کشمیر اور ہم سب: کیا کرسکتے ہیں اور کیسے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کی حالیہ آئینی ترمیم میں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے ساتھ وادی کو ایک جیل کی شکل دے دی گئی ہے۔ کشمیری پچھلے پچاس دنوں سے کرفیومیں زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ ہندوستانی میڈیا کو بھی وادی میں جانے کی اجازت نہ ہے۔ مواصلات پر پابندی کی وجہ سے عالمی نشریاتی اداروں کو اصل صورتحال کا اندازہ لگانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کشمیریوں کے لئے آواز کیوں اٹھائی جائے؟

5 اگست کو ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کو ختم کر کے وادی میں مکمل طور پر لاک ڈاوؑن کر دیا گیا۔ آرٹیکل 370 کشمیرکو ماسوائے دفاع، مواصلات اور خارجہ پالیسی کے خودمختاری دیتا تھا جبکہ آرٹیکل 35 اے کی رو سے کشمیر کے مستقل رہائشی ہی کشمیر میں جائیداد خرید سکتے تھے۔ لیکن ان کی منسوخی سے نہ صرف کشمیر کی انفرادی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے بلکہ کشمیر کی بنیادی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس سے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی جو کے راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سیاسی اولاد ہے کے بنیادی فلسفہ ”ہندوتوا“ کے تحت ”ہندو راشٹرا“ کی تکمیل کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا گیاہے۔

”“ ہندوتوا ”بنیادی طور پرمذہبی انتہا پسندی و دہشت گردی پر مبنی نظریہ ہے اور بھارتیہ جنتاپارٹی کی مقبولیت بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی تعصب کی عکاس ہے۔ ہندوتوا کے بنیادی عقائد کے مطابق برصغیر میں بسنے والے تمام لوگوں کے آباؤاجداد ہندو تھے لہذا اس خطے سے دوسرے تمام مذاہب والے یا تو ہندو مذہب قبول کر لیں یا پھریہ برصغیر سے نکل جائیں اور اسی نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آر ایس ایس، بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد نے“ گھرواپسی ”نامی مہم شروع کی ہوئی ہے جس کے تحت ہندوستان میں بسنے والے غیر ہندوؑں کو منظم کوششوں سیحکومتی سرپرستی میں ہندو بنایا جا رہا ہے حالانکہ ہندوستان میں قانونی طور پر مذہب تبدیلی پر پابندی عائد ہے۔

اسی سلسلے کی تازہ ترین مثال جنوری 2019 میں سامنے آئی جب 96 قبائلی عیسائی خاندانوں کا مذہب تبدیل کر کے ہندو بنایا گیا۔ علاوہ ازیں 2017 میں اتر پردیش میں 22 مسلمانوں، جھاڑکھنڈ میں 60 عیسائی خاندانوں، 2016 میں ویلورمیں 15 دلت عیسائیوں اور 2014 میں تقریبا 8000 کو تلنگانہ اور 1200 لوگوں کو حیدر آباد میں ”گھرواپسی“ مہم کے تحت زبردستی ہندومت مذہب قبول کروایا گیا۔ اسی نظریہ کے تحت موجودہ ہندوستان، کشمیر، پاکستان اور افغانستان کا کچھ حصہ ”ہندوراشٹرا“ کا حصہ ہے اور اس ایجنڈے کی تکیمل کشمیرسے شروع ہو چکی ہے۔

کشمیرکی موجودہ صورت حال انتہائی ابتر ہے۔ اشیائضروریہ کی شدید قلت ہے۔ تمام سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء اور کاروباری افراد تک کوحراست میں لے کیاگیاہے۔

ان حالات میں کشمیری پوری دنیا کی طرف بالعموم اور پاکستان کی طرف بالخصوص دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان نے بلاشبہ کشمیریوں کے لئے جاندار اور توانا آواز اٹھائی ہے۔ لیکن کشمیر کی موجودہ صورت حال جہاں پاکستان سے سنجیدہ اور متحرک سفارتکاری کی متقاضی ہے وہیں ہر پاکستانی سے بطور پاکستانی، مسلمان اور انسان کچھ ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔

کشمیر کے لئے کیا کریں؟

ہم جس صدی میں زندہ ہیں بلاشبہ یہ معلومات اور اس معلومات کی تیز ترین ترسیل کی صدی کہلائی جا سکتی ہے۔ ہم اپنی حیثیت میں کسی نہ کسی طریقے سے کشمیریوں کی مد د کر سکتے ہیں۔ عالمی رائے عامہ کسی بھی مسئلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ خوش قسمتی سے آج ہمارے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے ہم کشمیر کے لئے عالمی رائے عامہ کشمریوں کے حق میں ہموار کرسکتیہیں۔ ذیل میں کچھ ایسے پلیٹ فارمزاور سرگرمیوں کا کا تذکرہ ہے جس کیتحت ہم سب کشمیریوں کی ظلم کے خلاف جدوجہد میں اپنی آواز شامل کر سکتے ہیں۔

میڈیا :

ہم انفرادی حیثیت میں سماجی تنظیموں، علاقائی، قومی، اور عالمی نشریاتی اداروں کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں رائٹرز، صحافی اور میڈیا مالکان سے بھی رابطہ کرکے ان سے کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے اور اس پرآواز اٹھانے کا کہا جا سکتاہے۔ بی بی سی، سی این این اوور دوسرے میڈیا ہاؤسز سے ان کی ویب سائیٹس پر موجود ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مختلف نیوزایجنسیز کشمیر کے حوالے سے حقائق پر مبنی تصاویر و خبریں شائع کرتے ہیں اور موثرطریقے سے محتلف ایشوز کو دنیا کو دکھاتے ہیں۔

ریوٹرز، اے پی، اے ایف پی جیسی عالمی نیوز ایجنسیز نے اگست اور ستمبرکے مہینے میں کشمیر سے متعقلہ دو ہزار سے زیادہ تصاویر اپنی ویب سائیٹس اور ٹویٹر پر شائع کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے اداروں کو بھی مہیا کی ہیں۔ ان ویب سائیٹس کے پاس وسیع ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے پوری دنیا سے معلومات اکٹھی کی جاتی ہے لہذا ان ویب سائیٹس سے معلومات و تصاویر لے کر ان کو اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے وائرل کیا جاسکتا ہے۔

کمیونٹی :

آپ جس کمیونٹی میں بھی رہتیہیں کوشش کریں کہ کسی نہ کسی شکل میں کشمیر کے حوالے سے کوئی سرگرمی کریں۔ اس کے لیے پینل ڈسکشن، واک، فنڈ ریزنگ کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اپنے علاقی کی سیاسی و سماجی قیادت کوساتھ شامل کرنے سے حوصلہ افزاء نتائج مل سکتے ہیں۔ پمفلٹس اورمعلوماتی بروشرزکے ذریعے بھی ایک اچھی آگاہی مہم چلائی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا :

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 70 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور زیادہ تر صارفین انٹرنیٹ کو سوشل میڈیا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، وٹس ایپ پاکستان اورعالمی سطح پر زیادہ مقبول ہیں۔ ان ایپس کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام سیاسی لیڈزز، سماجی کارکن، تنظیمیں اور ادارے ٹویٹر استعمال کرتے ہیں لہذا یہ رائے عامہ کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ ان اداروں کے اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہوئے ان کے ساتھ کشمیر کے حوالے سے مواد شئیر کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کا شائع کردہ مواد دوسرے پلیٹ فارمز پر بھی شئیر کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں کچھ عالمی اداروں اور شخصیات کے تویٹر ہنیڈل دیے گئے ہیں جس کے ذریعے ان کے ساتھ رابطہ کیاجاسکتا ہے۔

ان کے علاوہ امریکا کے تمام سینیٹرز کے ٹویٹر اکاؤنٹس مندرجہ ذیل لنک سے حاصل کیے جاسکتے ہیں اور ان سے رابطہ کرکے کشمیر کے حوالے سے حقائق شئیر کیے جا سکتے ہیں۔

https://twitter.com/cspan/lists/senators/members?lang=en

علاوہ ازیں دنیا کے 100 با اثر افراد کی تفصیلات مندرجہ ذیل لنکس سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

https://time.com/collection/100-most-influential-people-2019/

https://www.forbes.com/powerful-people/list/#tab:overall

نیوز ایجنسیزیزکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود ہیں جن میں سب سے موثر ٹویٹر اکاؤنٹس ہیں۔ کچھ معتبر عالمی نیوز ایجنسیز کی ویب سائٹس اور ٹویٹر ہینڈل درج ذیل ہیں۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ایک حقیقت ہے اور یہ 70 سال سے زائد عرصہ سے جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں سے مندرجہ ذیل ٹویٹر اکاونٹس کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتاہے۔

دنیا میں مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے نام پر لاکھوں لوگ قتل ہو چکے ہیں۔ اور ابھی تک ہو رہے ہیں ان حالا ت میں ہماری ترجیحات واضح ہونی چاہیے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں۔ ظلم کے ساتھ یا ظلم کے خلاف۔ ظلم اور زیادتی دنیا میں کہیں بھی ہو اس کے خلاف آواز نہ اٹھانے والا بھی اس ظلم میں حصہ دار تصور کیا جائے گا۔ ہم سب مل کر دنیا کو جہنم بننے سے روک سکتے ہیں۔ آواز اٹھائیں ہر ظلم کہ خلاف بغیر کسی تعصب کے۔

“The hottest places in Hell are reserved for those who in time of moral crisis preserve their neutrality.” Dante Alighieri

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہباز اسلم کی دیگر تحریریں
شہباز اسلم کی دیگر تحریریں