ٹرولائیز، سیکرڈ گیمز، آپریشن ٹائیگر ٹرمپ اور وزیراعظم کی تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی گئی تقریر پر حسب دستور، ایک طرف سے تحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں، تو دوسری طرف سے ناک بھوں چڑھائی جارہی ہے۔ ایک طرف والے اسے وزیراعظم کی بہادری، دوراندیشی اور اسلام دوستی کی نشانی بتاتے ہیں تو دوسری طرف اسے ان کی بے شمار تقریروں اور ان پر ان کی لی گئی یو ٹرنوں میں سے ایک اور اضافہ بتاتے ہیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ عمران خان کی تقریر کے آخری حصے، یعنی کشمیر کو، اسلامو فوبیا والے حصے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، تو انہوں نے مستقبل قریب میں رونما ہونے والے ایک گھمبیر صورتحال اور اس پر عالمی ضمیر کی بے حسی کی طرف واضح اشارہ کیا ہے۔

جبکہ موسمی تبدیلیوں، دریاؤں، گلیشئرز کا پانی، پانی کے بھارت کے ساتھ مشترکہ ذرائع کی طرف اشارے بھی کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، انہوں نے اپنی تقریر میں بتانے کی کوشش کی ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا عالمی برادری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کی بجائے اسے عالمی امن اور موسمی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ جنگ ہوئی اور خدانخواستہ معاملات ایٹمی جنگ تک پہنچے، تو یہ لڑائی صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں ہوگی۔

بلکہ موسمی تبدیلیوں کے بارے میں فکرمند دنیا اور ان بے قابو حالات کے درمیان ہوگی، جن کی بنا پر اس علاقے میں گلیشئرز پگھلنے، طغیانیاں آنے اور اس کی وجہ سے بدترین موسمی تغیرات وقوع پذیر ہونے اور اس کے اثرات ساری دنیا پر پڑنے ہیں۔ تو اگر عالمی برادری واقعی موسمی تغیرات کے بارے میں فکرمند ہے تو پھر اس علاقے میں موجود ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بھی غور وفکر کریں۔ اس لئے عمران خان کی یو این تقریر، کنٹینر پر کھڑے، یوٹرن لینے کے لئے مشہور عمران خان کی تقریر کے برعکس، ایک فکرمند سیاست دان کی پیشنگوئی ہے۔ جس کے ذریعے انہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔

تقریر کے آخری حصے میں، کشمیر سے کرفیو اٹھانے اور کشمیریوں کی پلوامہ جیسا ردعمل کی صورت میں وقوع پزیر ہونے والے جنگی خدشات کی نشاندھی بھی کی ہے۔ کیونکہ یہی اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، اقوام متحدہ کی اصل ڈیوٹی ہے، یعنی وقوع پذیر ہونے والی جنگوں کی روک تھام۔

”ٹرولائیز“ ہالی ووڈ کی مشہور فلم ہے۔ اس فلم میں وسطی ایشیاء میں موجود ”اسلامی“ دہشت گرد، مسافروں سے بھرے ہوائی جہاز کو اغوا کرکے امریکی شہر پر گرانا چاہتے ہیں۔ کہانی بیان کرکے دیکھنے والوں کا مزا کرکرا نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا بتاتا ہوں کہ یہ فلم نائن الیون کے ”سچے“ واقعے پر نہیں بنی بلکہ اس سے کئی سال پہلے بنی تھی۔ اب دہشت گردوں نے اس فلم سے متاثر ہوکر نیویارک پر حملے کیے یا فلم کے بنانے والوں کو ایسے حملے کی سن گن پہلے کہیں سے ملی ہوئی تھی، بتایا نہیں جاسکتا۔

قانون کے رکھوالے جو کام وردی پہن کر قانونی تقاضوں کی پابندیوں میں سرانجام دیتے ہیں خفیہ ادارے ویسے کام دوسری طرح کرتے ہیں۔ صرف دہشت گرد یا آزادی کے لئے لڑنے والی تنظیمیں، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے، حملے کرنا، انقلابات برپا کرنا اور سیاسی قتل و مقاتلے میں ملوث نہیں ہوتے، خفیہ ادارے بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ جو وہ دشمن کو بدنام کرنے، دنیا یا اپنی حکومت کو کسی نکتہ نظر پر قائل کرنے، اپنے رواں آپریشن کو رکوانے سے بچانے، اپنے لئے مخصوص مراعات لینے یا برقرار رکھنے، مزید فنڈز لینے یا فنڈز میں کٹوتی سے بچنے کے لئے کرتے ہیں۔ ایسے آپریشنز کو فالس فلیگ آپریشنز کہتے ہیں۔ پلوامہ واقعے کے سارے سیگنیچرز بھارتی خفیہ ایجنسی کے فالس فلیگ آپریشن کی طرف اشارے کرتے ہیں۔

نیٹ فلیکس پر اختتام پذیر ہونے والے حالیہ ڈرامہ سیریل ”سیکرڈ گیمز“ مذہبی کھیل کھیلنے والوں کی کہانی ہے۔ جو چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ ہوجائے تاکہ ان کی ”مرضی“ کی دنیا بن جائے۔ ڈرامے کی ہر قسط میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ناراض مسلمانوں کے ذریعے، پاکستانی خفیہ ایجنسی، ممبئی میں ایک ایٹمی دھماکہ کرانا چاہتی ہے۔ لیکن ڈرامے کے آخر میں ثابت کیا جاتا ہے کہ اس سارے منصوبے کے پیچھے ایک ہندو جنونی گروہ ہے، جو چاہتا ہے کہ ممبئی میں ایٹمی دھماکہ کرانے کے بعد، بھارت پاکستان پر ایٹمی حملہ کرے۔ یوں موجودہ ”کلیوگ“ یعنی بری دنیا ختم ہو جائے گی اور ایک خوبصورت وقت کا آغاز ہوجائے گا۔

مذہبی جنونیت، اس دنیا اور زندگی سے نفرت اور کسی نامعلوم دنیا کے لئے، اس دنیا کی بے قدری اور تباہی (قربانی) ، سب مذاہبِ کی مشترکات ہیں۔

وزیراعظم کی یو این تقریر میں تنگ آئے ہوئے کشمیریوں کے پرتشدد ردعمل کے بارے میں واضح اشارے موجود تھے، لیکن جس بات کی طرف انہوں نے کسی حکمت کی وجہ سے اشارہ کرنا مناسب نہیں سمجھا، وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کا فالس فلیگ آپریشن ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی برادری کی بھارت کے ساتھ موجودہ خسروانہ طرزعمل اور برسرزمین صورتحال، اس طرح کی فالس فلیگ آپریشن کے لئے موزوں ترین ماحول مہیا کرتی ہے۔ نیویارک میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مودی کے مشترکہ جلسے میں کھلی دھمکیوں سمیت تیزی سے بدلتے ہوئے بین الاقوامی سیاسی مفادات کی نامعلوم سمت میں کروٹ لینے کے لئے واضح پیغام تھا۔

ٹرمپ نے جس والہانہ انداز میں ہندوؤں اور ہندوستان سے اپنی محبت اور دوستی کا اظہار کیا۔ اس نے مجھے صدر ریگن کی یاد دلادی۔ جب اس نے گلبدین، ربانی، نبی محمدی، مجددی اور گیلانی کے لئے وہائٹ ہاؤس میں جائے نمازیں بچھائیں اور ان کو امریکہ کے بانیان کے برابر قرار دیا۔ اس جلسے میں مودی کی باتوں کو نظر انداز کیا جائے تو ٹرمپ کی تقریر کو نظرانداز کرنا خود فریبی ہوگی۔ ٹرمپ نے ہندوؤں اور ہندوستان کے لئے اپنی محبت کے اظہار کے بعد بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا کہ وہ اپنے دوست، مودی کے ساتھ ”اسلامی دہشت گردوں“ کے خلاف، ملکر لڑے گا۔ اپنی سرحدات کو محفوظ بنائے گا۔

نومبر میں انڈیا کے ساتھ ملکر ”ٹائیگر ٹرائمپ“ کے نام سے مشترکہ فوجی مشقوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گا۔ اگر ٹائیگر ٹرائمپ، الفاظ کے اندر موجود معنی کو کھول کر دیکھا جائے تو انڈین ٹائیگر (مشہور نسل)، مودی، اور ٹرائمپ، ٹرمپ کا متبادل ہے۔ یوں ان مشقوں کا مطلب مودی اور ٹرمپ کی طاقت کا مظاہرہ ہوگا۔ کیونکہ جب ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹائیگر ٹرائمپ کا اعلان کیا۔ تو ان الفاظ کو نئے نویلے چیونگم کی طرح ان الفاظ کو چباتے چباتے بتایا کہ یہ نام مجھے بہت پسند ہے۔

اب اگر کوئی اسلامی دہشت گردوں سے مراد ترکی، سعودیہ یا ملائیشیا لیتا ہے، تو اس کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کیا ان ممالک کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام کسی بین الاقوامی فورم پر موجود ہے؟ اگر کوئی ایران پر شک کرتا ہے، تو عرض ہے، کہ ایران تو انڈیا اور افغانستان (امریکہ) کو، شاہراہ لاجورد اور چاہ بہار کی رعائتیں دینے والا، ان کا تیسرا بزنس پارٹنر ہے۔ پھر مذکورہ ممالک کے ساتھ انڈیا اور امریکہ کا کون سا مشترکہ بارڈر یا بارڈر کا مسئلہ موجود ہے؟ البتہ پاکستان کا انڈیا کے ساتھ مشرقی بارڈر مشترکہ اور کہیں کہیں پر متنازعہ (کشمیر) ہے۔ جبکہ مغربی بارڈر امریکہ (افغانستان) کے ساتھ مشترکہ اور مسائل سے بھرپور ہے۔ یاد رکھیں امریکہ نے جب بھی کسی قوم کے ساتھ دوستی اور اتحاد کا اعلان کیا ہے تو وہ ہمیشہ کسی تیسرے ملک کے خلاف ہوتا ہے۔

اکتوبر کی وسط سے لے کر مارچ تک پاکستان کا چین کے ساتھ مشترکہ بارڈر برف باری کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے۔ انڈیا کو فرانس سے رافیل لڑاکا طیارے مل جانے ہیں۔ امریکی صدر طالبان سے مذاکرات ختم کردیتا ہے اور ان کو بدترین مار مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔ پاکستان پر پریشر ڈال کر طالبان کو پریشرائز کرکے افغان انتخابات پرامن کرادیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اشرف غنی جن کے ساتھ طالبان بیٹھنا توہین سمجھتے تھے، دوبارہ تخت افغانستان پر براجمان کردیا جاتا ہے۔

نومبر میں ٹائیگر اور ٹرمپ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے جاتے ہیں۔ بیرون ملک سے ہمیں اخلاقی، سیاسی، سفارتی، جغرافیائی (چین بارڈر)، معاشی یا کسی بھی قسم کی تعاون کی امید نہیں۔ تو مختاروں کو چاہیے کہ اندرون ملک کھیلا جانے والا، چور سپاہی کا بدترین طریقے سے ناکام کھیل، بند کیا جائے۔ حزب اختلاف پر چھوڑے گئے اخلاقی جواز سے محروم، نیب کے کرتا دھرتا اور اسمبلی میں موجود شیخوں، چوہانوں اور نامرادوں کو قابو کیا جائے۔

کیونکہ یہ اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کرکے سرجوڑنے کا وقت ہے۔ اور جب بہت سارے سر آپس میں جڑ جاتے ہیں، تو اتفاق کی برکت سے بند راستے کھل جاتے ہیں۔ اور لاینحل مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ آسان راستہ قاسم سوری والا ہے۔ آٹھ دس دھاندلی زدہ نشستوں کو عدالت کے ذریعے خالی کروا کر، قومی حیثیت کے، باہر کیے گئے بڑے بڑے سیاستدانوں کو، اسمبلی میں لایا جائے تاکہ اندرون ملک موجود ٹینشن کم ہوکر بیرون ملک بڑھتے ہوئے خطرات کے لئے یکسوئی سے سوچنے اور عمل کرنے کے حالات پیدا کیے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •