ایوسف ستالن اور ماورائیاتی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری عالمی جنگ بیسویں صدی کی عالمی تاریخ کا سب سے بڑا اور شاید سب سے زیادہ سانحہ خیز واقعہ تھی۔ یہ دہشتناک جنگ نہ صرف لڑائی کے میدانوں بلکہ خفیہ طور پر ماورائیاتی سطح پر بھی لڑی گئی تھی۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے کہ جرمن فیوہرر ایڈولف ہٹلر کو ماورائیات کا چسکہ تھا۔ جرمنی کی تنظیم ”اینین نربے“ کی سرگرمیوں کے بارے میں سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ماورائیات بارے تحقیق کرتی تھی اور ماورائی طاقت کے حامل نوادرات کی متلاشی رہتی تھی۔ یہ حقیقت کہیں کم معلوم ہے کہ سوویت رہنما ایوسف ستالن، قطع نظر اس کے کہ وہ رسمی طور پہ سوویت لادین تھے لیکن اصل میں وہ بھی ماورائیات دوست تھے۔ ہماری آج کی کہانی اس بارے میں ہی ہے۔

ایوسف ستالن کو علم تھا کہ نازی جرمنی کے ساتھ جنگ سے بچنا ممکن نہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ 1941 میں نہیں بلکہ دو تین سال بعد شروع ہوگی۔ ہٹلر کا حملہ ستالن کے لیے غیر متوقع رہا تھا۔ 22 جون 1941 کو جرمنی کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں سوویت یونین کی سرحد پہ پہنچ گئے تھے۔ ہٹلر کی فوجیں جو تب تک یورپ کے بیشتر حصے کو زیر کر چکی تھیں، ناقابل یقین حد تک طاقتور تھیں۔ ہٹلر کا منصوبہ تھا کہ تیزی کے ساتھ حملہ کرکے ماسکو کو آنا ”فانا“ قبضے میں لے لیا جائے۔

شروع میں جرمن فوج کو کامیابی حاصل ہوتی گئی تھی۔ سوویت فوج کو پے در پے شکست ہوتی چلی گئی تھی۔ محاذ ماسکو کے بہت نزدیک پہنچ چکا تھا۔ موسم خزاں میں سوویت دارالحکومت میں ہراس پھیل چکا تھا۔ حکومت کو یہاں سے نکال لے جانے کی بات واقعی ہوئی تھی۔ اس مقصد کی خاطر انتہائی رازداری کے ساتھ ایک خصوصی ریل گاڑی تیار کر لی گئی تھی جسے نامعلوم منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔

ان دنوں ماسکو کے نواح میں ایک پرہیز گار بوڑھی عورت رہا کرتی تھیں، روسی عیسائی ان کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ وہ نابینا پیدا ہوئی تھیں لیکن روحانی بصارت کی بنیاد پر عام لوگوں سے کہیں زیادہ نگاہ رکھتی تھیں۔ وہ مریضوں کے علاج اور پیشین گوئی کرنے پر قدرت رکھتی تھیں۔ دارالحکومت کو خیر باد کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ستالن ان دنوں ان کے پاس پہنچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے تو نیک عورت کھڑکی کی جانب منہ کیے بیٹھی تھیں اور ان کی پشت ستالن کی جانب تھی۔ ستالن داخل ہوئے، اپنے ہمراہی کو چلے جانے کا اشارہ کیا تھا۔ بوڑھی خاتون خاموش رہی تھیں۔ ستالن کھنکارے تھے۔

اسٹالن : 17 نومبر 1941

”ستالن! کہیں تمہیں زکام تو نہیں ہو گیا؟ “ پرہیزگار خاتون نے دھیرے سے استفسار کیا تھا۔

”آداب! “ ستالن نے فوری جواب دیا اور کہا تھا، ”میں ٹھیک ٹھاک ہوں“۔

”یہ ہوئی نہ بات۔ اب تمہارا صحت یاب رہنا ہی کارآمد ہوگا۔ حالات دشوار ہیں اور جلد ٹھیک ہونے والے نہیں۔ مگر فرار ہونے کی خاطر خصوصی ریل گاڑی یونہی تیار کر لی گئی ہے۔ اس کی ضرورت نہیں ہے“۔

”آپ کو کیسے معلوم ہے؟ “ ستالن نے حیران ہو کر پوچھا تھا۔

”رب عالم کی جانب سے“، پرہیزگار خاتون نے دھیرج سے کہا تھا، ”مت جانا۔ جرمن ماسکو میں داخل نہیں ہوں گے“۔

”کیا میری فتح بھی ہوگی؟ “

نیک خاتون نے گردن گھمائی تھی:

”تماری نہیں، ہماری، تمام لوگوں کی فتح ہوگی۔ کیونکہ رب عالم ہمارے ساتھ ہے۔ ہاں تمہاری فتح بھی ہوگی۔ ۔ ۔ کیا فیصلہ کیا ہے، نہیں جاؤگے ناں؟ “

ستالن نے ایک کے بعد دوسرے قدم پہ زور دیتے ہوئے جوتیاں چرچرائیں تھیں اور کہا تھا:

”سوچنا پڑے گا۔ “

اسٹالن جرمن حملے کی خبر سننے کے بعد

ستالن ماسکو سے نہیں گئے تھے۔ ہٹلر کی کمان نے ماسکو کو سات نومبر 1941 کو قبضے میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عین اس روز کریملن کی دیوار کے اس جانب سرخ فوج کی پریڈ ہوئی تھی۔ سلامی ایوسف ستالن نے لی تھی۔ ٹینکوں کے پہیوں پہ چڑھے زنجیری حلقے جھنجھنا رہے تھے۔ فوجیوں کی قطاروں میں سائیبیریا سے پہنچے ہوئے لڑاکا دستے اور مشرق بعید سے آئے ہوئے چھاتہ بردار شامل تھے۔ پریڈ کے فوراً بعد وہ محاذ کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

دنیا میں اس پریڈ کی خبر سے زیادہ اہم خبر نہیں تھی۔ ماسکو کے نواح میں نازی فوج پہ جوابی حملہ کیا جا چکا تھا۔ سوویت کیمرہ مینوں نے ”ماسکو کے نواح میں جرمن فوج کی ہزیمت“ کے نام سے فلم تیار کی تھی۔ اسے دنیا کے کئی ملکوں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں اس فلم کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی تھی کیونکہ وہ پہلا ملک تھا جو ہٹلر مخالف اتحاد کا حصہ بنا تھا۔ وہاں کے لوگ یورپ اور افریقہ کے محاذوں پر نازیوں کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ 1943 میں ماسکو کے نواح میں ہونے والی لڑائی سے متعلق اس دستاویزی فلم کو بہترین دستاویزی فلم کے طور پر ”آسکر“ انعام دیا گیا تھا۔

ایسے لوگوں کو جو پیش بینی کرنے کی صلاحیات رکھتے ہیں، خیر و شر کے درمیاں بڑی لڑائیوں کا نقشہ بہت اچھی طرح سے دکھائی دے جاتا ہے۔ جیسا کہ حقیقی واقعات نے دکھا دیا تھا کہ ایسے لوگوں کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی تھیں۔

عمل تنویم کے نامور ماہر، پیش بین اور شعبدہ باز وولف میسنگ نے، جو بہت سے ملکوں میں اپنا شو پیش کیا کرتے تھے، ایک بار سٹیج پہ کہہ دیا تھا کہ اگر جرمنی نے سوویت یونین کے خلاف جنگ چھیڑ دی تو خود جرمنی کا فیوہرر جان سے چلا جائے گا۔ ہٹلر کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو بہت طیش کھایا تھا۔ انہوں نے میسنگ کے سر کی قیمت دولاکھ جرمن مارک لگا دی تھی۔ نازیوں کی خفیہ ایجنسی وارسا میں، میسنگ کو حراست میں لینے میں کامیاب بھی ہو گئی تھی لیکن گسٹاپو کے چنگل میں پھنس کر میسنگ نے محافظوں پر نیند طاری کر دی تھی اور حراست سے بھاگ نکلے تھے۔ پھر وہ سوویت یونین پہنچ گئے تھے۔

اسٹالن کا بیٹا جنگ میں گرفتار ہو گیا

سوویت شہروں میں میسنگ کے شو بہت زیادہ مقبول رہے تھے۔ وہ لوگوں پہ عمل تنویم کیا کرتے تھے اور لوگوں کی سوچ پڑھ کر بتایا کرتے تھے۔ 1940 کے موسم سرما میں، سوویت یونین پر جرمنی کے حملے سے کئی ماہ پیشتر انہوں نے سرخ فوج کی فتح کی پیشین گوئی کر دی تھی۔ میسنگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے برلن کی سڑکوں پر سرخ ستارے سے مزین ٹینک چشم تصور میں دیکھے ہیں۔ 1943 میں ایک شو کے دوران انہوں نے فتح کی صریح تاریخ 9 مئی بھی بتا دی تھی۔ اس پیشین گوئی کے بارے میں ستالن کو معلوم ہو گیا تھا۔ پھر جب 9 مئی 1945 کو جرمنی نے شکست کی دستاویز پر دستخط کر دیے تھے تو ستالن نے میسنگ کو تہنیتی تار ارسال کیا تھا۔

جنگ کے بعد ستالن نے میسنگ کو کریملن میں طلب کیا تھا۔ فنکار نے اپنی صلاحیات کا مظاہرہ کیا تھا۔ سوویت حاکم، پائپ پیتے رہے تھے اور کوئی خاص حیرت کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، بس پوچھا تھا:

” یہ بتائیں کہ اگر میں آپ کو یہاں سے باہر نہ نکلنے دینے کا حکم صادر کر دوں تو کیا آپ کریملن سے نکل سکتے ہیں؟ “

” کوشش کرکے دیکھوں گا“

یہ کہہ کر میسنگ نے ستالن سے رخصت لی تھی اور دروازے سے باہر نکل گئے تھے۔ وہ تمام حفاظتی حد بندیوں سے گزرتے ہوئے اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔ شام کو ستالن نے انہیں فون کیا تھا:

” یہ بتائیں کہ آپ نے ایسا کیونکر کیا؟ سب حفاظتی چوکیوں کو حکم تھا کہ آپ کو جانے نہ دیں۔ “

” بہت آسان تھا۔ آپ نے تو میسنگ کو جانے نہ دینے کا حکم دیا تھا۔ مجھے محافظوں کے دماغ میں ڈالنا پڑا تھا کہ میں مارشل ووروشیلوو ہوں“۔

ماورائی تاریخ دوسری جنگ عظیم کے اوائل سے ہی شروع ہو چکی تھی۔ 1941 کے موسم گرما میں، سوویت یونین پر فسطائی جرمنی کی یلغار سے کچھ کم عرصہ پہلے ستالن نے اپنے ہاتھوں سے امیر تیمور کے خاندان کی ابدی آرام گاہوں کو کھولے جانے کا حکم لکھا تھا۔ عظیم جنگجو تیمور نے پندھرویں صدی میں مرکزی ایشیا میں ایک بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ سالہا سال تک روس، ہندوستان، ایران اور چین سے برسرپیکار رہے تھے۔ تیمور کا مزار سوویت یونین کے شہر سمرقند میں واقع تھا۔

Conference of the Big Three at Yalta makes final plans for the defeat of Germany.

علم الحفریات کے ماہرین کا ایک بڑا گروہ وہاں پہ بھیجا گیا تھا جس کے ساتھ خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی تھے۔ کھدائی کا کام بہت سرعت سے کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے تیمور کے بیٹوں اور پوتوں کی ہڈیاں نکالی گئی تھیں۔ ان کی قبروں کے نیچے سبز رنگ کے سنگ خارا کی تین ٹن وزنی سل دھری تھی۔ اس پر تیمور کے بہت زیادہ اسماء کندہ تھے اور اس کامقبرہ کھولنے کی جسارت کرنے والے کے لیے انتباہ درج تھا، ”تیمور کے احکام کو پامال کرنے والے کو سزا ملے گی اور ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی“۔ ان ڈراونے الفاظ نے محققین کو لرزہ براندام کر دیا تھا لیکن سل کو پھر بھی ہٹایا گیا تھا۔ تیمور کی قبر 21 جون 1941 کو فاش کی گئی تھی۔ اگلے روز 22 جون تھا جب قبر کھودنے والوں نے ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ نازی جرمنی نے حملہ نہ کرنے کا معاہدہ توڑ تے ہوئے، سوویت یونین پہ یلغار کر دی تھی۔

مہم کے اراکین ماسکو لوٹ آئے تھے۔ کھدائی کے نتائج سے متعلق اور ہولناک تنبیہہ کے بارے میں ستالن کو کچھ ماہ بعد ہی آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسی لمحے حکم جاری کر دیا تھا کہ عظیم جنگجو اور ان کے رشتے داروں کی ہڈیوں کو پھر سے دفنا دیا جائے۔ تین حقائق پہ توجہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ تیموریوں کی باقیات کی پھر سے تدفین کے لیے اس زمانے کے حساب سے بہت زیادہ رقم مختص کی گئی تھی، اس رقم سے تب سولہ ٹینک بنائے جا سکتے تھے۔

دوسری یہ کہ دوبارہ دفن کیے جانے سے پہلے پورے ایک ماہ تک تیمور کی ہڈیاں ماہرین حفریات کی نظروں سے اوجھل رہی تھیں۔ مسلمان سپاہیوں نے، جو سرخ فوج میں کچھ کم نہیں تھے، تصدیق کی تھی کہ اس اثناء میں تیمور کی ہڈیاں محاذوں پہ لائی گئی تھیں۔ انہوں نے ان سے اسی طرح جذبہ جنگ حاصل کیا تھا جس طرح عیسائی اپنی مقدس اشیاء سے لیتے تھے اور آخری حقیقت یہ کہ تیمور اور اس کے خاندان کی ہڈیاں مکمل طور پر 20 دسمبر 1942 کو پھر سے دفن کر دی گئی تھیں۔

یہی وہ روز تھا جب ستالن گراد کی لڑائی میں سوویت فوج نے جرمن فوج کو پسپا کرنا شروع کیا تھا اور یوں پے لیوس کی فوج کا گھیرا توڑ ڈالا تھا۔ اس کامیابی سے ستالن گراد کے گرد مجتمع جرمن فوج کی ہمت ٹوٹ گئی تھی۔ ڈیڑھ ماہ بعد مارشل پے لیوس کو اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ جنگی قیدی بنا لیا گیا تھا۔ ستالن گراد کے نواح میں سوویت فوج کی فتح دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوئی تھی۔

امریک جریدے ”ٹائم“ نے ستالن کو ”مین آف 1942“ قرار دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی انہیں اس ہفت روزہ میں اہم ترین مقام دیا گیا تھا لیکن یہ خطاب سفاّک اور نابغہ شر کا خطاب تھا جبکہ اس بار انہیں شر کے ساتھ لڑائی کے ہیرو کا لقب دیا گیا تھا۔ انگریز بادشاہ جارج چہارم نے انہیں ایک علامتی تلوار بطور تحفہ بھجوائی تھی جس پر درج تھا، ”ستالن گراد کے آہنی عزم کے حامل شہریوں کی قدر کرتے ہوئے“۔

1943 میں تہران میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں ہٹلر مخالف تینوں اتحادی قوتوں کے سربراہ اکٹھے ہوئے تھے : ایوسف ستالن، فرینکلن روزویلٹ اور ونسٹن چرچل۔ کانفرنس کے نتائج سے ستالن یقیناً بہت مطمئن رہے ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ اتحادیوں نے ان سے وعدہ کر لیا تھا کہ وہ مئی سے پہلے لامانشا میں ایک اور محاذ کھول دیں گے اور دوسری بات یہ کہ کانفرنس کے شرکاء فتح کے بعد جرمنی کی تقسیم پر سمجھوتہ کر چکے تھے۔

مدبّر ونسٹن چرچل نے اپنی یادداشتوں میں ستالن کی کسی پراسرار قوت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: ”میں جو کہ ایک ارسٹوکریٹ ہوں، جب سٹالن داخل ہوئے تو ایک سپرنگ کی مانند کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ میں کسی شاگر کی طرح مستعد کھڑا ہوا تھا اور بازو پہلووں کے ساتھ سیدھے کیے ہوئے تھے“ ونسٹن چرچل نے یاد کرتے ہوئے بتایا تھا۔

1943 میں ہی سوویت یونین میں جو سرکاری لادینیت کے لیے کوشاں ملک تھا، قدامت پسند کلیسا کی تعقیب کا عمل انجام کو پہنچا تھا۔ عیسائی عبادت گاہیں، راہب کدے اور روحانی اکادمیاں کھول دی گئی تھیں۔ روس کا اسقف اعظم چنا گیا تھا۔ یہ ایک اور ماورائی کہانی کا نتیجہ تھا۔

سوویت یونین میں شامل ملکوں کی سلامتی کی خاطر سب سے زیادہ دعا کرنے والے لبنان کے پہاڑی علاقے انتیوہنسک کے اسقف ایلیا تھے۔ رب عالم سے روس کی حفاظت کرنے کی دعا کرنے کی خاطر وہ اعتکاف میں چلے گئے تھے۔ زیر زمین گہرائی میں پتھروں سے بنی ایک کٹیا میں اتر کر وہ دنیا اور اس کے شور سے آزاد ہو گئے تھے۔ کھانے پینے اور سوئے کو خود پر حرام کرکے وہ کٹیا میں بند ہو گئے تھے۔ بہتر گھنٹے بعد انہیں صدا سنائی دی تھی، جس میں انہیں وہ شرائط بتائی گئی تھیں جو روس کے لیے پوری کرنا لازمی تھیں۔

ایلیا نے لکھا تھا: ”عبادت گاہوں، راہب کدوں، روحانی اکادمیوں اور تعلیم گاہوں کو کھولا جانا چاہیے۔ سزا کے طور پر محاذ کے اگلے مورچوں پر بھجوائے گئے تمام پادریوں کو واپس بلا لیا جانا چاہیے تاکہ وہ فوری طور پر رب عالم کے لیے خدمات سرانجام دینے لگیں“۔ اعتکاف سے باہر آ کر اسقف موصوف نے روسی کلیسا کے نمائندوں اور سوویت حکام سے رابطہ کیا تھا۔ ان کی جانب سے بھیجے گئے تار اور خطوط آج بھی سابق کے جی بی کے محفوظ گھر میں موجود ہیں۔ ستالن نے ان شرائط پر پوری طرح عمل درآمد کر دیا تھا۔

فتح کے بعد اکتوبر 1947 میں ستالن نے ایلیا کو روس مدعو کیا تھا۔ اب بھی وہ فلم محفوظ ہے جو اس ملاقات کے موقع پر تیار کی گئی تھی۔ اسقف موصوف نے انہیں تحفے میں مقدس شبیہہ اور صلیب دی تھیں جن پر قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ ستالن کی جانب سے اسقف ایلیا کو دو لاکھ ڈالر کا عطیہ کیا گیا تھا جو انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ ان یتیموں کی اعانت کرنے میں برت لیے جائیں جن کے باپ دوسری جنگ کے زمانے میں اس دنیا میں نہیں رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •