تقریر اور کارکردگی میں فرق ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کی تیز اور گرج دار آواز سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں گونجی اور کہا کہ سکیورٹی کونسل انصاف دلانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ میں اور میرا ملک کسی ظالمانہ فیصلے کو نہیں مانتے، ہم اپنے ملک اور اپنی عزت کی خاطر لڑنے کی تاریخ بھی رکھتے ہیں اور حوصلہ بھی۔ سکیورٹی کونسل بے شک کسی جابرانہ فیصلے کو قانونی شکل فراہم کردے لیکن میں اس فیصلے کا حصہ نہیں بنوں گا اور ہم اپنا ہی فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے، ساتھ ساتھ یہ بھی بتادوں کہ میں اس اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کررہا ہوں بلکہ اس اجلاس کو غیر اہم سمجھتے ہوئے چھوڑ کر جا رہا ہوں۔

اس نے اپنے سامنے میز پر پڑی ہوئی پولینڈ کی متنازعہ اور قابل اعتراض قرارداد اُٹھائی اور اسے پرزے پرزے کر کے ہال کے اندر بیھٹے مندوبین کی طرف اُڑا دیا اور تیز تیز قدم اُٹھاتا ہال سے باہر چلا گیا۔ (بعض افراد کے مطابق بھٹو صاحب نے پولینڈ کی قراردار نہیں اپنے نوٹس چاک کیے تھے: مدیر)

اس شخص کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا جو نہ صرف اپنے وقت کے ذھین ترین لیڈروں میں سے ایک تھا بلکہ اس کی انگریزی تقریروں، الفاظ کے چناؤ، باڈی لینگویج، اور اعتماد نے ایک زمانے کو حیرت زدہ کر کے رکھ دیا تھا لیکن یہی بھٹو اپنی جادوئی تقریر کی جذباتی فضا سے نکلا تو حقائق مختلف بھی تھے اور مشکل بھی کیونکہ نوّے ہزار پاکستانی اور پانچ ہزار مربع میل زمین دشمن کے قبضے میں تھے۔

اب بھٹو کی تقریر، الفاظ کے چناؤ اور جذباتیت کی بجائے حقیقت بصیرت اور عملیت کا وقت تھا سو چند دن بعد وہ ہندوستان کے شہر شملہ میں دشمن اندرا گاندھی کے ساتھ بیھٹے نظر آئے اور اپنے قیدی چھڑا لائے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ بھٹو کی تقریر سے ہمیں صرف ذہنی سکون کی عیاشی ملی لیکن عملی فائدہ شملہ مذاکرات اور عملی قدم اٹھانے سے ہی ممکن ہوا۔

وزیراعظم عمران خان نے یو این فورم پر یقینًا ایک قابل داد اور مدلّل تقریر سے بہت سے تحفظات عالمی برادری کے سامنے رکھے جس نے درد دل رکھنے والے ہر پاکستانی کا دل جیت لیا۔

اس تقریر کے دوران عمران خان کے اُٹھائے گئے سوالات ہمارے دشمنوں کو برہم بہت کریں گے لیکن بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اب مزید الرٹ بھی رہنا ہوگا اور اس الرٹ ہونے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو غیر روایتی اور بولڈ اقدامات کرنے ہوں گے۔ مثلاً کشمیر پر دو ٹوک اور اتفاق رائے پر مبنی مؤقف اور عملی اقدامات، کرپشن اور میرٹ کی پامالی پر قابو پانا۔ عدالتی نظام میں اصلاحات اور انصاف کا حصول سہل بنانا۔ معاشی استحکام اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ، اظہار رائے کی آزادی اور نیب گردی کے ذریعے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے جیسے عوامل سے اجتناب بھی کرنا ہوگا۔

اور یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف وطن عزیز کے استحکام، معاشی بحالی، امن اور بقاء اور جمہوری عمل کی مضبوطی کی طرف جاتا ہے بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہمارے ظاہری اور خفیہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکامی سے دوچار کرنے کا واحد حل بھی فراہم کر تا ہے۔

اُمید ہے کہ وزیراعظم عمران خان ماضی کی سیاست اور کنٹینر کلچر کو الوداعی ہاتھ ہلا کر لیڈر شپ اور سنجیدگی کی طرف پیش رفت کریں گے۔ جس سے اس ملک کے بائیس کروڑ خاک نشینوں کی زندگی میں ایک خوش گوار تبدیلی آئے گی لیکن اگر خُدا نخواستہ ایسے کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو پھر تقریر کو کنٹینر کا تسلسل ہی سمجھنا ہوگا۔

ایک ہجوم تو ویسے بھی خان صاحب کو میّسر ہے، عمران خان کے ہاتھ وقت لگا ہے کہ اس ہجوم کو قوم میں تبدیل کرے کیونکہ تاحال بے شعوری اور جذباتیت ہی ان کا کل سیاسی اثاثہ ہے۔

ابھی ابھی ایک ”کیچ اینڈ ٹریپ“ ٹائپ محفل سے گریز کی خواہش کے باوجود بھی پھنسنا پڑا تو ”واردات مخصوصہ“ کے ماہر ایک ریٹائرڈ پروفیسر اپنی جہالت ایک ڈھٹائی کے ساتھ ہمارے سروں پر انڈیلتا رہا جس کی تان اسی پر ٹوٹتی رہی کہ ایک تقریر سے ہمارے تمام مسائل ختم ہو گئے بلکہ موصوف بضد تھے کہ یہ تقریر نہ تھی بلکہ ایک روحانی صحیفے کی آمد تھی۔

اگر بالفرض ایسا ہی تھا تو کیوبا کے فیدرل کاسترو کی اقوام متحدہ میں کی گئی پانچ گھنٹے کی تاریخی تقریر نے اس کے ملک کیوبا کی غربت اور تنہائی میں کتنی کمی کی تھی؟ فلسطین کے یاسر عرفات نے اسی فورم (یو این ) پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے ایک ہاتھ میں بندوق ہے اور ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ۔ آپ کا انتخاب کون سا باتھ ہے؟ لیکن پھر اسی یاسر عرفات کو کیمپ ڈیوڈ میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنا بھی پڑا تھا۔

اور ہاں اپنے بھٹو صاحب نے سکیورٹی کونسل میں ایک جذباتی خطاب کے دوران پولینڈ کی قرارداد پھاڑ کر پھینک دی تھی لیکن پھر شملہ معاہدہ احتیاط کے ساتھ سنھبال کر رکھنا بھی پڑا تھا۔

اور یہی تو وہ دانائی ہے جو ہمیشہ ایک تقریر اور عملی کارکردگی میں فرق کو واضح بھی کرتا ہے اور نتائج کو اثبات اور کامیابی کی طرف گامزن بھی کر دیتا ہے۔ جس سے قوموں پر ثمر بار موسم اترتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •