ایک اکیلی بڑھیا کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن کے کنارے شام کے ساحل سے جا ملے تھے اور اندھیرا پوری طرح سے طاری ہونے کے قریب تھا، لاہور کی سڑکوں پر حسب معمول رش کافی سے زیادہ تھا، پیدل چلنے والوں کو سڑک قدرے توقف سے رک کر پار کرنا پڑتی تھی، میں کہ جس کی یونیورسٹی بس چھوٹ چکی تھی سڑک پر پیدل چلنے والوں کے ہمراہ اپنے خیال کے مطابق جسے سڑک پار کرنے میں ماہر پاتی اُس کے ساتھ جلدی سے بھاگ کر سڑک پار کرتی جاتی، یہاں تک کہ بڑا میٹرو بس اسٹیشن کراس کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ فیڈر بس اسٹیشن پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئی

شام کی زردی مائل سیاہ پڑتی سرخی میں ایک کالے ہاتھوں والا بھُٹہ فروش اپنی ریڑھی پر دو آخری سِٹے رکھے جلد بیچ کر گھر جانے کی آس میں کھڑا ہر آنے جانے والے راہ گیر کو تکتا تھا، گویا اپنے آخری گاہک کی تلاش میں ہو، ایک لمحے کو میرا جی چاہا کہ میں اس سے دونوں سٹے خرید لوں، نگاہ پلٹ کر دو بار اس کے چہرے پر گئی لیکن مسلسل آگے بڑھتے قدم نہیں روک سکی

بس آچکی تھی اور مسافروں سے کچھا کھچ بھری تھی کہ پاؤں رکھنے کی جگہ تک میسر نہ تھی، پچھلے اسٹیشن سے بیٹھے مسافر اترے تو سوار ہونے کی سہولت با مشقت ممکن ہو سکی

بس میں بھرپور رش تھا، کسی کو ایک دوسرے میں دلچسپی نہیں تھی، ایک دوسرے کے انتہائی قریب کھڑا ہونے کے باوجود مسافروں کو بظاہر ایک دوسرے کی ذرا پرواہ محسوس نہ ہوتی تھی، بس چلی اور چلتی رہی، مختلف مقامات پر مختلف لوگ اترے، سڑکوں پر ہر طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں، ٹریفک سگنلز پر رکنا مسافروں کو مسلسل بیزار کیے دیتا تھا، مکمل ڈھل چکی شام کے اس پہر ہر کسی کو جلدی گھر پہنچنا تھا، عوامی بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی غالباً ہر شام اولین ترجیحات یہی ہوتی ہیں، مجھے آخری اسٹیشن پر اترنا تھا، آخری سے ایک اسٹیشن چھوڑ کر پہلے پر چیک پوسٹ پڑتی تھی اور یہیں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے

مجھے نہیں معلوم وہ کب اور کہاں سے بیٹھی، نہایت غیر معمولی خدوخال والی، کافی حد تک سانولی، عمر رسیدہ بوڑھی عورت، ”میں نہیں دکھاتی شناختی کارڈ، میں نے تو آج تک اپنے بیٹوں کو نہیں دیا اور تم کل کی بچی شناختی کارڈ دیکھو گی میرا“ وہ شناختی کارڈ چیکر سے مخاطب تھی، یہی وہ پہلی آواز تھی جس نے مجھے اُس سے متعارف کروایا اور پھر میں پورے راستے اُسی کو دیکھ کر محظوظ ہوتی رہی مجھے وہ بے حد اچھی لگی تھی

اُترنے سے ذرا پہلے اِس کے ساتھ بیٹھی ایک دوسری خاتون نے اپنے پرس میں سے چند پیسے نکالے اور اُسے تھمانے لگی، میں کارڈ اسکینر کی جانب بڑھتے بڑھتے رکی، نہیں نہیں، اِن کی کوئی ضرورت نہیں، ایسا نہیں کریے، وہ مسلسل منع کر رہی تھی، اُس کی خودداری دیکھتے ہوئے مجھے اُس سے اُنسیت سی ہونے لگی، میں نے گاڑی سے اُترتے اُترتے اپنی رفتار قدرے آہستہ کر دی تا کہ اس کے ساتھ ہی اتروں لیکن نہیں اُس سے ٹھیک سے چلا نہیں جا رہا تھا، میں آہستہ چلنے کے باوجود نیچے اتر چکی تھی اور میرا بس سٹاپ پر کھڑے ہونے کا بظاہر اب کوئی جواز نہ تھا، لیکن مجھے اس کے اترنے کا انتظار تھا، میں پلٹی اور دیکھا کہ ابھی تک کیوں نہیں اتری وہ، پلٹنے پر دیکھا کہ اُسے اترنے میں دقت درپیش ہے، میں نے اس کا ہاتھ تھاما تا کہ نیچے اتار سکوں لیکن جسمانی لحاظ سے تھوڑی بھاری بھرکم تھی، زیادہ بھی نہیں، سو میں نے بازو سے پکڑ کر نیچے اتار لیا

جب وہ اتر چکی تو اب دوبارہ پھر سے میرا وہاں کھڑا ہونے کا کوئی جواز نہ تھا، مردوں والے کیبن سے ایک بابا جی اُترے، مُجھے لگا یہ اِنہیں کے ساتھ ہے، میں تھوڑی افسردہ ہوئی کہ شاید اب یہ بابا جی کے ساتھ میری مخالف سمت میں بڑھ جائے گی اور جو پیسے میں نے اُسے دینے کے لیے نکالے تھے وہ نہیں دے پاؤں گی، میں نے اپنی رفتار تھوڑی سی بڑھائی اور اپنے گھر کی راہ لینا چاہی لیکن میرا دل ابھی بھی اُسی میں تھا، آگے بڑھتے ہوئے میں نے پھر سے پیچھے مڑ کر اِس امید میں اُسے دیکھا کہ وہ اکیلی ہو اور میں اُسے کچھ دے سکوں

اُس سے فٹ پاتھ پر نہیں چڑھا جا رہا تھا اور اب وہ اکیلی تھی میں مڑی اور اُس کے ذرا قریب ہو لی، اُس سے دریافت کیا کہ آپ کو اوپر چڑھنا ہے کیا؟ اُس نے اظہاریہ حامی میں سر ہلایا تو میں نے فوراً سے اوپر چڑھنے میں مدد کر دی

اب ہر طرف رات تھی، شام کی لالی کی جگہ شب کے تاریک اندھیرے نے لے لی تھی اور وہ تنہا تھی اور تھی بھی بوڑھی، مجھے اُس سے پوچھنا پڑا کہ اُسے کہاں جانا ہے، میرے گھر سے تقریباً تیس منٹ کی دوری پر واقع ایک مقام کا نام لینے لگی، جس کا مجھے علم نہ تھا، البتہ اُس کے کچھ سمجھانے پر مجھے سمجھ میں آگیا، سو میں نے وہاں سے اُوبر لی اور اُسے ساتھ بٹھایا مجھے ڈر تھا کہ رات کے اِس پہر وہ کھو نہ جائے، اِس عصر جدید میں بھی اُس کے پاس نہ تو فون تھا نہ کوئی رابطہ نمبر۔

رات بڑھتی جاتی تھی گو کہ اتنی رات نہ تھی لیکن یوں تنہا مجھے شام کے یہ بجتے ہوئے آٹھ گھر جلدی جانے پر پابند کرتے تھے، خیر، میں بیٹھی، اُسے بٹھایا، پیسے تھمائے، گو کہ وہ لیتی نہ تھی

بات چیت شروع ہونے پر معلوم پڑا کہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا ماہانہ دو ہزار روپے کا کوئی بیوہ فنڈ لینے گھر سے نکلی تھی، میں نے بولا کہ آپ کیوں آئیں گھر میں سے کسی کو بھیجتیں، میری اِس بات پر اُس نے بتایا کہ میرے بیٹے میرے ساتھ نہیں رہتے، وہ علیحدہ گھر میں اپنی بیویوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور میں اپنی بیٹی کے پاس ہوتی ہوں جس کا شوہر وفات پا چکا ہے، بیٹوں کی بے اعتنائی کا بتاتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئی، میرے پاس کہنے اور سوچنے کو سوائے دکھ کے کچھ نہ تھا، عمر کے اس موڑ پر وہ ماں جس نے بچوں کو گرمی سردی کی شدت برداشت کرتے ہوئے پالا تھا، آج تنہا تھی، بیماری کی بدولت اُس کا جسم ٹھنڈا برف تھا، چلنے پر مسلسل سانس پھولتا تھا لیکن تمام تر لاچاری کے باوجود وہ اکیلی تھی۔

اندھیرے میں اُسے معلوم نہ پڑتا تھا کہ اُس گھر کس جانب ہے، کبھی دائیں بتاتی کبھی بائیں، ایک مرتبہ غلط جگہ پر اتری، میں نے بولا اطمینان کر لیجیے کہ یہیں ہے گھر کھو تو نہیں جائیں گی، بولی نہیں یہاں نہیں آگے ہے پھر وہاں سے دوبارہ بٹھایا، آگے بڑھتے رہے اور ایک تاریک گلی کے موڑ پر گاڑی رکوا کر بولی یہاں اتار دو، یہیں اِسی گلی میں گھر ہے

مجھے دیر ہو رہی تھی، اندھیرا مزید گہرا ہوتا جاتا تھا، وہ تاریک گلی میں آگے بڑھتی جاتی تھی اور میں روشن سڑکوں کی جانب، لیکن میرا دل! میرا دل وہیں اُس تاریک گلی میں ڈوب گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا خلیل کی دیگر تحریریں
صبا خلیل کی دیگر تحریریں