بچے بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نائیجیریا میں جیتے جاگتے انسان پیدا کرنے والی فیکٹری پکڑ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق نائیجیریا کے شہر لیگوس میں واقع اس فیکٹری میں لڑکیوں کو اغوا کر کے لایا جاتا تھا اور پھر انہیں تب تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا جب تک وہ حاملہ نہ ہو جاتیں اور پھر ان کا پیدا ہونے والا بچہ فروخت کر دیا جاتا تھا۔

پولیس نے لیگوس کی چار عمارتوں میں چھاپے مارے جہاں ان خواتین کو رکھا گیا تھا۔ ان چھاپوں میں ان عمارتوں سے 19 مغوی خواتین، جو کہ حاملہ بھی تھیں، بازیاب کرائی گئیں۔ ان کے ساتھ چار بچے بھی تھے۔چھاپے کے دوران اس ’بچہ فیکٹری‘ میں کام کرنے والی دو نرسوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس افسران نے بتایا کہ اس فیکٹری میں پیدا ہونے والا ہر بچہ 1000پاﺅنڈ (تقریباً 1لاکھ 93ہزار روپے) اور ہر بچی 700 پاﺅنڈ (تقریباً 1لاکھ 35ہزار روپے) میں فروخت کی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ فیکٹری میڈم اولوشی نامی ایک خاتون چلا رہی تھی جو پانچ بچوں کی ماں ہے۔ میڈم اولوشی تاحال فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس فیکٹری میں لائی جانے والی زیادہ تر خواتین غریب خاندانوں سے ہیں اور یہ گروہ انہیں گھروں میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر لاتا اور ان عمارتوں میں قید کر لیتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •