متاع گم گشتہ۔ ٹھپے اور چھینبے کا کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادوں کا ایسا سفر ہے جیسے اونٹوں کی لمبی قطار جن کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔ ہر اونٹ پہ یادوں کا سامان لدا ہے۔ کہیں حسرتوں کے تھیلے لٹک رہے ہیں، کہیں خوشیوں کی پوٹلیاں، لگتا ہے ہر اونٹ کے کجاوے پہ دونوں طرف ماضی کی یادوں، ماضی کے لوگ، ماضی کے پیشے، حسرتوں پشیمانیوں اور خوشیوں کے تھیلے توازن کے ساتھ رکھ دیے گئے ہیں۔ میں نے اکثر لوگوں کو ٹھنڈی سانسوں میں جیتے دیکھا۔ ان سانسوں کی ان کہی کہانیاں محسوس کرتے، میری سمجھ کا دائرہ وسیع ہوتا رہا۔

لفظ آپ سے وہ کچھ نہیں کہہ پاتے، جو ٹھنڈی سانس کہہ جاتی ہے۔ ماضی سے محبت کرنے والے یا پھر ذات کے دکھ میں مبتلا لوگ ٹھنڈی سانس کے اسیر ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ وہ گم گشتہ لمحوں کا کرب اپنے اندر محسوس کرتے رہتے ہیں۔ لمحوں میں ٹوٹنے اور جڑنے کا یہ عمل، ذات کے عرفان میں بدل جاتا ہے۔ ماضی اور یادیں خالی گھر جیسی ہوتی ہے، جس کے مکین لوٹ کر نہیں آئے۔

ماضی کے ساتھ ساتھ تہذیب، تمدن، روایات، رہن سہن، روائیتی پیشے اور ثقافت کسی بھی علاقے اور معاشرے کے تشخص وپہچان ہوتے ہیں۔ معاشرے کوثقافت اورثقافت کو معاشرے سے ہی جانا اورپہچاناجاتاہے، جس معاشرے کی ثقافت کو مسخ کیاجائے تو اس معاشرے کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔ انسان کی سماجی زندگی میں ہر شخص کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ حاکم ہو کہ رعایا، تاجر ہو کہ گاہک، منصوبہ ساز ہو کہ منتظم، وکیل ہوکہ جج، کسی فن کا استاد ہو کہ شاگرد، مزدور ہو کہ معمار، عوام الناس ہوں کہ خواص غرضیکہ انسانی سماج کی تعمیر و ترقی میں ہر ایک کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ ہر ایک کا کام اپنی جگہ انتہائی ضروری ہے

جس تیزی سے زمانہ فرلانگیں بھرتا ہوا آگے کی جانب دوڑ رہا ہے، اسی تیزی سے ہماری بہت سی مفید روایات دم توڑتی جارہی ہیں بلکہ روایتی اور علاقائی پیشے دم توڑ چکے ہیں، وہ پیشے جو کبھی ہمارے ڈیرہ اسماعیل خان کی پہچان ہوا کرتے تھے، جن سے کئی خاندان منسلک تھے اور یہی پیشے ان خاندانوں کی میراث تھی، پہچان تھی۔ انہی آخری سانسیں لیتی ہوئی روایات اور گمشدہ پیشوں کی وجہ سے آج مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کے مزاج میں نمایاں تبدیلیاں بھی رونما ہورہی ہیں۔

آج کی نوجوان نسل یہ نہیں جانتی کہ آج سے پچیس، تیس سال پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی مثال آپ اور جو ڈیرہ کی پہچان تھا ”ٹھپے اور چھینبے“ کا کام بالکل دم توڑ چکا ہے اور میرا نہیں خیال کہ اب کوئی ہنر مند یہ کام کرتا ہو۔ وہ سنہری دور تھا جب لوگ دستر خوانوں، قندوریوں، بستر کی چادروں، سرہانے، تکیوں اور اوڑھنے والی اجرکوں، قمیضوں اور دوپٹوں پہ خصوصی طور پر ”ٹھپے اور چھینبے“ کا کام کرواتے تھے، لیکن مشینی ڈیزائن کی آمد نے ان ہنر مندوں اور اس پیشے کو روند کے رکھ دیا۔

آج ماضی کے اس عظیم اور بے مثال ہنر سے منسلک خاندان غربت کے ہاتھوں تنگ ہو کر دوسرے پیشوں سے منسلک نظر آتے ہیں۔ بلمشافہ ملاقتوں سے معلوم ہوا کہ اس ”ٹھپے اور چھینبے“ کا کام ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے پہلے 29۔ 1928 میں گلی سقلی گراں والی کے رہائشی استاد کالو سپل نے بازار کلاں میں شروع کیا اور بعد میں ان کے بیٹے استاد احمد سپل نے ان کا ہاتھ بٹانے کے ساتھ ساتھ اس ہنر کو مکمل طور پر سیکھا۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی ہندو برادری میں بھی اس نفیس کام کو بہت پسند اور سراہا جانے لگا اور اس ”ٹھپے یا چھینبے“ کے کام کی مانگ زیادہ ہونے لگی تو اسی تیزی کو دیکھتے ہوئے استاد کالو سپل نے اپنے بیٹے احمدو سپل کو پوندہ بازار میں علیحدہ دکان کھول دی۔ اس کام کے سب سے پہلے باہنر استاد کالو سپل کے انتقال کے بعد ان کے پوتے استاد عبدالرشید نے بازار کلاں والی دکان کو چلانا شروع کیا (الحمدللہ۔ استاد عبدالرشید آج بھی حیات ہیں ) ۔ اس ”ٹھپے اور چھینبے“ کی مقبولیت کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی باقاعدہ شاگرد ہو کہ کام سیکھنے لگے۔

استاد کالو سپل کے نواسے استاد غلام محمد (قدی والے ) جو کہ محلہ چوڑیگراں والے کے رہاشی تھے نے بھی باقاعدہ اپنے نانا سے یہ ہنر سیکھ کر اور اس میں مزید ڈیزائنوں اور تخلیقی کاوشوں سے اس ہنر کو مزید چار چاند لگائے اور انہوں نے بھی باقاعدہ بازار کلاں میں اپنی علیحدہ دکان کھول کر اس کام کو مزید مستحکم کیا اور جلد ہی انہوں نے اس کام کی بدولت اندرون و بیرون ڈیرہ اپنی ایک علیحدہ پہچان بنا لی۔ شہری عوام کے ساتھ ساتھ ان سے ڈیرہ کی تمام تحصیلوں کلاچی، پہاڑپور، پروا اور دامان کے لوگ آ کے خصوصی طور پر ”ٹھپے یا چھینبے“ کا کام کرواتے، اس کام میں انہوں نے اپنی مہارت سے ایک دوسرا خاص ہنر روغنی ٹھپے کا کام متعارف بھی کروایا جو کہ علاقائی لوگوں کے علاوہ وزیرستانی اور افغانی پوندے لوگوں میں بہت مقبول ہوا اور وہ زیادہ تر خواتین کے لباسوں پر اس روغنی ٹھپے کو زیادہ پسند کرتے۔

جب وہ سردیوں میں ڈیرہ آتے تو لاٹوں کے حساب سے آرڈر دیتے۔ اس طرح اس کام کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ اس فن کا ماہر اور بامَ عروج پر پہنچانے والے استاد غلام محمد قدی والے نے حالات و روایات کی تبدیلی لوگوں کی ہاتھ کے ٹھپے یا چھینبے کے کام کی بجائے مشینی کام کو ترجیع اور معاشی بدحالی سے دوچار ہوتے ہوئے 91۔ 1990 میں اس کام کو باقاعدہ خداحافظ کہہ کر 2001 میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

ان اساتذہ کے علاوہ اس دور میں اس ہنر کے جو مشہور استاد تھے اور جن کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ٹھپے یا چھینبے ہر خاص و عام میں مشہور تھے اور ان کی بازار کلاں میں موجود دکانوں پہ عام و خاص گاہکوں کا رش دیدنی ہوتا تھا۔ ان میں گوجیاں والے ویڑھے کے استاد اللہ بخش، گلی سقلی گراں والی کے استاد غلام حسین المعروف کاکا، استاد محمد رضان عرف منصُو، گلی کپاس والی میں استاد چاچا عبداللہ، گلی کپاس والی میں استاد عبداللہ سلیمانی عرف قلفیوں والے کی دکانیں مشہور تھیں۔

یہ ٹھپے خاص دیار کی لکڑی کی مختلف سائزوں کے بنا کر اور اس ٹھپے کے تلوے پر خاص نفیس قسم کے بیل بوٹے اور نقش کنندہ کیے جاتے تھے، جن میں بارڈر، کونے، مرکزی ڈیزائن، لائن، پرندے وغیرہ کے علیحدہ علیحدہ ٹھپے ہوتے تھے۔ اس کے لئے رنگ خصوصی طور پر چیڑ کے درخت سے حاصل ہونے والے بیروزہ (گوند) کو پانی میں ابال کر اور اس میں مطلوبہ پختہ رنگ ڈال کر، گھنٹوں کی محنت سے گھروں میں تیار کیے جاتے تھے۔ روغنی کام کے لئے مختلف چمکدار رنگوں کا گاڑھا پینٹ تیار کیا جاتا اوراسکو ایک خاص مہر کے ذریعے جو کہ بالکل ڈاکخانہ میں موجود لفافوں پہ لگانی والی مہر کی طرح ہوتی تھی یعنی بالکل گول مختلف ڈیزائنوں میں فریم اور اس کے اوپر چار، پانچ انچ کی ہتھی ہوتی تھی۔

اس وقت کے ہم جیسے نوجوان اپنی قمیضوں کی جیبوں پر، بعض قمیض کے کالروں پریہ روغنی ٹھپے لگواتے تھے بلکہ ایک قسم کا فیشن بن گیا تھا اور کافی مقبول تھا۔ رنگ اور ٹھپوں کی تیاری کی بعد ایک 4 x 6 فٹ لکڑی کا ایک پھٹا ہوتا جو کہ تقریبا ایک فٹ اونچا ہوتا، اس کو ایک موٹے کمبل اور موٹی سفید چادر سے ڈھانپا جاتا تھا پھر زمین پہ بیٹھ کر اسی لکڑی کے پھٹے پہ ٹھپے لگوانے کے لئے آئی ہو چادر کو بچھا کر استاد لوگ بڑے انہمناک سے اس چادر، قندوری، دسترخوان وغیرہ پر گاہک کے پسند کیے ہوئے ڈیزائنوں کے مطابق دل کو لبھانے والے رنگوں اور ڈیزائنوں سے مزین کرتے۔ محنت، خالص رنگوں، خلوص اور پورے جذبے سے لگائے گئے ٹھپوں کا رنگ سالوں ہی نیا رہتا، بلکہ بار بار دھونے سے کپڑا ختم ہوجاتا لیکن رنگ اور ڈیزائن ویسا ہی رہتاتھا۔

لیکن افسوس کہ یہ پیشہ 95۔ 1994 تک موجود رہنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی موت آپ مرگیا۔ مذید افسوس اس بات کا ہے کہ جو پیشہ اور دکانین کبھی بازار کلاں، مختلف گلی، محلوں اور شہر ڈیرہ کی پہچان اور زینت تھا، اس کو تاریخ کے صفحوں پہ لکھنے سے فراموش کیا گیا۔ جب ان باہنر اورنامی گرامی خاندانوں کے باہنر افراد کو کسمپرسی، معاشی بدحالی، کنبوں کی پرورش اور گزر بسر کے لئے اپنے پیشوں کے برعکس کاموں کی تگ و دو کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ معاشی و معاشرتی تفریق، ٹیکنالوجی اور مشین کی آمد نے ایک ہی مٹی والوں کے خلوص اور حُسن خلق میں کھٹور پن کیوں پیدا کر دیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آسائشوں اور تعیشات کو ضروریات زندگی کا نا م دے کر وقت اور روایات کے ساتھ ساتھ ہم بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •