واقعی 1973ء کے بعد پہلی مرتبہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب محمد اظہار الحق ہمارے بڑے اعلیٰ پائے کے منجھے ہوئے کالم نگار ہیں۔ اُن کا کالم ”1973 کے بعد پہلی مرتبہ“ پڑھا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر کو 1973 کے شاہ فیصل کے واقعے سے جوڑتے ہوئے مغرب کے لیے دوسری بار یہ سب سے زیادہ حیران کن واقعہ قرار دیا۔ اس میں تو بہرحال کوئی مبالغے والی بات ہے ہی نہیں کہ وزیر اعظم کا خطاب مُدّلل، پُراعتماد، ادائیگی اور جسمانی تاثرات کے اعتبار سے بڑا اثر انگیز اور شاندار اپنے موقف کو واضح کرتا اور بولنے والے کے اندر کے سچ کو نمایاں کرتا ایک گہرے اور فکر انگیز احساس کو ابھارنے کا باعث تھا۔ مگر سوال ہے کہ بڑی طاقتیں اس سے کس حد تک اثر لیں گی جب کہ انہیں اپنی ترجیحات کی تکمیل کے لیے اخلاقی ضابطوں کا قطعاً کوئی نہ خیال ہے اور نہ احساس۔

آپ نے 1973کا ذکر کیا جب شاہ فیصل نے مغرب کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف تیل کی برآمد بند کر دی تھی۔ اس کا تفصیلی پس منظر بھی ذرا دیکھ لیں۔

1973 میں سادات نے اسرائیل کو سینائی تک دھکیل کر ثابت کردیا کہ اسرائیل کوئی ایسی بھی نا قابل تسخیر شے نہیں۔ اور یہی چیز اسرائیل کو انگاروں پر لوٹانے لگی۔ امریکہ جنگ میں نہ کُودتا تو معاملہ آرپار ہو جانا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ کے بااثر ترین یہودیوں کی جان اس میں پھنس گئی کہ اسرائیل کو فوجی لحاظ سے مزید مضبوط کیا جائے۔ اسرائیلی ملٹری آتاشی مورڈیکائی نے امریکی ایڈمرل تھامس مورر جوائنٹ چیف آف سٹاف سے مطالبہ کِیا کہ امریکہ اسرائیل کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے Maverickٹینک شکن میزائل سے آراستہ جنگی جہاز دے۔ مورر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسے ہوائی جہازوں کا صرف ایک سکواڈرن ہی تو ہے۔ یہ کیسے دیا جا سکتا ہے اور اگر یہ بھی دے دیا گیا تو کانگرس نے حشر کر دینا ہے۔

اسرائیلی ملٹری اتاشی نے تلخی سے کہا۔

”تم اپنی یہ لن ترانیاں بند کرو۔ جہازوں کا بندوبست کرو۔ کانگرس کو سنبھالنا میرا کام ہے۔ “

اور اُس نے جو کہا تھا وہ پورا کروایا۔ امریکی صدر تو اُن کی جیبوں میں رہتے ہیں اوراسرائیلی سفارت خانہ عملاَ کانگرس پر حاوی ہے۔ جون 1967ء کے بعد سے دو سو بلین ڈالر کی فوجی اور مالی امداد غزہ اور ویسٹ بینک کے راستے سے براہ راست آ رہی تھی۔

تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں نے امریکہ سے بارہا اصرار کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے معاملے میں توازن رکھے اور اسرائیل کو 1967ء کی پوزیشن پر واپس بھیجے۔ مگر اب ہنری کسنجر اسرائیل کا لاڈلا، چہیتا اور اس کا مربّی نکسن کو مزید امداد کے لیے اُکسانے لگا تھا۔ 1973 میں جونہی اسرائیل کو 220 کروڑ ڈالر کی ہنگامی مدد کا اعلان ہوا۔ سعودی عرب نے فوراً امریکہ کو تیل کی فراہمی پر پابندی لگا دی۔

لیجئے وخت پڑ گیا۔ ایک بھونچال آ گیا۔ اب کسنجر ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ امریکی سفارت کاروں کی ایک یلغارہے جو شاہ فیصل کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی ہے۔ کسنجر کا لہجہ بڑا جذباتی تھا جب اُس نے کہا۔

” یور ایکسنی لینسی میرا جہاز ایندھن نہ ملنے کے باعث رن وے پر ناکارہ کھڑا ہے۔ اسے بھرنے کا حکم دیں۔ امریکہ آپ کا ہمیشہ ممنون رہے گا۔ “

شاہ فیصل کی آنکھیں جذبات سے عاری تھیں جب انہوں نے کہا۔

” مسڑ ہنری میری بھی ایک دیرینہ تمنا ہے کہ میں مسجد اقصٰی میں دو نفل ادا کر سکوں۔ کیا آپ میری خواہش کی تعمیل کریں گے“۔

سچ تو یہ ہے کہ شاہ فیصل جیسے دلیر اور سچے مسلمان نے قدم اٹھا لیا تھا۔ مگر انجام کیا تھا۔ 1975ء میں سی آئی اے اور برطانیہ کی M16 نے شاہ فیصل کو اُس کے بھتیجے کے ہاتھوں مروا دیا تھا۔ اور بھٹو کے انجام سے بھی ہم بخوبی واقف ہیں۔ یہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا اسرائیل انہیں ایک مغربی سفارت کار کی رائے میں جس نے انہیں بڑی خرانٹ اور عیار قسم کی رنڈیوں کا نام دیا ہے کہ جو اپنے مطلب کے لیے تلوے چاٹ لیں اور مطلب نکلنے پر ٹشو پیپر کی طرح پونچھ کر پھینک دیں۔

عمران خان کے خطاب میں کشمیر کے مسلمانوں کے لیے جس اضطراب اور دکھ کا اظہار تھا اُسے وسطی ایشیائی امور کے وزیر خارجہ کی معاون ایلس ویلز نے کچھ پسندیدگی سے نہیں دیکھا اور کچھ طعنہ گوئی کے سے انداز میں برسرعام کہہ بھی دیا کہ میں مغربی چین کے مسلمانوں بارے بھی ایسی ہی تشویش دیکھنا پسند کروں گی۔

بہرحال عمران خان کی یہاں سمجھداری کی داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے عقل مندی سے معاملہ نپٹا دیا۔ میرے خیال میں ایسا کرنا بھی چاہیے تھا۔ میری ناقص رائے میں ہم پاکستانیوں کو جذباتیت اور سارے جہاں کے مسلمانوں کا درد ہمارے جگر میں ہے جیسے مظاہرے سے اجتناب کی ضرورت ہے۔

ابھی کچھ ہی ماہ پہلے پاسبان حرم کا شہزادہ محمد بن سلمان چین کے دورے پر گیا تھا۔ ایک بار بھی اس نے سنکیانگ کے مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا کہ سنکیانگ کو بڑے بڑے حراستی مراکز میں کیوں بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔

یہ علاقہ پہلے چینی ترکستان تھا مگر اب یہ سنکیانگ یعنی Border Land کہلاتا ہے۔ گو یہ لوگ امن پسند اور صلح جو قسم کے ہیں مگر اِن میں کچھ قوموں کے شرپسند بھی گُھس آئے ہیں جو ان کی مسلمانیت کو بلیک میل کرنے اور انہیں شورش بپا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

سوویت کے ٹوٹنے اور جنگ کے خاتمے کے بعد اِن ازبکوں، تاجکوں جیسے جنگجو گروپوں کا رخ سنکیانگ کی طرف تھا۔

سوال ہے جب آپ کِسی ملک میں رہتے ہیں تو اُس قوم اور ملک کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب انہوں نے اپنے لوگو ں پر مذہب بین کیا ہوا ہے تو پھر اقلیتوں سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے پر امن رہیں۔ آپ اُن کی دانائی اور بصیرت دیکھئیے انہوں نے 2009 میں جماعت اسلامی جیسی جماعت کو نو روزہ دورے کی دعوت دی اور ہر سطح پر اُن سے مذاکرات کیے۔ ان کی باتیں سنیں اور اپنی سُنائیں۔ آپ لوگ اُن کے عملی اور غیر جذباتی ہونے کا اِسی امر سے اندازہ لگا لیں۔

اس میں شک نہیں اگر جذباتیت سے ہٹ کر دیکھیں اور تجزیہ کریں تو محسوس ہو گا کہ چین امریکہ کی طرح قطعی احسان فراموش قوم نہیں۔ ایک بار نہیں بارہا ان کی اعلیٰ قیادتوں نے کھلے عام اس کا اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کے احسانات کو کبھی نہیں بھلا سکتے جو اس نے ابتدائی مراحل میں دنیا اور خاص کر امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات استوار کرنے میں کردار ادا کیا۔ آپ اس کے برعکس امریکہ کو دیکھ لیں۔ کیسے آپ کی سرزمین کو لہو میں نہلا دیا۔ کیسے آپ کو استعمال کیا اور کیسے آپ کو پھینک کر چلتا بنا۔ پاکستانی قوم کو جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت بدل رہا ہے۔ آنے والا وقت چین کا ہے۔ اِس سپر پاور کی تیاری کے لئے قدرت خود راہیں ہموار کر رہی ہے۔

یہ درست ہے کہ امریکہ میں مذہبی رواداری اور احترام ہے۔ آپ مسجدیں بنائیں، مندر بنائیں۔ مسجدیں آباد اور درس و تدریس کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔ ہر علاقے کے مسلمان اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم کیلئے مسجدوں میں بھیجتے ہیں۔ تراویح ہوتی ہیں، افطاریوں اور سحریوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ یار لوگ فٹ پاتھوں پر جہاں جی چاہے، سجدہ دے سکتے ہیں۔ کوئی روک ٹوک کوئی پابندی نہیں۔ مگر یہ ان کے چہرے کا ایک رُخ ہے۔ دوسرا رُخ آپ دیکھتے ہیں کتنا خوفناک اور گھناﺅنا ہے۔ اِن لوگوں کے دہرے تہرے معیار ہیں۔ کتے کے پلّے اور بلّی کے بلونگڑوں کیلئے یہ لوگ مرے جاتے ہیں مگر فلسطین، عراق، شام، کشمیر کے مظلوموں پر ٹینک توپیں چلیں ان کی انہیں پرواہ نہیں۔ حکومتوں اور طاقتوں کے اپنے اپنے فلسفے اور اپنے عزائم ہوتے ہیں۔

خان اپنا امیج ایک بار پھر عروج پر لے گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ ملکی مسائل کو بالغ نظری اور کُھلے ویژن سے دیکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •