ کے برابر کھڑی کر لیں گے۔ یعنی آزادی کی جدوجہد جانوں کے نذرانے سے منسلک ہے اور جانوں کا نذرانہ جب اتنا قد آور ہوجائے کہ ناچاہتے ہوئے بھی نظروں کے سامنے آ کھڑا ہو تو پھر آزادی کا سورج نکل کر رہتا ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بلندی کو چھو لینے کے قریب ہیں اور کشمیری عوام کی آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ ہمارا فرض بس اتنا ہے کہ معاملہ ہر موقف کمزور نہ ہو اور آزادی کے متوالوں کی اخلاقی سفارتی مدد میں کوئی کمی نہ رہے۔ جذبات قوموں کی دلی وابستگیوں سے ہم آہنگ رہیں اخلاص نیت کے ساتھ سفارتی میدانوں میں انتھک محنت کی جائے۔
کشمیر کے عوام کی نظریں ہم پر لگی ہیں اور وہ ہم سے واضح اشارے چاہتے ہیں کہ ہم ان کی کس حد تک فی الواقع مدد کر سکتے ہیں۔ آیا ہماری مدد اخلاقی جذباتی اور سفارتی ہے یا پھر ہم کشمیری عوام کے ساتھ ملکر بھارت کے خلاف اعلان جنگ کرنا چاہتے ہیں ہر دو صورتوں میں ہمیں کشمیری عوام کو دو ٹوک راہ عمل سے آگاہ کر دینا چاہے تھا۔ باقی کرفیو تو آج یا کل ختم ہونا ہی ہے۔


