انیتا غلام علی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کے پرہجوم علاقے میں جہاں گاڑیوں کے ہارن، خوانچہ والوں کی پکار اور طوطے کی مدد سے قسمت کا حال بتانے والوں کے باعث کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی، بس اسٹاپ سے کچھ دور پہلے اسٹیل گرے رنگ کی گاڑی رکتی ہے۔ گاڑی چلانے والی خاتون کو پہچان کر آٹھ دس سال کا بچہ یوں بھاگ کر آتا ہے جیسے صرف اسی انتظار میں تھا۔ آنکھوں میں چمک، ہاتھ میں صفائی کا کپڑا لیے وہ جانفشانی سے گاڑی صاف کرتا ہے اور پھر فخر سے اپنی ننھی ہتھیلی پر اجرت وصول کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ”ہم یہاں اس بچے کے لئے آتے ہیں۔ بہت محنتی ہے، کام بھی کرتا ہے اور پڑھ بھی رہا ہے۔ “ میں برابر کی سیٹ پر بیٹھی ان کے لہجے میں ماں جیسی نرمی، مٹھاس اور گہرے درد کو شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ یہ گداز دل رکھنے والی خاتون انیتا غلام علی ہیں اور یہ واقعہ تقریبا چوتھائی صدی ادھر کا ہے۔

قوسِ قزح کی مانند انیتا آپا کی شخصیت کے کئی رنگ ہیں۔ کچھ کے لئے وہ محض سخت مزاج بارعب، تو کوئی ان کی تعلیمی پالیسیوں، سماج اور خواتین سے متعلق علمی مضامین سے مرعوب، کسی پر ان کی جرات مندانہ تقاریر کا دبدبہ اور کچھ خصوصاً سرکاری حکامِ بالا ان کی مدلل گفتگو، نڈر لہجہ اور سیماب صفت طبیعت سے نالاں۔ ان تمام پہلوؤں سے متفق ہونے کے باوجود میرے نزدیک انسان دوست انیتا آپا کی شخصیت ایک ایسے خوبصورت پھول کی مانند کہ جس میں تمام تر تازگی اور مہکار کے ساتھ آہستگی سے بتدریج مسلسل کھِلتے رہنے کا عمل جاری ہے یعنی ہر اگلی ملاقات پر ان کی پہلو دار شخصیت کے کچھ رموز منکشف ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر دفعہ ان کو اس طرح کھوجنا ان سے دوستی کا انعام سا لگتا ہے۔

انیتا آپا کی زندگی میں کئی پیچ و خم ہیں۔ کبھی بطور نیوز کاسٹر، پھر کالج میں شعبہ کی سربراہ، اس کے بعد آج تک سیف (SEF) یعنی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور پھر منہ کا ذائقہ بدلنے کو دوبارہ وزیرِ تعلیم (سندھ) کا عہدہ۔ ایک ذمہ داری جو سالہا سال سنبھالی ہے، وہ ہے پاکستان کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدارت۔ گویا ہر حیثیت میں نمایاں کردار اور سچ بات تو یہ ہے کہ سربراہی کے علاوہ ان پر کچھ سجتا ہی نہیں۔

عبداللہ کالج میں بطور لیکچرر تقرری کے بعد میرا اکثر ہی ایس ایم سائنس کالج جانا ہوا۔ شعبہ خورد حیاتیات اس کی بالائی منزل پر تھا۔ انگریزوں کے وقت کی بنی اس عمارت میں راہداری پر تیز تیز قدموں سے چلتی انیتا آپا کی بارعب و شاندار شخصیت اور عمارت کی خستگی اور درماندگی کا تضاد مجھے ہمیشہ ہی دلچسپ نظر آیا۔

اکثر ان کی آمد سے پہلے ہی مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کا ”دربار“ سا سج جاتا تھا۔ جس میں گلے میں مالائیں ڈالے سندھی بولتے فقیر ملنگ بابا (جس کے بچے کو انیتا آپا نے تعلیم دلوائی) سے لے کر وہ سرکاری عہدیداران بھی ہوتے کہ جن کا کوئی نہ کوئی کام ”اٹکا“ ہوا ہوتا تھا۔ طلباء کی آمد و رفت تو ہوتی تھی لیکن ایک بڑی تعداد ان حقیقی ضرورت مند افراد کی بھی تھی کہ جن کی محرومیوں کا اکثر ازالہ انیتا آپا کی ایک جنبشِ قلم کی بدولت ہو جاتا تھا۔

اب انیتا آپاکمرے میں داخل ہوتی ہیں۔ بریف کیس ہاتھ میں۔ سلیقہ سے کسے ہوئے بالوں کو جُوڑا بندھا، چوڑے دوپٹہ سے ڈھکا جسم۔ سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ سب کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی اس اونچی مخصوص کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں کہ جس کی عین پشت پر مختصر بدھئیت کھڑکی بنی ہے اور جس کو دیکھ کر قید خانے کے روزن کا خیال آتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں قلم ان کے ہاتھ میں اور سر جھکائے کام شروع۔ جرنل دیکھے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی پریکٹیکل کی تیاری کے سامان پر نزہت رضوی (ہماری دوست) اور اطہر (لیب اٹینڈنٹ) سے تبادلہِ خیال ہو رہا ہے۔

اس بیچ طلباء کی سرزنش بھی ہو رہی ہے۔ پھر اسی دوران شاہد (لیب اٹینڈنٹ) ان کی جانب منہ نکال کر پوچھتے ہیں ”میڈم چائے لاؤں؟ “ تھوڑی دیر میں پٹھان کے ہوٹل سے چینک (مخصوص چائے کی پیالیاں ) سے چھلکتی چائے ساتھ ہی کچھ لڑھکتے سموسے، سلور رنگ کی ٹرے میں آتے ہیں پھر ہر ایک اس بلاتفریق ضیافت کا حصہ دار بنتا ہے ماسوا انیتا آپا کے۔ ان کو میں نے شاذ و نادر ہی چائے کی دو تین پیالوں کے علاوہ کچھ کھاتے دیکھا ہے۔

سنا ہے کہ کبھی ایک دن میں سولہ سولہ پان کھا جایا کرتی تھیں جس کا عارضی ناغہ صرف محرم کے دنوں میں بطور احترام ہوتا۔ ہماری دوستی شروع ہونے تک پان کی پیک کا رنگین دور رخصت ہو چلا تھا۔ ویسے کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ چائے اور سموسوں کے بل ادا کرنے کے بعد خود ان کا گزارہ کس طرح ہوتا ہو گا کہ اساتذہ کی تنخواہ میں بڑھتی مہنگائی کے دیو سے لڑنے کی تاب کہاں؟

میں نے ہمیشہ ہی انیتا آپا کو ضرورت مندوں کے کاموں کے لئے زبانی کلامی کم اور مدلل انداز میں تحریری طور پر لڑتے زیادہ دیکھا ہے۔ سوچتی آنکھیں اور روشن دل و دماغ کے ساتھ نوکِ قلم سے دلائل رقم کرتے وقت وہ مجھے ہمیشہ ہی منصف، وکیل یاجج لگیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے کہ جہاں حق اور انصاف کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے اور غریبوں کی مدد اور احترام فرض سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے۔

انیتا آپا نے 2 اکتوبر 1934 ء ہاکستان کے مشہور چیف جسٹس فیروز علی نانا اور سماجی کارکن شیریں نانا کے گھر جنم لیا۔ ان کے والدین کے خاندانوں کا کردار سندھ بلکہ پاکستان میں علمی و ادبی ترقی کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ شیریں نانا کے دادا سندھ کے مشہور عالم شمش العلماء مرزا قلیچ بیگ تھے۔ اور نانا مرزا جعفر علی قلی بیگ جو برطانیہ سے فارغ التحصیل مشہور سرجن تھے۔ خود شیریں نانا کا تعلق ادب سے تھا اور نہ صرف سندھی، انگریزی، فارسی، لاطینی، ہسپانوی، بلکہ دوسری بھی کئی مختلف زبانوں پر جلد عبورحاصل کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی تھیں۔ انیتا آپا کے والد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فیروز علی نانا علی گڑھ کالج سے فارغ التحصیل اور سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے سیکرٹری تھے۔

والدین کی روشن خیالی اور علمیت کے سبب گھر کا قاعدہ یہ تھا کہ ہر بچے کو اس کی سوچ رجحان کے مطابق چلنے کی آزادی دی جاتی البتہ یہ ضرور بتایا جاتا کہ یہ صحیح ہے اور وہ غلطاور بیچ کا کوئی راستہ نہیں اور نتائج کی ذمہ داری خود تمہاری ہے۔

انیتا آپا کا کہنا ہے کہ ”بچپن میں ہمارا دل پڑھائی کے بجائے کھیل کود میں لگتا تھا۔ تعلیم کے سلسلہ میں ہم نے اپنے والدین کو بہت مشکل وقت دیا۔ “ تاہم کھیلوں دوسری سرگرمیوں سے ان کی دلچسپی شروع سے نمایاں رہی۔

1954 میں وہ ڈی جے سائنس کالج ٹیبل ٹینس کی چمپئین تھیں۔ اس کے علاوہ بیڈمنٹن کی بھی چیمپیئن کے علاوہ فٹ بال ٹیم میں بھی تھیں۔ اسٹوڈنٹس یونین میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی خیر سگالی کے دوروں میں ان کا چناؤاکثر نمائندہ طالبہ کے طور پر ہوتا رہا۔

وہ سخت اور مثالی ستاد تھیں۔ اپنے سے لمبے چوڑے لڑکوں کے کان کھینچنے میں انہیں کوئی ڈھرکا نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ طلبا اور ان کے درمیان اعتماد اور سچائی کا رشتہ تھا۔ طلباء ان کی عزت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ ان کے ساتھ مخلص اور دیانت دار تھیں۔ انھیں طلبہ نوجوانوں سے زیادہ وقت کے حکمرانوں کی پالیسیوں اور اساتذہ کے طریقہ تدریس سے شکایت ہے۔ ”

وہ طلباء سے ان کے فرسٹریشن، عزائم اور خوابوں کے متعلق گفتگو نہیں کرتے۔ ”ان کی نظر میں استاد اور شاگرد کے درمیان باہم مکالمے کی کمی ہے۔ خود انیتا آپا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لیکچر سے پہلے اخبار کی سرخیوں پر تبادلہ خیال کرتیں کہ طلباء سچائی سے اظہار کرنا سیکھیں اور نہ صرف جرثوموں بلکہ سماج کی بیماریوں کو بھی سمجھیں۔ ان کے تعلیمی منصوبوں میں نواحی بستیوں میں اسکول بنانے یا سگریٹ نوشی کے خلاف مہم بھی شامل ہوتی تھی۔ “

انیتا آپا سندھ کی دو مرتبہ ( 1996 اور 1999 ) وزیرِ تعلیم بھی رہی ہیں اور ان کی نظر میں تعلیم کی تباہی کا اصل سبب طبقاتی نظامِ تعلیم ہے۔ ”ایک طبقہ کا بچہ موبائل، گاڑی اور گارڈ لیے پھر رہا ہے جبکہ 80 فیصد بچے احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔ امیر کے لئے ہنڈا سوک اور مرسڈیز ہے جبکہ غریب کے لئے کوئی گاڑی نہیں بنائی گئی۔ “ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ”ہم سالوں سے (حکومت سے ) کہہ رہے ہیں کہ کراچی ایک آتش فشاں کی مانند ہے جو ایک دن پھٹنے والا ہے۔ آپ تعلیم اور دولت کا اتنا فرق نہیں رکھ سکتے۔ “

بطور نیوز کاسٹر انیتا آپا واحد خاتون ہیں جن کو 1965 اور 1971 میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگوں کے دوران خبریں پڑھنے کا نہ صرف موقع ملا بلکہ تمغہِ حسن کارکردگی کی حقدار بھی ہوئیں۔ اور اس کے علاوہ بھی بے شمار تمغہ اور انعامات (جیسے ستارہ ِ امتیاز اور بے نظیر ایکسیلنس ایوارڈ) حاصل کیے مگر ان تمغوں کے علاوہ ان کے جسم پر سختیوں اور نیل کے دو نشانات آج بھی ثبت ہیں کہ جو انہیں حکومتِ وقت کے خلاف آواز اٹھانے پر لگے۔

پاکستان کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر اپنی تحریکوں کے دوران جلسے جلوس اور حکومت کو چیلنج کرنے پر نہ صرف ڈنڈے کھائے بلکہ تشدد بھی برداشت کیا۔ ایسے ہی کسی وقت میں ان کو ان کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے چیف منسٹر نے ان کے ابا سے جو کہ اس وقت جج کے عہدے پر فائز تھے شکایت کرتے ہوئے کہا۔ ”برائے مہربانی اپنی اولاد کو روکیں ورنہ ہمیں انہیں گرفتار کرنا ہوگا۔ جواب ملا، انہوں نے اپنا راستہ خود چنا ہے۔ اگر وہ اپنے مقصد کے ساتھ سچائی سے وابستہ ہیں توان کو اس کے نتائج بھی بھگتنے دیں۔ آپ جائیں اور اپنے فرائض انجام دیں اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔

اکتوبر 1993 سے تاحال انیتا آپا نے ایک بہت اہم ادارے سیف کی ذمہ داری بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹر اٹھائی ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ وہی ادارہ ہے کہ جس کا خواب پچیس سال اُدھر میں ایک ان کی آنکھوں میں دیکھا تھا، غریب اور معصوم بچوں کی تعلیم اور دمکتے مستقبل کا خواب۔ گاڑیاں صاف کرتے، پھول بیچتے، جمعہ بازاروں میں گھروں کے سامان ڈھوتے معصوم بچوں کی تعلیم کا خواب۔ سالوں پہلے وہ جس کام کو محدود پیمانے پر کر رہی تھیں آج انہیں موقع ملا کر کہ اسے صوبہ جاتی سطح پر کرسکیں۔

سیف یعنی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن انیتا آپا کی سربراہی میں سندھ کے دیہی پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ، تعمیر و ترقی اور بچوں کے تابناک مستقبل کے لئے کوشاں ہے۔ سیف نے یہ تعلیمی ادارے دریائے سندھ کے کناروں، صحراؤں، جنگلات اور منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں قائم کر دیے ہیں۔ اس طرح 3000 سے زیادہ پھیلے اسکولوں کے جال سے تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ افراد فیض یاب ہو رہے ہیں۔ طبقاتی نظامِ تعلیم کا فرق مٹانے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر سے مل کر ایسے اسکول کھولے جا رہے ہیں جن کو عوامی نمائندے اور مل کر نہ صرف مفت تعلیم دے رہے ہیں بلکہ مفت طبی سہولتیں بھی فراہم کر رہے ہیں۔ جو اہم پروگرام ہیں وہ تعلیمِ بالغاں، چائلڈ ڈویلپمنٹ سنٹر، فری طبی کیمپ اور خواتین میں لیڈر شپ و معاشرتی ترقی کے لئے منتظم سازی۔ (ان کاموں کی تفصیلات ایک علیحدہ مضمون کی متقاضی ہے۔ )

انیتا آپا کی بے مثال تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ادارہ تسلیم و آگہی پبلک ٹرسٹ نے 15 اکتوبر 2008 ء سے جو اساتذہ کا عالمی دن بھی ہے، انیتا غلام علی ورلڈ ٹیچرز ڈے ایوارڈ کا اجراء بھی کیا ہے۔ جس کے بعد سے ایسے اساتذہ کو ایوارڈز دیے جا رہے ہیں کہ جو بہترین تدریسی فریضہ انجام دیتے ہیں۔

انیتا آپا باوجود اپنی صحت خرابی کے دیوانہ وار صبح سے رات گئے تک کام کرتی ہیں۔ ادارے کے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کی آواز میں تروتازگی اورخوشی کی کھنک محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک دن فون پر بتا رہی تھیں۔ ۔ ”یہاں بہت اچھے کام کرنے والے نوجوان ہیں۔ ہم بہت پُر امید ہیں اور ان کی جتنی تربیت کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔ “۔ پھر ہنس کر کہنے لگیں۔ ”اب تو ہمارا وقت ختم ہو چکا ہے۔ یہ بھی بونس میں جی رہے ہیں۔ “

2007 میں میری والدہ کے انتقال کے موقعہ پر مجھے انگریزی کی ایک خوبصورت نظم بھیجی، جس کا عنوان تھا۔

Do not stand at my grave and cry

(میری قبرپر کھڑے ہو کر مت رو)

حالانکہ پوری نظم ایک تسلی نامہ تھا مگر میرے آنسو بہتے رہے۔ امی کی یاد کے علاوہ انیتا آپا کے اس تشکر میں بھی کہ انہوں نے کتنی اپنائیت سے میرے دکھ پر اپنی غم گساری کا نرم ہاتھ رکھا۔

اس مضمون کو لکھتے وقت گئے دنوں کے ورق الٹتے ہوئے خیال یہ آ رہا ہے کہ شروع سے آج تک انیتا آپا نے صرف دیا ہے۔ شاید بڑوں کا کام ہمیشہ دینا ہی ہوتا ہے۔ سو وہ بڑے چاؤ سے ہم سب کے لئے کرتی رہی ہیں۔ کبھی منفرد قسم کے تحفوں کی صورت، کبھی محبت بھرے خطوط، تو کبھی خوبصورت کارڈز اور فون کالز کی شکل میں۔ جب مجھے اپنی امی کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کی استعمال شدہ کچھ تبرکات ملیں تو میں نے اپنی عزیز ترین ہستی کا سفید شفاف کڑھا ہوا ڈوپٹہ دیکھا۔

پھر یہ سوچا کہ یہ تو شاید اس کا حق ہے جس نے میری ماں کی طرح جراتمند، علم کی شیدائی، انسان دوست اور انصاف پسند ہے۔ پھر مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ایک دن میری امی نے مجھ سے کہا تھا۔ ”ہمیں تمہاری یہ دوست بہت پسند ہیں، بہت پڑھی لکھی اور دبنگ“ تو میں نے سوچا کہ ایک عظیم انسان کی شے ایک کسی دوسری عظیم ہستی کو کیوں نہ ملے؟ سو میں نے اہنے دل کی گہرائیوں سے اپنی ماں کی متبرک اوڑھنی کا تحفہ انیتا آپا کی نذر کیا کہ وہ یقینا ان ہی پر جچے گا۔

(2 اکتوبر کو انیتا آپا کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تحریر۔ میں نے یہ انٹرویو 2010 ء میں اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گہر“ کے لیے لیا تھا۔ انیتاآپا کا انتقال 8 اگست 2014ء کو ہوا تھا )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •