فائنل ائیر ایم بی بی ایس کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ڈاکڑ صاحب! میرے پیٹ میں درد ہے، کوئی دوائی دے دیں۔“ ”جی۔۔۔ جی۔۔۔ وہ۔۔۔ میں چھوٹا ڈاکڑ ہوں، بڑے ڈاکڑ صاحب آئیں گے تو وہ اپکو دوائی دیں گے“ یہ عام سا فقرہ روزانہ وارڈ میں سننے کو ملتا ہے۔ لیکن یہ چھوٹے ڈاکڑ ہیں کون؟

لٹمین کے علاوہ کوئی اور stet ہاؤس آفیسرscope لیں گے نہیں، لیکن مجال ہے کبھی اس سے auscultation کی ہو۔ وہ تو رکھی ہے صرف سلیفی لینے کے لئے۔

اس دنیا میں ایک ایسی مخلوق پائی جاتی ہے، جو وائٹ کوٹ پہنے، لٹمین کندھوں پہ لٹکائے، اک خاص ادا سے چشمہ لگائے، ہسپتال اور وارڈ میں ایسے گھومتے ہیں جیسے ان سے بڑا سرجن اور فزیشن اج تک پیدا نہیں ہوا، لیکن جیسے ہی ہسٹری لینے کی باری آتی ہے تو ایسے دوڑ لگاتے ہیں جیسے گائنی ٹیسٹ میں پوزیشن لے لی ہو۔

تو یہ مخلوق، جو اپنے اپکو چھوٹا ڈاکڑ کہتی ہے اصل میں ہے فائنل ائیر، ایم بی بی ایس۔ جو ہاؤس آفیسر اور سٹوڈنٹ لائف کے درمیان سینڈوچ بنے ہوتے ہیں۔

اگر کوئی مریض جو انہیں کبھی ڈاکٹر صاحب کہہ دے تو ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے آسکر مل گیا ہو، اور اگلے ہی منٹ وہی مریض ان سے پوچھ لے ڈاکڑ صاحب مجھے مسئلہ کیا ہے تو ایسا منہ بناتے ہیں جیسے بریانی کھاتے ہوئے منہ میں الائچی آ گئی ہو۔

سر نے پوچھا! wheeze کیا ہوتا ہے، جواب آیا سر! پیشنٹ سیٹیاں مارتا ہے۔ بندہ اسی سادگی پہ فدا نا ہو تو کیا ہو؟

ابھی کل کی بات ہے، ایک ڈاکٹر صاحبہ (جو ماشاء اللہ فائنل ایئر کی سٹوڈنٹ ہیں اور اپنے اپکو ابھی سے کنسلٹنٹ سمجھتی ہیں ) ہسڑی لینے گئیں، پوچھا ”آپکے کتنے بچے ہیں؟“ جواب آیا چار۔ اور پھر پوچھا! ”اچھا، اپ کی شادی ہوئی ہے؟“ مریض حیران، پریشان۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟ تو ساتھ کھڑے پروفیسر صاحب بولے۔ ”ڈاکٹر صاحبہ آپکا کالج مرضی پورا میں ہے، پیرس میں نہیں۔“ لیکن ان کا ایسا کانفیڈنش بولیں، ”سر! غلطی بھی انسان سے ہی ہوتی ہے،“ ایسی سادگی پہ پورا iuh قربان جائے۔

ایک اور سرجن صاحب، جو کہ ماشاء اللہ آپریشن تھیٹر ڈریس پہن کر یوں سلیفیاں ڈالتے ہیں جیسے ایف آر سی ایس پاس ہوں، کل آپریشن تھیٹر گئے، کہتے سر! آج میں نے assist کروانا ہے، سر نے پوچھا لیور کس سائیڈ پہ ہوتا ہے۔ سینہ چھوڑا کر کے بولے! سر لیفٹ پہ، آگے سے پراسرار خاموشی۔

ہسٹری لینی آئے یا نا آئے، ایگزامینیشن آتا ہو یا نا، میڈیکل کٹ ہو یا نا ہو، لیکن لٹمین لازمی لٹکایا ہو گا، پوچھا اس کی کیا وجہ آگے سے جواب آیا ”atleast! U sہاؤس آفیسرuld look like a doctor“

ہر پروفیسر، ہر وارڈ میں جتنی مرضی بے عزتی ہو، مجال ہے جو کبھی محسوس ہو، لیکن باہر جا کر لازمی کہیں گے، اج تو وارڈ میں بہت شاباش ملی، اپنی جتنی مرضی بے عزتی ہو، اپنے سے جونئیرز کو کہیں گے کہ ہم تمہارے سنئیر ہیں جو ہم نے کہا وہ حرف آخر ہے۔

ڈاکڑز کی غیر موجودگی میں خود کو وارڈ کا ہیڈ سمجھیں گے، وارڈ بوائز پہ حکم چلائیں گے، لیکن جیسے ہی پروفیسر صاحب وارڈ میں داخل ہوئے یہ غائب۔ کیونکہ کالج کی سب سے سنئیر موسٹ کلاس ہے، سب ڈاکڑ صاحب کہہ کہ بلاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی یہ عزت بھی راس نہیں آتی، وہاں سے بلنڈرز ماریں گے کہ اللہ کی پناہ۔

لیکن ان کے بنا کسی بھی کالج میں رونق کہاں؟ یہ نا ہوں تو ہر سال نئے ہاؤس آفیسرز کہاں سے آئیں؟ پیشنٹس کی ہسٹری کون لے؟ کون ان کا ایگزامینیشن کرے؟ اگر یہ نا ہوں تو وارڈ میں بے عزتی کس کی ہو؟ فائنل ائیر اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ یہ سٹوڈنٹ لائف کا آخری سال ہے، اس سال کی گئی شراتیں، غلطیاں، دوبارہ کیسے ہوں گی؟ پانچ سال جن کے ساتھ اکٹھے گزاریں ہوں ان کے بنا چھٹا سال کیسے گزرے گا؟

فائنل ائیر تو دل کے پاس اس لئے بھی ہے کہ پتا نہیں دوبارہ کب کہاں اکٹھے ہوں؟ کلاس لیکچر، پروکسی، ٹیسٹ، ہسڑیاں، ایگزامینیشن، یہ سب تو چار سال چلتے ہیں، مگر فائنل ائیر میں یہ اس لئے بھی اچھے لگتے ہیں کہ کالج لائف کا آخری سال ہے۔ تو فائنل ائیر کے چھوٹے ڈاکٹرو، کھیلوں، وارڈ جاؤ، بے عزتی کراؤ، شاباش لو، وارڈ پارٹی کرو، پڑھو، لڑو، مسکراؤ، ہاؤس آفیسر بننے کی تیاری کرو اور کالج لائف کا آخری سال اس طرح گزارو کہ اس کا حق ادا ہو جائے۔

”یہ فائنل ائیر میری زندگی کی سب سے نالائق کلاس ہے، ان کو ایگزامینیشن بھی کرنا نہیں آتا، ان کی تھرڈ ائیر کے ساتھ کلاس لی جائے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •