ہمارے پاس صرف غصہ ہے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ ان کے مداح فتح کے ڈھنڈورے پیٹ رہے ہیں۔ حالانکہ اس تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران عمران خان نے جو کچھ کہا وہ مختلف مرحلوں پر پہلے بھی یہی سب بیان کرتے رہے ہیں۔ 9 / 11، اسلامو فوبیہ اور آر ایس ایس کے بارے میں وہ یہی ساری باتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایک تھنک ٹینک کے سامنے بھی دہرا چکے تھے۔ قبل ازیں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر سرکاری اہلکار، ترجمان دفتر خارجہ، اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی بھی تقریبا اسی سے ملتا جلتا بیانیہ پیش کرتی رہی ہیں۔

بغور دیکھا جائے تو اس بیانیے میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ یہ غصہ ساری دنیا کے خلاف ہے کہ مودی کے فاشسٹ، غیر انسانی، جابرانہ اقدامات کے باوجود دنیا ابھی تک ہماری بات سننے کو تیار کیوں نہیں، دنیا مسلسل بھارت کے بیانیے کے ساتھ کیوں کھڑی ہے، کشمیریوں کی آواز کیوں نہیں سنی جا رہی۔ دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز کیوں نہیں اٹھا رہی۔ اس خالی خولی غصے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ آج کا سب سے بڑا سچ ہے کہ مودی نے کنٹرول لائن سے لے کر سفارتی محاذ تک ہمیں ہر قدم پر پسپا کر دیا ہے۔ وہ ہمارے خلاف ایک ایسا ماحول استوار کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے جہاں ہمارے ہاتھ تو بندھے ہوئے ہیں لیکن اس کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ اس نے عالمی برادری کو ساتھ ملا کر ایف اے ٹی ایف کے ذریعے کشمیر میں کام کرنے والی تمام جہادی اور اسلامی تنظیموں پر ہمارے ہی ذریعے پابندیاں لگوا دی ہیں، حافظ سعید کو گرفتار کروا دیا ہے۔

اسلامی دنیا کو ہم سے تقریباً کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ دوست عرب ممالک جنہوں نے 3 ماہ پہلے ہمارے اقتصادی بحران پر 9 ارب ڈالر اور سستا تیل تو دے دیا تھا، سعودی عرب نے نیویارک جانے کے لئے جہاز بھی دے دیا لیکن کشمیر پر ہم سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ہے جبکہ دوسری طرف لپک کر مودی کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ یہ ناکامی ہماری ریاست سے ہضم نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی تقریر اسی بد ہضمی کا نتیجہ تھی۔ ہر جملے میں ایگزائیٹی تھی، غصہ تھا، بے بسی تھی۔

خارجہ پالیسی کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ بہت زیادہ سخت محنت اور تگ و دو سے ہم اس سفارتی تنہائی کی بند گلی میں پہنچے ہیں۔ ہم پچھلے 30 سالوں سے اس خطے میں ہونے والی تمام عالمی سازشوں کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ ہم نے تمام دوست پڑوسی ملکوں کے ساتھ بار بار دانستہ زیادتیاں کی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر ہم نے جو ورلڈ ویو اپنایا تھا اس سے افغانستان، ایران اور چین بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ پھر ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام، سیاسی جماعتوں کے خلاف سازشیں، چھوٹے صوبوں اور قومیتوں کے ساتھ زیادتیاں بھی ان 40 سالوں میں نان سٹاپ جاری رہیں، کبھی پس پردہ تو کبھی کھل کر سامنے آکر حکومتیں ختم کی گئیں۔

مقبول لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اقتدار سے اور منظر سے ہٹایا گیا اور اس کام کے لئے عدالتوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ اس سیاسی اور انتظامی افراتفری میں معیشت اور اقتصادی ترقی ممکن ہو سکتی ہے نہ ہو سکی۔ سو اس کمزور سیاسی اور معاشی ڈھانچے والا ملک 9 / 11 جیسے عالمی سانحے کا بوجھ کیسے اٹھا سکتا تھا۔ مشرف کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کہ وہ ضیاء الحق کی نرسری کے خلاف امریکی بلڈوزر چلا دے۔ اس ریاستی تضاد نے پاکستانی طالبان کو جنم دیا اور دنیا کو اس نئی عفریت سے ڈرانے کے لئے ہم نے خیبر پختون خواہ کے کئی ڈویژن ان مذہبی جنگجوؤں کے حوالے کر دیے اور ملک کو خطرناک دہشتگردی میں جھونک دیا۔

اسی دوران نائن الیون کے کئی مبینہ ملزم جو القاعدہ کے سرگرم کارکن بھی تھے پاکستان سے گرفتارکیے جانے لگے۔ دنیا اس وقت دنگ رہ گئی جب امریکیوں نے ایک آپریشن کے ذریعے سب سے زیادہ مطلوب اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد آ کر شکار کیا۔ ان واقعات کے بعد بھارت اور اسرائیل سمیت پاکستان دشمنوں نے بھی اپنا منفی کھیل کھل کر کھیلا جس سے ہم دنیا سے الگ تھلگ ہوتے چلے گئے۔ چین اور سعودی عرب اس سب کے باوجود پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے لیکن ہم نے گزشتہ چند سالوں میں اپنی پالیسیوں سے انہیں بھی محتاط کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں مقیم سینیئر پاکستانی صحافی انور اقبال کا کہنا ہے کہ اسامہ کی گرفتاری کے واقعے نے پاکستان کے بارے میں دنیا کو انتہائی محتاط کر دیا تھا اور اس سفارتی تنہائی کے پیچھے اس واقعے کا گہرا عمل دخل ہے۔

بہر حال یہ سچ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ساری دنیا آپ کے خلاف ہو جائے اور پھر ہم یہ سمجھیں کہ دنیا مختلف معاشی اور کاروباری مقاصد کے لئے بھارت سے بلیک میل ہو رہی ہے، درست تجزیہ نہیں کہ اپنے تئیں صرف ہم ہی سچے ہوں۔ اس بات کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے ملک کو انصاف اور شفافیت سے چلانے میں کامیاب نہیں ہوں گے تو آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جمہوری اور سیاسی شفافیت بڑھانی پڑے گی۔

کوئی ادارہ آئین کے متوازی نہیں چل نہیں سکتا۔ سب کو آئین اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ لوگوں کو حقوق دینے پڑیں گے، چھوٹے صوبوں اور قومیتوں کی آواز سننا پڑے گی۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بغیر دباؤ کے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک شفاف اور جمہوری سوسائٹی تعمیر کرنی پڑے گی۔ غدار بنانے کی فیکٹریاں بند کرنا پڑیں گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد ملک کے طور پر ہماری بات اس خطے میں اور اس سے باہر سنی جائے تو ہمیں پھر سے اپنے لوگوں پہ اعتماد کرنا پڑے گا۔

عدم استحکام اور افراتفری کی بجائے ملک میں صحتمند فضا قائم کرنا پڑے گی۔ ڈیموکریسی کے نام پر پتلی تماشا ختم کرنا پڑے گا۔ سب اداروں کو اپنی حدود میں رہنا پڑے گا۔ تبھی معیشت بہتر ہو گی اور خوشحالی آئے گی، سارے صوبے مل کر اس ملک کے وفاق کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے، وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے جب ہم دنیا کے سامنے خود دار ملک بن کر چلیں گے تو پھر ترقی کے راستے نکل سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •