باوقار موت کا کلینک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولیم کا سٹریچر کلینک میں ایسے داخل ہوا جیسے اس کی زندگی کا ہوائی جہاز طویل مسافت کے بعد رن وے پر لینڈ کر رہا ہو۔ اس نے ویٹنگ روم میں چاروں طرف دیکھا۔ موت کی پرچھائیاں پوسٹروں کی صورت میں اس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ موت زندگی ہے۔ زندگی کی انتہا موت ہے۔ صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے جو زندہ رہنا چاہتے ہوں۔ باعزت موت کے لیے DIGNIFIED DEATH CLINICڈی ڈی سی کی طرف رجوع کیجیے۔

اس کی اپاؤنٹمنٹ میں ابھی آدھ گھنٹہ باقی تھا۔ ولیم کی پرائیویٹ نرس شیرن اس کے ساتھ آئی تھی۔ ولیم کے سراپا میں اس کی زندگی کی تھکاوٹ پھیل چکی تھی۔ وہ شیرن کا سہارا لیتے ہوئے سٹریچر پر بیٹھ گیا۔ مجھے ڈائجوکسن کی گولی دینا۔ وہ تو تم آدھ گھنٹہ پہلے کھا چکے ہو۔ اور پیشاب کی گولی؟ وہ تو تم صرف پیر ’بدھ‘ اور جمعے کو کھاتے ہو اور آج ہفتہ ہے۔

شیرن تم بہت مہربان ہو۔

اس کی روح کا تمام تر درد اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا۔ اکثر نرسیں مہربان ہی ہوتی ہیں۔ شیرن نے اس ہاتھ تھپتھپایا۔

مجھے کچھ پانی پلاؤ۔

شیرن اسے ایک گلاس لا کر دیتی ہے اور پانی پینے میں مدد کرتی ہے۔

شیرن میں ہر چیز بھول کیوں جاتا ہوں؟

زندگی کے اس دور میں بہت سے لوگ اپنی یادداشت کھو بیٹھتے ہیں۔

میں نہ پڑھ سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں نہ سوچ سکتا ہوں۔ زندگی ایک بار بنتی جا رہی ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

شیرن خاموش رہتی ہے۔

۔ ۔

ویٹنگ روم میں نرس داخل ہوتی ہے

میرا نام مونیکا ہے۔ میں ڈی ڈی سی کی رجسٹرڈ نرس ہوں۔ آپ کا نام؟

ولیم۔

تاریخِ پیدائش؟

یاد نہیں تقریباٌ پچھتر برس کا ہوں۔

آپ کا پتہ؟

اسی شہر میں رہتا تھا۔ اب تو آپ کا کلینک ہی میرا پتہ ہے۔

آپ کا سوشل انشورنس نمبر؟

میرے بریف کیس میں ہے۔

کیا آپ وصیت لکھ چکے ہیں؟

ہاں میرے وکیل کے پاس ہے۔

آپ کی انشورنس؟

اس کا بھی انتظام ہو چکا ہے۔

کیا آپ اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو خط یا تار بھینا چاہتے ہیں؟

نہیں

کیا آپ کسی چرچ یا پادری کو مطلع کرنا چاہتے ہیں؟

نہیں شکریہ۔

آپ کتنی دوائیں کھاتے ہیں؟

ایک گولی دل کے درد کے لیے۔ ایک گولی گردوں کے لیے اور ایک گولی ضعفِ جگر کے لیے۔

ان کے علاوہ کوئی اور علاج کرواتے ہیں؟

ہر تین مہینے کے بعد ڈائلاسز کرواتا ہوں۔

آپ کو جو علاج یہاں ہوگا اس کا خرچ کون ادا کرے گا؟

میری انشورنس کمپنی۔ معاف کرنا نرس تمہارا نام کیا ہے۔ میں بھول گیا۔

مونیکا۔ ولیم اس کلینک میں مرنے کے تین طریقے ہیں۔ تین منٹ کا تین گھنٹوں کا اور تین دنوں کا۔ آپ کون سا طریقہ پسند فرمائیں گے؟

مجھے پہلے یہ بتائیں کہ میرے مرنے کے بعد میرے جسم کا کیا ہوگا؟

جو آپ پسند فرمائیں۔ کیا آپ دفن ہونا چاہتے ہیں۔ جلنا چاہتے ہیں یا اپنا جسم سائنس کی تحقیق کے لیے تحفہ دینا چاہتے ہیں۔

کیا میرے جسم کا کوئی حصہ کسی کے کام آ سکتا ہے؟

آپ کی آنکھیں۔

سنا ہے میرا خون جو او نیگیٹو ہے (o۔ ) ہے وہ بھی ریسرچ کے کام آ سکتا ہے۔

درست ہے۔

تو ایسا انتظام کرنا کہ میری آنکھیں اور خون لینے کے بعد باقی جسم جلا کر بحرِ اوقیانوس میں اس کی راکھ پھینک دینا۔ کیا تین منٹوں یا تین گھنٹوں میں مرنے سے اس پر کچھ اثر پڑے گا؟

ہاں اگر تین گھنٹوں میں مرو گے تو تمہارے اعضا سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

تو پھر تین گھنٹوں کا علاج ٹھیک ہے۔

کیا تم گھر میں اکیلے رہتے تھے؟

ہاں۔ لیکن میری پانچ پرائیویٹ نرسیں ہیں۔ جو ایک ایک ہفتہ میرا خیال رکھتی تھیں۔ آج کل میرے ساتھ شیرن ہے۔

کیا تم مرتے وقت شیرن کو اپنے کمرے میں رکھنا چاہو گے۔

ضرور۔

میں یہ سب کچھ لکھ کر لے آؤں گی تا کہ تم دستخط کر سکو اور اس کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے۔

بہت خوب۔

تم کب مرنا چاہو گے؟

کل شام۔

بہت خوب۔ ولیم اس کلینک میں ایک محکمہ نفسیات کی ٹیم بھی ہے جو موت و حیات کے موضوعات پر ریسرچ کر رہی ہے۔ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو وہ آپ کا انٹرویو لے لیں۔

ضرور انہیں اندر بھیج دیں۔ لیکن سنو نرس تمہارا نام کیا ہے؟

مونیکا۔

۔ ۔ ۔

میں رابرٹ ہوں اور یہ سنتھیا ہے۔ ہم نفسیات کے شعبے کے طالب علم ہیں آپ سے کچھ سوال پوچھیں گے۔

ضرور پوچھیں میں بھی دس سال فلسفہ پڑھاتا رہا ہوں۔

آپ مرنا کیوں چاہتے ہیں؟

میں زندگی سے تھک چکا ہوں۔ ایک وہ وقت تھا جب میں زندگی سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ اب وہ میرے کندھوں پر بوجھ بن گئی ہے اور میں دوسروں کے کندھوں پر بوجھ بن گیا ہوں۔

کیا آپ اپنے پیچھے دنیا میں کچھ چھوڑے جا رہے ہیں؟

ہاں میں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں۔ جو فلسفے کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہی میری اصل وراثت ہے۔

آپ نے زندگی میں سب سے زیادہ مشکل کیا پایا؟

الوداع کہنا۔ لیکن جب میں نے الوداع کہنا سیکھ لیا تو زندگی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا۔

کیا آپ کو زندگی سے کوئی شکایت رہی ہے؟

نہیں۔

۔ ۔ ۔

ولیم! میرا نام ڈاکٹر سمتھ ہے۔ کیا تم تیار ہو؟

بالکل۔

ہم دو طرح کی گیس استعمال کرتے ہیں۔ موت کو پرسکون بنانے کے لیے۔ ایک سے انسان مسکراتا ہے دوسری سے رو دیتا ہے۔ تم کون سی پسند کرو گے؟

مسکرانے والی۔

ہم تمہیں نشہ آور ادویہ کے کمرے میں لے چلیں گے جہاں تمہارے ساتھ صرف شیرن ہوگی۔

بہت خوب۔

۔ ۔ ۔

شیرن! میں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے نیند آ رہی ہے۔

میرے ماتھے پر بوسہ دو۔ گڈ بائے۔

۔ ۔ ۔

ولیم کی راکھ بحرِ اوقیانوس کی سطح پر بکھرتی ہے اور اس کی تہہ میں بڑے سکون سے بیٹھ جاتی ہے۔

بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر بہت سے طلبا اس واقعہ سے سے بے خبر ولیم کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 257 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail