غریب کو جینے دیجیئے اور چائے پینے دیجیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چائے ایسا مشروب شاید ہی کوئی نہ پیتا ہو، سردی میں چائے جسم کو گرمی پہنچاتی ہے اور گرمی میں موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، برسات میں چائے کا لطف ہی الگ سے آتا ہے رم جھم پھوار اور بھاپ اڑاتی چائے عاشقوں کے دل گرماتی ہے تو وہیں بہت سوں کے دل میں برہا کی آگ لگاتی ہے۔ چائے امیر کا شوق، غریب کی غذا، چائے کی پارٹی میں کئی فیصلے آسانی سے ہوجاتے ہیں وہیں گھر سے چائے پاپے کا ناشتہ کرکے گھر سے محنت مزدوری کرنے کے لیے نکلنے والا غریب دن میں بھی اپنی بھوک مٹانے کو چائے پیتا ہے یا پھر خون جگر جس میں چائے کی آمیزش نے خون کم اور چائے زیادہ کردی ہے بقول شاعر

چائے ہی چائے بدن میں ہے لہو کے بدلے
دوڑتا اب ہے رگوں میں یہی تتا پانی

چائے ہے بڑے کام کی چیز سردرد ہو یا بخار چائے سے افاقہ ہوجاتا ہے، امتحان میں نیند بھگانی ہو یا تھکن دور کرنی ہو ایک کڑک چائے کا کپ انرجی ڈرنک کا کام کرتا ہے۔ چائے مہمانوں کی تواضع کا اہم جزو، شادی بیاہ کی باتیں، رشتے چائے کی پیالی پہ ہی طے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہیروئین گنگناتی ہے ”شاید میری شادی کا خیال دل میں آیا ہے اسی لیے ممی نے میری تجھے چائے پہ بلایا ہے“

چائے کی پیالی پہ طوفان اٹھانے والو چائے نہ ملی تو کہاں جاؤ گے۔ ایک زمانے میں جب ملک دو لخت ہوا تو سنہری ریشے کے ساتھ ساتھ چائے سے بھی محروم ہونا پڑا اس وقت بڑے بڑے دعوے کیے گئے چائے نہیں پیئں گے، چائے کے بدلے لسی لیکن جیسے جیسے سقوطِ ڈھاکہ کے زخم بھرتے گئے ویسے ویسے دعوے وعدے بھی چائے کی بھاپ کی طرح ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ سب کچھ چھُوٹا چائے نہ چھُوٹی بلکہ چائے کی بڑے پیمانے پر درآمد شروع ہوگئی۔

چائے کی طلب بڑھی جگہ جگہ چائے خانے کھلتے گئے، کہیں کیفے پیالہ، کہیں کیفے نشاط اور کہیں چائے پراٹھے کے اسٹال، غریب کا روزگار لگا اور ہر طبقے کے لوگ چائے کا لطف لینے اور اپنے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے ان جگہوں پر محفلیں جمانے لگے، سفر کے دوران تو راستے میں بنے ہوئے چائے خانے تو ایک نعمت ہیں جہاں چائے کے ایک کپ سے سفر کی تکان دور ہوجاتی ہے اور مزید سفر کرنے کا حوصلہ ملتا ہے جیسے گاڑی میں پٹرول ضروری ہے ایسے ہی اکثریت کے لیے چائے پٹرول کا کام دیتی ہے۔

ہزاروں سال پہلے حادثاتی طور پر دریافت ہونے والی چائے اب ہماری زندگی میں لازم وملزوم ہوگئی ہے اور ہم چاہ کر بھی چائے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔ بھلا ہو تبدیلی گورنمنٹ کا جب سے عنانِ حکومت سنبھالا ہے پہلے چینی کے نرخ بڑھے اور فی کلو چینی اسی روپے تک پہنچ گئی، ساتھ ساتھ دودھ کی قیمت بھی تیز رفتار دکھاتے ہوئے ایک سو آٹھ روپے لٹر ہوگئی، یہ قیمتیں حکومت نے مقرر کی ہیں بیچنے والے اس سے بھی زیادہ وصول کر رہے ہیں، اب اچانک چائے کی پتی کی قیمت ایک سو بیس سے ایک سو پچاس روپے کلو تک کردی گئی ہے، برانڈڈ چائے کی پتی کے ساتھ ساتھ لوکل چائے کی پتی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔

ان سب چیزوں کا اثر چائے کے ایک کپ کی قیمت جو بیس روپے تک تھی اب کم از کم تیس سے پینتیس روپے میں ایک کپ چائے کا مل رہا ہے۔ سوچیں ایک غریب جس کا خاندان ایک وقت چائے روٹی سے پیٹ بھرتا ہے وہ بھوکا ہی رہنے کو ترجیح دے گا۔ غریب کے منہ سے تو۔ چائے کا پیالہ بھی چھین لیا آپ نے پھر کہتے ہیں ”گھبرانا نہیں ہے“ بھیّا زندہ رہیں گے تو گھبرائیں گے، مردے گھبرایا نہیں کرتے۔ غریب مہنگائی تلے دبتا چلا جارہا ہے، غریب تو غریب ہے متوسط طبقہ بھی غربت کی لکیر پر پہنچ گیا ہے۔ چائے پینا تو مہنگا ہوا ہی چائے پلانا تو اس سے بھی زیادہ مہنگا پڑے گا ساتھ میں لوازمات کا خرچہ کون کرے۔ کسی بھولے بھٹکے مہمان کو پانی پلا کر رخصت کرنا کیا زیب دے گا لیکن کرنا ہی پڑے گا کیونکہ مہنگائی کی مار بہت بری ہے۔

تھوڑی نظر ِ کرم تبدیلی سرکار غریب کے منہ سے چائے کا کپ نہ چھینیں، چائے تو غریب کا ٹانک ہے اور اس ٹانک پر ہی غریب کی زندگی چل رہی ہے، چائے خانوں کے کاروبار کو تباہ ہونے سے بچا لیجیے، غریب کو جینے دیجیئے اور چائے پینے دیجیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •