ریاست جہاں کے شہری تقریروں کا نشہ کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے قبل آزاد کشمیر میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کو وزیراعظم عمران خان نے پیغام دیا تھا کہ میں آپ کا سفیر ہوں۔ جنرل اسمبلی میں آپ کا مقدمہ بھر پوراندازمیں پیش کروں گا۔ اسی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی قوم کو مشورہ بھی دیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کوپار کرنے کی غلطی نہ کریں۔ وجہ انھوں نے یہ بیان کی تھی کہ بھارت کو بہانہ مل جائے گا کہ پاکستان سرحد پار سے دراندازی کررہا ہے۔

لیکن اس سے بھی قبل وزیراعظم عمران خان نے خود دعا کی تھی کہ انتخابات میں نریندرمودی کی سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کامیاب ہو، تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے پر بات چیت شروع کی جاسکے۔ لیکن میں آپ کو اس دعا سے بھی پہلے لے جانے کی زحمت دوں گا۔ عمران خان جب وزیراعظم منتخب ہوئے تو انھوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کو بات چیت کی دعوت دی۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت پر نریندرمودی نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا حکم دیا۔

ان کے جہازایبٹ آباد تک پرواز کرکے چلے گئے۔ دوبارہ انھوں نے جرات کی لیکن اس مرتبہ پاکستانی فضائیہ کی جوانوں نے مذاکرات کی بجائے خوف وہراس اور بالادستی کے زعم میں مبتلا نریندرمودی کے دونوں جہازوں کومارگرایا۔ ایک ہوابازابھے نندن کوگرفتارکیا۔ بعد میں وزیراعظم عمران خان نے سب کے ساتھ مشاورت کے بعد نر یندر مودی کے اس مذاکرات کار کو چند دن بعد یہ کہہ کررہا کردیا کہ ہم نے جذبہ خیر سگالی اورامن کی خاطر یہ قدم اٹھایا۔ جس نریندر مودی کی کامیابی کے لئے دعا کی تھی کہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوجانے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے پران سے بات چیت کرنے میں آسانی رہے گی۔ اس نے پانچ اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کو مکمل بھارت میں شامل کردیا۔

ملک کی عوام اور وہ تمام دانشوراور کالم نگار جوتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تقریروں کو سننے کے بعد ان کو وزیراعظم بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ابھی چند روز ہی نہیں گزرے تھے کہ عوام اور وہ دانشور اور کالم نگار جو عمران خان کو ملکی مسائل کاواحد حل جیسے نظریے پرکامل ایمان لاچکے تھے، ان کا ایمان متزلزل ہونا شروع ہوگیا۔ قوم، دانشوروں اور کالم نگاروں کا خمار اس وقت اترگیا جب وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کو عثمان بزدار کے حوالے کیا۔

عمران خان کی تقریروں کے سحرمیں مبتلاعوام، دانشوروں اور کالم نگار وں کا مکمل نشہ اس وقت ختم ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کو نعیم الحق، افتخار درانی، یوسف بیگ مرزا اوردیگرغیرمنتخب لوگوں کے حوالے کیا۔ اگر کچھ اثر باقی تھا تووہ اس وقت کافورہوا جب وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی۔ اسد عمر کی جگہ پرانے پاپی عبدالحفیظ شیخ کو نامزد کیا۔ ایف بی آر جیسے اہم ادارے کو غیر سنجیدہ آدمی شبر زیدی کے حوالے کیا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کواس شخص کے سپرد کیا جس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وزارت صحت جیسے اہم وزارت کو غیر منتخب ڈاکٹر ظفر مرزا کو دے دیا۔ پیٹرولیم کے اہم شعبے کو ایک اورغیرمنتخب فرد ندیم بابرکی جھولی میں ڈال دیا۔ ترجمانی کا فریضہ ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کودے دیا۔ گزشتہ کئی سالوں سے عمران خان کی تقریروں کے سحر میں دیوانی عوام، دانشوروں اور کالم نگاروں نے جب ایک سال وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان اور ریاست مدینہ میں بسیرا کیا توچند مہینوں سے عوام نے کانوں کو ہاتھ لگائے جبکہ دانشوروں اور کالم نگاروں نے اپنی تحریروں میں ندامت کا اظہار کیا کہ یہ وہ سحر نہیں جس کا خواب عمران خان کی تقریروں کو سننے کے بعد وہ دیکھ چکے تھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دھواں دارتقریر کے بعد ایک مرتبہ پھرانہی مایوس اورعملی طورپروزیراعظم عمران خان سے برات کا اظہار کرنے والوں دانشوروں اور کالم نگاروں نے پھر سے ان کے شان میں قصیدے لکھناشروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے وہ وزیراعظم عمران خان کی دعاؤں کے طفیل ہے۔ ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ میں بات کرنا نری حماقت تھیں۔ لیکن کوئی بات نہیں بات وزیراعظم عمران خان نے کی ہے اس لئے ہر طرف بلے ہی بلے۔

حالانکہ ان دانشوروں کو وزیراعظم عمران خان سے سوال پوچھنا چاہیے تھا کہ ماحولیات اگر اتنا ہی اہم مسئلہ ہے تو یہ وزارت آپ نے کس کے سپرد کی ہے؟ گزشتہ ایک سال میں آپ کی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرزآزما ہونے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ لیکن بات چونکہ وزیراعظم عمران خان نے کی ہے اس لئے سوال پوچھنا غداری ہے۔ منی لانڈرنگ کا تذکرہ جنرل اسمبلی کے فلورپر کرنا ہرگز عقل مندی نہیں اس لئے کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔

اس کا حل اقوام متحدہ نے نہیں دینا بلکہ منی لانڈرنگ کوروکنے کاحل وزیراعظم عمران خان نے تلاش کرنا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں اس اہم مسئلے کوحل کرنے کے لئے حکومت نے کیا اقدامات کیے؟ کون سی قانون سازی کی گئی؟ کوئی بھی نہیں جانتا۔ لیکن تقریروں کے نشوں سے مدہوش دانشوراور کالم نگار سوال اٹھانے کی بجائے ایک مرتبہ پھر تقریرہی سے مدہوش ہو گئے ہیں۔ امید ہے کہ سال بعد پھر ان کا نشہ اتر جائے گا۔

پانچ سال بعد جب عمران خان دوبارہ ان دانشوروں اور کالم نگاروں کو اپنے ڈرائینگ روم تک رسائی دے گا تو پھر یہ تقریروں کے نشے سے مدہوش ہوں گے۔ پھریہ قومی روزناموں میں قوم کو بھاشن دیں گے کہ وزیراعظم عمران خان کو کام کرنے نہیں دیا گیا اس لئے ایک موقع اور دینا چاہیے۔ یہ تووقت ہی بتائے گا کہ ایک اور موقع ملے گا کہ نہیں یا یہ کہ تقریروں کے نشئی دانشوروں اور کالم نگاروں کو دوبارہ یہ توفیق ملے گی کہ نہیں کہ وہ عمران خان کے حق میں کلمہ حق لکھ سکے لیکن ایک حقیقت کہ جس سے انکار کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے وہ یہ کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ وزیراعظم عمران خان کی دعاؤں سے وزیراعظم نریندرمودی حل کر چکے ہیں۔

یہ دنیا ہے یہاں کسی کی مجبوری، مظلومیت یا کمزوری کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہاں طاقت کو دیکھا جاتا ہے کہ جو ملک بات کررہا ہے وہاں سیاسی استحکام ہے کہ نہیں۔ تجارتی منڈی میں خریدوفروخت ہورہی ہے کہ نہیں۔ جس ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو۔ جس ملک کی تجارتی منڈی سے دنیا کو فائد نہ ہو وہاں کا وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جتنی بھی دھواں دھارتقریر کرلے دنیا ان کا ساتھ نہیں دیتی۔ ہاں اس ملک کی عوام، دانشور اور کالم نگار جو تقریروں کے نشوں کا عادی ہوان کونئی زندگی ضرورمل جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •