تین کلو تقریر اور پانچ لیٹر خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ شناسی اور ”تاریخ سازی“ میں فرق کرنا ہو تو عدنان کاکڑ صاحب سے زیادہ با اعتماد اور بھروسے والا آدمی کون ہو سکتا ہے، جو کئی نو آموز کالم نگاروں کے علاوہ بے شمار کہنہ مشق اور تجربہ کار لکھاریوں کو ”تاریخ سازی“ کرتے بارہا رنگے ہاتھوں پکڑ چکے ہیں۔ ہم بھی ایک دو بار لائیو ان کے ہتھے چڑھ چکے ہیں جس کے بعد ہمارے چودہ میں سے کم ازکم سات طبق تو موقع پر روشن ہو گئے تھے۔ خیر اس کی تفصیلات پھر کبھی سہی، اس وقت محترم کاکڑ صاحب کی یاد اس لیے آئی کہ ہمیں حافظے میں کلبلاتی کچھ تاریخی شخصیات کی تاریخی تقاریر خواب پریشان کی طرح یاد آ رہی تھیں جن میں انہوں نے تاریخی ہزیمت اور پسپائی سے ذرا پہلے یا کچھ دیر بعد انتہائی یادگار اور شاندار تقاریر فرمائی تھیں۔ کاکڑ صاحب ان تاریخی حوالوں کی تصدیق کر دیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔

اس سلسلے میں پہلا سیاپا ہمیں اندلس کی آخری ریاست غرناطہ کے فرماں روا ابو محمد عبداللہ کے حوالے سے یاد آرہا ہے جو محل سے رخصتی کے وقت زارو قطار رو رہا تھا۔ اس پر اس کی عمر رسیدہ ماں نے تاریخی تقریر کی تھی جس کا لب لباب یہ ہے کہ جس عظیم سلطنت کی حفاظت تم مردوں کی طرح نہیں کرسکے اس پر عورتوں کی طرح ٹسوے مت بہاٶ۔

اگر میرا حافظہ ٹھیک کام کرہا ہے تو جعفر از بنگال اور صادق از دکن نے بھی ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے بعد بڑی دلگداز اور پرسوز تقاریر کی تھیں۔ شاہ عالم ثانی نے بھی غلام قادر روہیلہ کے قتل عام سے پہلے سنا ہے بڑی پر تاثیر تقریر کی تھی۔ یاد رہے کہ غلام قادر روہیلہ نے بڑی بے دردی سے شاہ عالم کی آنکھیں نکلوا دیں تھیں۔

یہ تو ابھی کل کا دلخراش واقعہ ہے کہ انیس سو اکہتر میں تاریخی پسپائی سے محض چند گھنٹے پہلے تک ٹائیگر نیازی نے حالات پر مکمل گرفت اور ہندوستان کی سپاہ کو دھول چٹانے کے حوالے سے نہایت ولولہ انگیز، جذباتی اور قلوب و اذہان کو جھنجھوڑنے والی تقریر کی تھی۔

اپنے ہزاروں سپاہیوں کو کارگل کی بے سود جنگ کی آگ میں جھونکنے سے قبل بھی ہمارے کسی سے نہ ڈرنے ورنے والے کمانڈو جنرل نے یادگار اور دلگداز تقریروں کے انبار لگادیے تھے۔

خیر اس حوالے سے یقیناً سیکڑوں اور بھی تاریخی واقعات ہوں گے مگر اپنی کم علمی کی وجہ سے ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم ”تاریخی“ تقریر کے بعد والی صورت حال پرسوشل میڈیا پر چلنے والے کچھ متفرق لطائف قارئین کی نذر کرنا چاہتے ہیں :

ورلڈ کپ سے بمشکل جان چھوٹی تھی کہ اب یہ تقریر قوم کے گلے پڑ گئی۔

ڈی جے بٹ کو اعلٰی حکام کی طرف سے احکامات جاری کیے جاچکے ہیں کہ کپتان کی تقریر کی ریکارڈنگ کرکے انڈیا کے بارڈر پر اونچی آواز میں بجایا جائے نیز ریکارڈنگ کی ایک ایک سی ڈی مقبوضہ کشمیر میں قید سیاسی لیڈروں اور محصورین تک بھی پہنچائی جائے۔

آج میری دو مرتبہ بے عزتی خراب ہوئی;ایک بار اس وقت جب جنرل سٹور پر جا کر سیلز مین سے کہا کہ پانچ کلو تقریر پیک کر کے دے دو اور دوسری مرتبہ اس وقت جب پٹرول پمپ پر جا کر ہانک لگائی کہ دو لیٹر تقریر بائیک میں ڈال دو۔

تین چیزوں پر کبھی اعتبار نہ کرنا
مسکراتی ہوئی لڑکی
خاموش بیٹھا ہوا کتا
عمران نیازی کی تقریر

جب طرم خان حکومت کرتا ہے تو سب سوئے رہتے ہیں۔ جب تقریر کرتا ہے تو سب جاگ اٹھتے ہیں۔
اس وزیر اعظم کو تقریر کے لیے رکھ لو، کام کے لیے کوئی دوسرا وزیر اعظم لے آٶ۔

کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ اگر تقریر ہی سے وابستہ ہو گیا تو علامہ خادم رضوی، زید حامد اور شیخ رشید جیسے لوگوں کو آزمایا جائے۔

آخر میں ان احباب کے لیے ایک لطیفہ جنہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کوئی تقریر سنی ہے۔ ایک ڈڈو کی کی پیدائش کے تیسرے ہفتے بڑی طوفانی بارش ہوئی اور جل تھل ایک ہو گیا۔ ڈڈو نے برجستہ کہا کہ ”میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ طوفانی بارش نہیں دیکھی۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •