اگر کرپشن کے بے تاج بادشاہ جیل کے اندر ہیں تو کرپشن کے یہ ایجنٹ کس کے بھیجے ہوئے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاڑیوں کے ٹیکس ٹوکن ادا کرنے کے لیے اسلام آباد کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں لوگ لمبی قطاروں میں بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے اپنی باری کے انتظار میں گھنٹوں پسینہ بہاتے نظر آتے ہیں۔ تقریباً 4 سے 5 گھنٹے کے لمبے انتظار کے بعد آپ کے ٹوکن کی باری آ ہی جاتی ہے۔

اسلام آباد کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں لمبی قطاروں کو مد نظر رکھتے ہوئے اکتوبر کے مہینے تک ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کی تاریخ میں 30 اکتوبر تک توسیع بھی کر دی گئی ہے۔ مگر ریاست مدینہ کی حکومت اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے نوٹسز کے باوجود اسلام آباد کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گاڑیوں کے ٹیکس ٹوکن آن لائین کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے نہ ہی ملک کے  دارالحکومت اسلام آباد کے گاڑیوں کے ٹیکس ٹوکن آن لائین ہو سکے نہ ہی ایجنٹ مافیا سے نجات مل سکی۔

بزرگ، خواتین اور معذور افراد کی قطار اور بورڈ تو الگ لگائے گئے ہیں مگر ہر کسی کو لائین میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا پھر چاہے کوئی کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو۔ حکومت نے اسلام آباد کی دس سالہ 1000 سی سی پرانی گاڑیوں کے لیے 10 ہزار روپے کے عوض لائف ٹائم ٹوکن کی سہولت تو دے دی ہے مگر ساتھ ہی بغیر غور و فکر کے دس سالہ پرانی گاڑیوں کے ٹیکس ٹوکن ڈاکخانوں میں جمع کرنے کی سہولت ختم کر دی ہے۔ اس لیے تمام دس سالہ پرانی گاڑیوں کا ٹیکس ٹوکن جو دس ہزار روپے ہے وہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں ہی جمع ہونے کے وجہ سے آفس کے اندر اور باہر ہر وقت لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے نت نئے طریقے آزما رہی ہے مگر عوام اس تمام تر عمل میں خواری کا سامنا کر رہے ہیں۔

فرض کریں اگر کسی 2003 ماڈل 1000 سی سی گاڑی کا سالانہ ٹوکن ٹیکس 350 روپے ہے اب اس کو بھی 11 ہزار کے عوض لائف ٹائم ٹوکن ہی لینا پڑے گا مگر دیکھا جائے تو 350 روپے سالانہ ٹوکن والی گاڑی 30 سالوں میں بھی 350 روپے سالانہ کے حساب سے ٹیکس کی بھرپائی کرتی تو تب بھی 11000 ہزار روپے پورے نہ ہو پاتے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کے اندر باہر جگہ جگہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے سٹینزن پورٹل کے اشتہارات اور ایجنٹوں کا داخلہ منع ہے کے بینرز آویزاں ہیں مگر انہیں بینرز کے سائے تلے کرپشن اور ان ایجنٹ مافیا کا بازار سرگرم عمل ہے

اگر حکومت اپنے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے تو پھر کیسے ہوگا ریاست مدینہ کا قیام اور اچھا طرز حکومت اور کیسے ہو گا اس کرپشن کا خاتمہ جس کا تذکرہ ہمیشہ ہی وزیر اعظم عمران خان صاحب کے لبوں پر رہتا ہے۔ اگر کرپشن کے بے تاج بادشاہ جیل کے اندر ہیں تو کرپشن کے یہ ایجنٹ کس کے بھیجے ہوئے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •