معمولی نیوز رپورٹر سے کروڑ پتی سیاستدان بننے کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں یوں تو بڑے نامی گرامی اخبار ہیں جن کی اعلی صحافت عوامی امنگون کے عین مطابق ہوتی ہے اور ان کے کالم حسن صحافت کا پیکر ہوتے ہیں مگر ان کے علاوہ چند ایسے اخبارات بھی ہوتے ہیں جنہیں شام کے اخبارات کہا جاتا ہے۔

یہ اخبارات سنسنی پھیلا کر اور چکنی چپڑی کہانیاں شایع کرکے اپنا منجن بیچتے ہیں مگر پھر بھی عوام کی اکثریت ان سے ناواقف رہتی ہے مگر ان میں ایک اخبار ایسا بھی ہے جو اپنے ناقص متن کی وجہ سے آج بھی شام کا اخبار کہلاتا ہے۔ اس کے خریدار اور پڑھنے والے شاذونادر ہیں مگر حال ہی میں اس اخبار کو کروڑوں کے سرکاری اشتہارات ملنے لگے ہیں کیونکہ یہ تحریک انصاف کے روح رواں اور پشاور بی آر ٹی کے خود ساختہ ترجمان شوکت یوسف زئی صاحب کا اخبار ہے جو تبدیلی کی گنگا میں نہا کر خوب پوتر ہو چکے ہیں۔

شوکت یوسف زئی صاحب کے اپنے بقول اس حکومت میں آنے سے پہلے وہ گیس کا بل بھی دینے سے قاصر تھے لیکن اب تبدیلی کی گیڈر سنگی ایسی ملی ہے کہ نہ صرف بیٹے کو پراییویٹ میڈیکل کالج سے لاکھوں روپے فیس دے کر ڈاکٹری کی ڈگری دلوائی بلکہ، اطچلاعات کے مطابق، کروڑوں کی لاگت سے پشاور کی مشہور فارمیسی چین کے مالک بھی بن گئے ہیں۔ شوکت یوسف زئی کمزور الفاظ میں اس کی تردید کرچکے ہیں لیکن ہماری تاریخ ایسے بے نامی جاییدادوں،  پلازوں اور آف شور کمپنیوں سے بھری پڑی ہے۔

گویا ڈبل شاہ بیچارہ تو ایویں مارا گیا یہان تو ٹرپل مافیا سرگرم ہے۔

حال ہی میں ڈاکٹرز اور انجنیئرز کو پشاور کے بازاروں میں پکوڑے بیچنے کا طعنہ دے کے انھون نے اپنے کارناموں پر ریسرچ کروانے کے دروازے کھول لیے ہیں۔

موصوف میڈیا میں کوریج ملنے کے لالچ میں ہر اس کام میں کود پڑتے ہیں جس کے بارے میں نہ تو ان کی علمی قابلییت ہے اور نہ ذہانت لیکن اپنی ڈھٹائی سے باز نہیں آتے چاہے وہ پشاور بی آر ٹی کا معاملہ ہو یا ڈاکٹروں کی ہڑتال کا مسئلہ۔

تبدیلی کے اس سمندر میں سیپیاں اور موتی تبدیلی کے نام کا چورن بیچنے والے کھا چکے اور بیچ چکے جبکہ عوام کو سونامی نے چاٹ لیا۔

مہنگائی اس قدر شدت سے پھیل رہی ہے کہ نور عالم خان صاحب کا ضمیر بھی چیخ اٹھا گو کہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

پچھلی بار جب اس صوبے میں تبدیلی برپا کرنے والوں کی حکومت آئی تو یوسف زئی صاحب کو بری پرفارمنس پر ہٹایا گیا تھا لیکن 126 دن کے دھرنے میں خان صاحب پر ایک بیرون ملک سے تشریف لانے والی نیوز کاسٹر کے علاوہ جس شخصیت نے گہرے نقوش چھوڑے، وہ یوسف زئی صاحب تھے اور پشاور کے لوگ آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر جہاں عالم کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر جہاں عالم کی دیگر تحریریں

ڈاکٹر جہاں عالم

ڈاکٹر جہاں عالم طب کے پیشے سے منسلک ہیں اور شوکت خانم ہسپتال کے سابق میڈیکل فزیشن رہ چکے ہیں

jehan-alam has 1 posts and counting.See all posts by jehan-alam