بے ہنگم ٹریفک اور جلد باز عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین روز قبل صبح دفتر جاتے ہوئے ایک منچلے کی گاڑی پہ غلط کراسنگ سے میرا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے میری دائیں ہاتھ کی ہڈی فریکچر ہوئی اور میں گزشتہ کئی روز سے مکمل بیڈ ریسٹ پہ ہوں۔ مون مارکیٹ کے پاس ایک نوجوان نے انڈیکیٹردیے بغیر مجھے پیچھے سے کراس کرتے ہوئے گاڑی منی مارکیٹ طرف موڑ دی جس کی وجہ سے میں سڑک پر گر گیا اور گاڑی والے ”مہذب اور منچلے شہری“ نے گاڑی ایک لمحے کے لیے روکی، مجھے سڑک پر گرا ہوا دیکھا اور گاڑی دوبارہ بھگا لی تاکہ وہ اپنا جرم چھپا سکے۔

میرے ہاسپٹل کے ایک گھنٹے قیام کے دوران تقریبا چھے ”ایکسیڈنٹ کیس“ آئے جن میں ایک نوجوان بھی تھا جسے گاڑی کی ٹکر نے سڑک پر گرایا اور اس کے اوپر سے ٹرک گزر گیا۔ نہ گاڑی والا رکا اور نہ ہی ٹرک ڈارئیوراور یوں وہ انیس سال نوجوان ہسپتال میں آخری ہچکیاں لیتا ہوا دم توڑ گیا۔ میں پچھلے کئی دن سے اس نوجوان کی شکل نہیں بھلا سکا جو تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا اور لاہور کی بے ہنگم ٹریفک نے اسے وقت سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ میں چار گھنٹے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوا اور سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ مجھے اس موضوع پر تحقیق کرنی چاہیے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے لاہور سمیت پاکستان میں ایک ماہ کے دوران کتنے ”ایکسیڈینٹل کیسز“ آئے لہٰذا پنجاب ایمرجنسی 1122 کی کئی رپورٹیں نکالیں اور ششدر رہ گیا۔

پنجاب ایمرجنسی سروس ( 1122 ) کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران پنجاب کے 36 اضلاع میں 88,438 ایکسڈینٹ کیس ریکارڈ کیے گیے ۔ ان میں 25 فیصد ”سپائنل انجری“ جبکہ 85 فیصد ”موٹر سائیکل انجری“ ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب بھر سے روڈ ایکسیڈنٹ کی جو ایمر جنسی کالز ریکارڈ ہوئیں ان کی تعداد 27,362 بنتی ہے جن میں میڈیکل ایمرجنسی 48,002، فائرایکسیڈنٹ 2284، کرائم 2284، پانی میں ڈوبنے کی 141 اور بلڈنگ حادثات کی 44 کالز ریکارڈ ہوئیں۔

اگر ہم شہروں کی شرح نکالیں تو ایک ماہ کے دوران لاہور میں 6894، فیصل آباد 2763، گوجرانوالہ 1566، ملتان 2080، راولپنڈی 819 روڈ ایکسیڈنٹ کے کیس سامنے آئے جن میں 85 فیصد موٹر بائیک کے تھے اور ریسکیو ( 1122 ) کی رپورٹ کے مطابق نوے فیصد ایکسیڈنٹ ٹریفک کے قوانین کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ہوئے۔ پورے پاکستان سے ایک ماہ میں روڈ ایکسڈینٹ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 36000 ہے جو قابلِ تفتیش اور قابلِ افسوس ہے اور اگر ہم اسے عالمی سطح پر دیکھیں تو پوری دنیا میں روڈ ایکسیڈنٹ سے جاں بحق ہونے والو ں کی تعداد 1.2 ملین بنتی ہے اور ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح سب سے زیادہ ہے ان میں پاکستان کا بھی نام آتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اگر صرف ایک ماہ میں اتنے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے تو سالانہ شرح تو لاکھوں میں بنتی ہے۔ پاکستانی عوام کا سب سے پہلا مسئلہ تو جلدی پہنچنا ہے۔ یہ ہمیشہ گھر سے تب نکلیں گے جب کہیں پہنچنے میں صرف دس منٹ رہ جائیں گے اور پھر یہ بائیک کو یوں سرپٹ دوڑائیں گے کہ قوانین کی پابندی تو ایک جانب یہ تمام اشارے توڑتے، لوگوں کو روندتے آگے گزر جائیں گے کیونکہ انہیں وقت پہ پہنچنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ نے جگہ جگہ یہ جملہ جلی حروف میں لکھ دیا ہے کہ ”نہ پہنچنے سے دیر سے پہنچنا بہتر ہے“ مگر یہ قوم ہمیشہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتی ہے۔

موٹر بائیک والے منچلے تو ایک جانب رہ گئے، گاڑیوں پر سفر کرنے والے اس سے بھی بد تہذیب ہیں۔ یہ کاروں میں بیٹھ کر پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکلوں پہ سوار لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ تین روز قبل میری موجودگی میں جو کیسز ہسپتال میں آئے وہ سارے کے سارے گاڑیوں کی ٹکر سے گرنے والے لوگ تھے اور مجھے یہ تجربہ درجنوں بار ہوا کہ جب ہم گاڑی یا کار چلانے والے سے بحث کرتے ہیں تو وہ آگے سے انتہائی بدتمیزی کے ساتھ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ گاڑی والو ں کو جگہ دینا پہلا حق ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ پورے پاکستان کی ٹریفک ایک طرف اور صرف لاہور کی ٹریفک ایک طرف۔ یہاں لوگ ٹریفک کے رولز کو فالو کرنے کی بجائے اسے توڑتے اور ٹریفک وارڈنز کو دھمکیاں لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس معاملے میں لاہوری منچلے سرفہرست ہیں جن کو نہ تو اپنی جان کی پروا ہے اور نہ ہی کسی اور مہذب شہری کی۔ لاہور میں ای چالان سسٹم ہوتے ہوئے اگر ٹریفک حادثات کے اتنے کیسز سامنے آئے ہیں تو اس کا مطلب ہے اس ملک میں ای چالان کا تجربہ بھی ناکام ہو گیا۔

میرے ایک عزیز دوست کا کہنا ہے کہ اللہ نے اس قوم کے لوگوں کو گاڑیاں اور موٹر بائیک تو دے دیے مگر ان کو چلانے کی تمیز نہیں آئی اور شاید آئے بھی نہ۔ ہم آئے روز اپنے ارد گرد درجنوں ایکسیڈنٹ دیکھتے ہیں مگر پھر بھی نہ ان سے عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی اپنی جلد بازی پر قابو پاتے ہیں۔ آپ رکشہ یا چنگچی ڈرائیورز کو دیکھ لیں، یہ کبھی بھی ٹرن لیتے ہوئے پیچھے نہیں دیکھیں گے، اپنی دھن میں مگن، موسیقی انجوائے کرتے یہ سڑک پر یوں چل رہے ہوتے ہیں جیسے یہ روڈ صرف ان کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔ میرا خیال ہے زیادہ تر ایکسیڈنٹ ان کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اوپر سے رکشہ برادران بدتمیزی کا مظاہری کرتے ہوئے ہر اس شہری سے بحث کریں گے جو ان کو قوانین کی پابندی کا درس دے گا۔

اب ایسے میں ہم بالکل بھی گورنمنٹ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ ہر کام گورنمنٹ کے کرنے والا نہیں ہوتا۔ اب اگر ہم یہ کہیں گے کہ ہمارے گھروں کی صفائی، ہماری ٹریفک کی بد انتظامی اور ہمارے ذہنوں کی تربیت کا انتظام بھی گورنمنٹ کرے تو یہ محض بے وقوفی ہے اور کچھ نہیں۔ ایک امن پسند ملک کا شہری ہونے کے ناتے کچھ ہماری بھی ذمے داریاں ہیں جنہیں فالو کرنا چاہیے۔ لاہور سمیت ہر بڑے شہر میں جگہ جگہ ٹریفک وارڈنز اور ٹریفک پولیس موجود ہے جو ٹریفک کے قوانین توڑنے والوں کے مسلسل چالان کر رہے ہیں یہ مگر یہ قوم نہ چالان سے ڈرتی ہے اور نہ ہی آئے روز کی اموات اور ایکسیڈنٹ سے۔

میری اس قوم سے گزارش ہے کہ خدارا اس تباہی سے ملک کو نکالیں۔ کسی کی جان اس کی فیملی کے لیے کتنی اہم ہوتی ہے یہ ہمیں اندازہ بھی نہیں۔ کئی لوگ ایسے بھی ایکسیڈنٹ میں مرتے دیکھے جو گھر کے واحد کفیل تھے اور ان کی موت نے پورے خاندان کو متاثر کیا۔ ہم اپنی جلد بازی اور تیزی کی بھینٹ کب تک دوسرے لوگوں کو چڑھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک اپنے گناہوں کی سزا دوسرے لوگوں کو دیتے رہیں گے؟ ہمیں کیوں نہیں سمجھ آتی ہے ”نہ پہنچنے سے دیر سے پہنچ جانا بہتر ہے۔“

ہمارا یہ حال ہے کہ گزشتہ دنوں جب حکومت نے بائیک پہ بیٹھنے والے دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ کا اعلان کیا تو سب سے زیادہ شور لاہوریوں نے ڈالا۔ نئی حکومت کو گالیاں بھی دیں اور جی بھر کے برا بھلا کہا حالانکہ ہیلمٹ سے حکومت اور ٹریفک پولیس کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ ہماری اپنی جان کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔ جب بھی گورنمنٹ ٹریفک کے رولز کو سخت کرتی ہے عوام چیخ اٹھتے ہیں یہ سوچے سمجھے بنا کہ اس میں کسی دوسرے کا نہیں ہمارا اپنا فائدہ ہے۔ ہمیں اگر خدا نے گاڑی اور بائیک دیا ہے تو اسے چلانے کی تمیز بھی سیکھنی چاہیے کیونکہ ہماری معمولی سی غیر سنجیدگی کسی دوسرے کی جان لے سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •