وڈیو فیم جج ارشد ملک نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے خلاف درخواست دے دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ کیس میں سزا سنانے کے بعد مبینہ نازیبا وڈیو کی پاداش میں منصب سے ہٹائے جانے والے جج ارشد ملک نے ایک درخواست میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم اور ملزمان نے جان بوجھ کر گٹھ جوڑ بنایا تا کہ ان کا ویڈیو سکینڈل کیس تباہ کیا جائے۔

درخواست کے مطابق ایف آئی اے نے انتہائی مشکوک انداز میں تفتیش کی جس کی وجہ سے تین اہم ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ سے ”کلین چٹ“ مل گئی، مجسٹریٹ کی طرف سے ملزمان کی رہائی کے چند دن بعد جج ارشد ملک نے ڈی جی ایف آئی اے کے نام درخواست میں لکھا ہے ”مجھے یہ علم ہوا ہے، جس پر میں حیران اور مایوس ہوں، تفتیشی ارکان نے مذکورہ تینوں ملزمان سے ملی بھگت کر لی، پی آر پی سی کی سیکشن 169 کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ ناصر جنجوعہ، غلام جیلانی اور خرم یوسف نہ تو آڈیو بنانے میں ملوث پائے گئے اور نہ ہی انہوں نے اس کی نمائش کی اور اس کو منتقل کیا۔ یوں انہوں نے ایف آئی آر کے مواد کی روشنی میں بامقصد، آزادانہ، پروفیشنل اورمکمل تفتیش کا حق ادا نہیں کیا، تینوں ملزمان کو ڈسچارج اور رہا کرنا پی آر پی سی کی سیکشن 169 کا نتیجہ ہے۔

تفتیشی ٹیم کے دو ارکان نے اس ضمن میں جو درخواست دائر کی وہ غلط، غیر قانونی اور شکایت کنندہ ( جج ارشد ملک) کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ تفتیشی ٹیم کے ارکان اور تینوں ملزمان کی ملی بھگت اور بے ایمانی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے“

یہ صورت حال ایک ایسے وقت پیدا ہوئی جب ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن ایک لمبی چھٹی پر چلے گئے ہیں اور ایف آئی اے کی نئی ٹیم جس کے سربراہ بابر بخت ہیں وہ آج (پیر) اس کیس کے بارے میں اسلام آباد سائبر کرائم کورٹ میں مقدمے کے تازہ ثبوت پیش کرے گی۔

 اخباری ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک جو آج کل او ایس ڈی ہیں، بار بار کے نوٹسز کے باوجود بھی ایف آئی اے ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔  جج ارشد ملک نے مزید دعویٰ کیا کہ تفتیشی ٹیم میری ویڈیو شکایت سے ابھرنے والے حقیقی سوالات کے تناظر میں مناسب، بامقصد اور جامع تفتیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، اور ایف آئی آر میں انہیں دیے گئے مخصوص رول کے ریفرنس میں بھی وہ تینوں ملزمان سے مناسب طریقے سے تفتیش نہیں کر سکی۔ ظاہر یہ ہوتا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے دقیق تجزیے، مصدقہ ثبوت، حقیقی مواد کے بغیر ملزمان کا زبانی انکار، بیان اور موقف تسلیم کر لیا، یہ اس طرح کے معاملات میں تفتیش کے بنیادی معیارات کے خلاف ہے اور انہوں نے جو کچھ جمع کرایا اس سے بھی تفتیشی ٹیم کے ارکان کا تینوں ملزمان کے حق میں تعصب اور دھوکے کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنی درخواست میں کمیشن پر سنگین الزامات لگائے اور کہا دوسری باتوں کے علاوہ انہوں نے بلیک میل کیا، انہوں نے کریمنل جسٹس کی انتظامیہ میں مداخلت کی سازش کو بھی اجاگرکیا جس کے لئے ویڈیو کو استعمال کیا گیا، تفتیشی ٹیم نے بظاہر ملزمان کی زبانی تردید کو قبول کر لیا یوں وہ قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی، نتیجہ کے طور میری شکایت کے ازالے کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوئی، مزید براں ایف آئی آر کی روشنی میں اس جرم میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف پراسیکوشن کے قانونی حق سے بھی غیرقانونی اورنامعقول دباؤ کے ذریعے مجھے محروم کر دیا گیا، یہ سب ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو غیر ضروری فائدہ پہنچانے کے لئے کیا گیا۔ جج نے کہا کہ ان کاتفتیشی ٹیم سے تمام اعتبار اٹھ گیا ہے جو افضل محمود بٹ، فضل معبود اور فاروق لطیف پر مشتمل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •