! ہانگ کانگ کے شعلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ فی زمانہ پاکستان میں رحجان مقامی طور پر بنی ہوئی ”کراچی سے لاہور“ ٹائپ فلموں کا ہے لیکن آج سے تیس سال پہلے کے فلمساز، کہانی کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا نے کے قائل تھے۔ اس ضمن میں منیلا کی بجلیاں، بینکاک کے چور اور انٹرنیشنل گوریلے نامی فلمیں قابل ذکر ہیں۔ دلچسپ طور پر اس زمانے میں ڈرامے مقامی بنتے تھے، وقت بدلا تو ڈرامے دبئی اور استنبول شفٹ ہو گئے اور فلمیں کراچی سے لاہور اور پھر نارا ن، کاغان اور ہنزہ تک جا پہنچیں۔ پاکستان میں سی پیک کے اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے قوی امکان ہے کہ ہمارے ڈراموں اور فلموں کی اگلی منزل ارمچی اور کاشغر ہوں گے۔

ٹی وی پر ہانگ کانگ کی خوبصورت سڑکوں پر جاری احتجاج کی جھلکیاں دیکھیں تو اسی کی دھائی میں بننے والی ایسی ہی ایک معروف پاکستانی فلم ”ہانگ کانگ کے شعلے“ یاد آگئی۔ ان مظاہروں میں احتجاج کرنے والے، چہروں پر کچھ شناخت اور کچھ آنسو گیس سے بچنے کے لئے جدید طرز کے ماسک پہنے پیٹرول بم حکومتی دفاتر کے اندر بڑی بے دردی سے پھینکتے نظر آے۔ اندر سے اٹھنے والے شعلوں کو دیکھ کر سارے مظاہرین ہی مصطفیٰ قریشی کی طرح پرجوش تھے۔ اس سب کے بیچ خاتون ٹی وی رپورٹر، بابرہ شریف کی مانند اپنا دامن بچاتی اور کمال جرات سے رپورٹنگ کرتی نظر آئی۔

ہانگ کانگ میں قریب چار ماہ سے جاری یہ فسادات نما کشمکش قریب ایک صدی پر محیط برطانوی سامراج کی ان چند نشانیوں میں سے ہے جس کی بنیاد ظلم، نا انصافی اور بد نیتی پر مشتمل تھی۔ حیرت چینی/ ہانگ کانگ کی حکومت کی استقامت پر ہوتی ہے جو اس ہنگامے سے نبٹنے کے لئے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود اب تک نہایت صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی بھی قسم کے مظاہرین برطانیہ یا پھر امریکا کے حکومتی ایوانوں میں پیٹرول بم پھینکنے اور آگ لگانے کے کام کرتے تو کیا وہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اتنا ہی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے جتنا ہانگ کانگ یا چین کے پولیس والے کر رہے ہیں؟ تاہم ایسے حالات میں پولیس پاکستان کی ہو یا ہانگ کانگ کی وہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ملتے جلتے طریقے ہی استعمال کرتی ہے۔

میڈیا پر ان مظاہروں کو بھی اپنے اپنے نظریات اور مفادات کے مطابق دکھایا جا رہا ہے۔ مغربی ابلاغ ان ہنگاموں کو چین کی ننگی جارحیت اور آمریت کے طور پر دکھانے پر تلے ہوئے ہیں اور چینی اس کو مغرب باالخصو ص امریکا کی ملی بھگت قرار دے رہے ہیں۔ ان تمام سیاسی مصلحتوں اور بیانات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو برطانوی سامراجی نظام ہی قصور وار نظر اتا ہے۔ گو کہ برطانیہ کو ہانگ کانگ چین کے حوالے کیے دو دہائیاں گزر گئیں ہیں لیکن اس نظام کے اثرات آج بھی اس پر امن خطے کو چین نہیں لینے دے رہے۔

برطانوی سامراج کی زہریلی جڑیں صرف یہاں تک ہی محدود نہیں۔ فلسطین میں ستر سالوں سے جاری خون کی ہولی ہو، کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور بربریت ہو، مشرقی افریقہ میں کینیا کے مسائل ہوں یا پھر ہانگ کانگ جیسے خالص تجارتی اور ترقی یافتہ خطے کی فضاؤں میں اٹھتے ہوئے شعلے، ان تمام نا انصافیوں کے ڈانڈے برطانیہ سے ہی جا کر ملتے ہیں۔ گو کہ اب خود برطانیہ بریگزیٹ کے چنگل میں پھنس کر جگ ہنسائی کا شکار ہے۔ اور اندرونی طور پر شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے تاہم یہ تمام مشکلات فلسطین، ہانگ کانگ اور باالخصوص کشمیر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

جائز نا جائز سے قطع نظر کیا چین سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہانگ کانگ والوں کی طرح جلاؤ گھیراؤ ہی ضروری ہے اور کیا مغربی چین کے سنکیانگ کے پرامن مسلمان صرف اس لئے پابندیوں کے لائق ٹھہرے کہ وہ ہانگ کانگ کے لوگوں کی طرح فضاؤں میں شعلے بلند کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔ ہر ملک اور معاشرے کا بنیادی حق ہے کہ وہاں امن اور مساوات ہو۔ کیا ضروری ہے کہ کمزور لوگوں پر ریاستی ظلم روا رکھا جائے اور کیا یہ ضروری ہے کہ ہر امریکا کے لئے کوئی عراق اور افغانستان، ہر برطانیہ کے لئے کوئی مشرقی افریقہ، ہر سعودیہ کے لئے کوئی یمن، ہر اسرائیل کے لئے کوئی غزہ اور فلسطین، ہر فرانس کے لئے کوئی ٹوگو اور ہر چین کے لئے کوئی سنکیانگ ہو۔

بڑی ریاستوں کے دل بھی بڑے ہونے چاہئیں اور اگر اربوں آبادی والے یا اربوں ڈالر کے ذخائر رکھنے والے ملکوں کو کشمیر، یمن، سنکیانگ، افغانستان، عراق، فلسطین یا ہانگ کانگ جیسے خطوں سے خطرہ ہے تو پھر یہ واقعی قابل فکر ہے۔

ہانگ کانگ کے شعلے میں مصطفیٰ قریشی کا کردار ایک پاکستانی پولیس انسپکٹر کا ہے جو وہاں مجرموں کے ایک بین الاقوامی گینگ کا مقابلہ کرتا ہے اور پھر انھیں شکست فاش دیتا ہے کیوں کہ ظلم اور فلم گھٹن کے شعلے کشمیر میں بلند ہوں یا کہیں اور ان کا مقدر بالخیر تاریکی ہی ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •