وزیراعظم کے دورہ چین میں انہیں کن تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان چین جا رہے ہیں۔ ان کا دورہ چین ان حالات میں ہو گا کہ پاکستان سنگین حالات سے نبردآزما ہے۔ معیشت کے میدان میں روز بروز ایک تنزلی کا سفر ہمیں د ر پیش ہے جبکہ جو تازہ افتاد بھارت نے کشمیر میں بپا کر دی ہے وہ ایک اور سردرد ہے کہ کشمیر میں جب کبھی بھی کرفیو اٹھایا جاتا ہے تو وہاں کے عوام کا رد عمل کیا ہو گا اور اس کے حوالے سے بھارتی بربریت کیا شکل اختیار کرے گی۔ اور پھر پاکستان کا رد عمل کیا ہو گا۔ اگر ان دونوں معاملات پر غور کیا جائے تو واضح ہو گا کہ ان کی کڑیاں وطن عزیز میں جاری بدترین سیاسی عدم استحکام بے یقینی سے جا ملتی ہے۔

عمران خان چین ان حالات میں جا رہے ہیں جبکہ یہ تصور بہت تیزی سے مضبوط جڑیں پکڑ رہا ہے کہ سی پیک پر دانستہ طور پر کام کی رفتار کو سست روی کا شکار کر دیا گیا ہے۔

پھر سی پیک کے منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات بھی موجودہ حکومت کے وزراء کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ایسے الزامات کے سامنے آنے کے بعد چینی سفارتکاروں اور وزارت خارجہ کے افراد میں تلخی در آنا ایک معمول کی بات ہے وہ جب کبھی بھی ملتے ہیں تو فوراً پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت سی پیک کے تحت جاری منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے مگر کیا کہیں پر کسی بے ضابطگی کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہے؟

درحقیقت پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد چین ورطہ حیرت میں پڑ گیا ہے کہ اس سب کا سی پیک کی تعمیر سے کیا واسطہ تھا۔ انہوں نے معاہدہ پاکستان کی ریاست سے کیا تھا۔ لہٰذا ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کی یہ ذمہ داری تھی اور ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کو داخلی سیاست، چپقلش کی نظر نہ ہونے دے۔ یہ سوال وہاں عمران خان کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔ پاکستان میں سیاسی تبدیلی نے سی پیک اور قطر سے کیے گئے ایل این جی معاہدوں کو بری طرح سے متاثر کیا اور یہ بالکل واضح ہے کہ اس کی سیاسی وجوہات ہیں۔

ایل این جی معاہدہ قطر کی ریاست سے ہوا تھا۔ جبکہ سی پیک کے معاملات بھی چینی حکومت سے طے پائے۔ ان دونوں میں کسی بد عنوانی کا الزام لگانے کا مطلب ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ریاستیں اپنا سودا بیچنے کے لئے دوسرے ممالک میں بد عنوانی کرواتی ہیں۔ اس سے کتنے گھمبیر نتائج ہیں کہ کوئی بھی ریاست آپ سے معاہدہ کرنے سے گھبرائے گی کہ بعد میں تو یہ ہم کو بھی میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنا دیں گے۔ وہاں چین میں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ عرب ممالک کے کون سے مفادات ہیں جن کا تحفظ موجودہ حکومت گوادر کے معاملات میں کر رہی ہی۔

اگر ایسا ہو رہا ہے یا ہونے جا رہا ہے تو چین میں اس حوالے سے لگی لپٹی بغیر بات کرنی چاہیے۔ تا کہ ہمارے الفاظ کا بھر مستقبل میں بھی قائم رہ سکے۔ اگر کہا کچھ گیا اور کیا کچھ گیا تو ساکھ بری طرح متاثر ہو گی۔ فرد کی ساکھ نہیں بلکہ مملکت پاکستان کی ساکھ ہے۔ اس لئے ایسی کسی غلطی سے اجتناب کرنا جاہیے کہ وہ روبہ ء عمل ہو۔ کشمیر کا معاملہ بھی بری طرح سلگ رہا ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ مودی سرکار اس بار ایسا کرنے کی جرات کیوں کر گئی۔

حالانکہ بھارتی آئین میں کشمیر کے حوالے سے تبدیلی ان کے گذشتہ انتخابات میں بھی منشور کا حصہ تھی بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ آزادی کے وقت سے اب تک جو اقدام کرنیکی جرات کوئی بھارتی حکومت نہیں کر سکی تھی وہ اب کیسے ہو گیا۔ جواب بالکل واضح ہے کہ مودی پاکستان کے سیاسی عدم استحکام بے یقینی سے ہلہ شیری پا گیا۔ یہ تصور کے پاکستان کی حکومت کے قیام میں کھوٹ ہے اس کی ہمت بندھا گیا۔ چین نے بھی لداخ کے مسئلے سے ہٹ کر وہ مؤقف نہیں اپنایا جو پاکستان کا مؤقف ہے۔

اور یہی چیلنج پاکستان کو در پیش ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کا ایک نادر موقع ابھی تازہ تازہ گنوایا گیا ہے۔ بہت مناسب ہوتا اگر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران جو وفد پاکستان کا گیا تھا۔ اس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر بھی شامل ہوتے اور صرف جنرل اسمبلی کی کارروائی کا ہی حصہ نہیں بنتے بلکہ اس کے علاوہ جتنی ملاقاتیں وقوع پذیر ہوتی ان میں بھی شامل ہوتے۔ اگر سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان یہ قدم اٹھا لیتے تو کشمیر کے حوالے سے ہمارے مؤقف کو کم از کم اتنی عالمی پذیرائی ضرور مل جاتی کہ ہم کم از کم انسانی حقوق کے حوالے سے 16 ووٹ تو حاصل کر لیتے۔

ابھی کچھ ایام قبل پنجاب یونیورسٹی میں اکیڈمک سٹاف اور الطاف حسن قریشی کی تنظیم پائنا کے زیر اہتمام کشمیر پر قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا کہ جس سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، مجیب الرحمن شامی، میں نے اور چند دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ جبکہ منتظمین میں ڈاکٹر نیاز وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر ممتاز، ڈاکٹر امان اللہ اور ڈاکٹر امجد مگسی شامل تھے۔ وہاں بھی ان صاحبان علم اور سینکڑوں طلباء و طالبات کے سامنے بھی یہی گزارشات پیش کیں کہ کشمیر کے مسئلے پر سفارتکاری کسی جذباتیت یا مقامی سطح پر ڈھونگ رچانے سے بہتری کی جانب روانہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

کشمیر پر پہلا حق کشمیریوں کا ہے۔ ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چین جانے والے وفد کا حصہ ہوں۔ کشمیر اور گلگت بلتستان اسمبلیوں کے اراکین پر کمیٹی قائم کی جائے جو کشمیر پالیسی وضع کریں جس کی روشنی میں پاکستان پیش رفت کرے۔ جبکہ کشمیر پر جانے والے تمام پارلیمانی وفود میں بھی ان دونوں اسمبلیوں اور حریت کانفرنس کے اراکین شامل ہوں۔ تا کہ بات میں وزن پیدا کیا جا سکے۔ بات ان ممالک کی سنی جاتی ہے جن کی پشت پر ان کی پوری قوم اس مسئلے پر کھڑی ہو۔ لیکن اگر حکمت عملی موجودہ ہی رہی تو پھر جہاں مرضی چلے جائیں 16 ووٹ بھی نہیں مل سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •