پاک فوج کا معاشی سیمینار: میمو گیٹ اسکینڈل اور ڈان لیکس کے آئینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے نمایاں صنعتکاروں اور تاجروں کے ایک وفد نے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کی خبریں سامنے آنے اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں ہونے والی چہ میگوئیوں کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے آج ایک پریس جاری کرکے صورت حال واضح کی ہے۔

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے البتہ یہ بتایا ہے کہ یہ ملاقات ’معیشت اور سلامتی میں تال میل‘ کے عنوان سے ہونے والے ایک سیمینار کے حوالے سے ہوئی تھی اور اس موقع پر حکومت کی معاشی ٹیم بھی موجود تھی۔ اس سیمینار کے اختتام پر آرمی چیف کی طرف سے شرکا کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔ خبروں کے مطابق اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ رات گئے تک تاجروں کو اطمینان دلاتے رہے کہ معاشی حالات ٹھیک ہوجائیں گے اور ان کے سرمایہ کی حفاظت اور نشو و نما کے لئے مناسب اقدامات ہوں گے۔ انہوں نے تاجروں و صنعتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں اور حکومت دشمن فورسز کی حمایت نہ کریں۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ جنرل باجوہ نے تاجروں کی شکایات دور کرنے کے لئے فوجی افسروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تاجروں کو لاحق مسائل کا فوری اور مؤثر حل تلاش کیاجاسکے۔

بدھ کو تاجروں کے نمائیندوں اور حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان کے درمیان پاک فوج کے سربراہ کی نگرانی میں ہونے والی اس سیمینار نما ملاقات کی اہمیت اور اثر کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی آج تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے مناسب اقدام کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کو نیب کے حوالے سے جو تحفظات اور شکایات ہیں ان کے ازالے کے لئے حکمت عملی ترتیب دے لی گئی ہے۔

گو کہ آرمی چیف سے مل کر شکایات کرنے والے تاجر و صنعتکار اس وفد کا حصہ نہیں تھے جس نے آج اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی لیکن ان دونوں ملاقاتوں میں نیب کے طرز عمل کے بارے میں بزنس کمیونٹی کی شکایات کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ تاجروں کو ایف بی آر کے رویہ پر بھی سخت شکایت ہے جو محاصل جمع کرنے کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے تاجروں اور کاروباری طبقہ کو غیر ضروری دباؤ کا نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ دونوں ملاقاتیں ایک دوسرے کا تسلسل کہی جا سکتی ہیں۔ بدھ کے روز ملک کے طاقتور تاجروں نے آرمی چیف کے سامنے شکایات کا دفتر کھولا اور جنرل قمر جاوید باجوہ ان کی دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور آج وزیر اعظم نے تاجروں کے ہی ایک مختلف وفد سے ملاقات کرکے ایک اہم شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔  ’بدعنوان تاجروں ‘ کو نیب کے چنگل سے بچانے کے لئے اقدامات کا وعدہ دراصل ’کسی کو این آر او نہیں دوں گا‘ کے دعوے سے پسپائی کا اعلان بھی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کرنے والے اور اس بنیاد پر اپنا سیاسی کیرئیر تعمیرکرنے والے عمران خان نے آرمی چیف کی براہ راست مداخلت پر فوری اقدام کا وعدہ و اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان سول معاملات میں فوج کی براہ راست مداخلت اور اسے برضا و رغبت قبول کرنے کے سیاسی رویہ کا اقرار ہے۔ یہ ملک میں جمہوریت کے فروغ اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے خوش آئیند خبر نہیں ہے۔

آرمی چیف کے ’معاشی سیمینار‘ کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کو اگر درست تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ گزشتہ دس بارہ برس کے دوران سول ملٹری تعلقات میں ایک خاص طرح کے پیٹرن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ معاشی معاملات میں آرمی چیف کی موجودہ ہدایات اور مشورے بھی دراصل پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف میمو گیٹ اسکینڈل اور نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس اسکینڈل جیسا ہی معاملہ ہے۔ اس طرح فوج منتخب سول حکومت کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ملک کے معاشی اور سیاسی معاملات دیکھنے اور ان کے بارے میں پالیسی فیصلے کرنے کا اختیار اور صلاحیت صرف اس کے پاس ہے۔ جو سول حکومت اس استحقاق کو تسلیم کرلے گی، اسے ایک پیج پر رہنے کی سعادت نصیب ہوگی اور جو اس سے انحراف کا جرم کرے گی اسے اس انکار کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

میمو گیٹ، ڈان لیکس اور اب معاشی سیمینار نامی معاملات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں یہی نکتہ سامنے آتا ہے کہ فوج کے مقررہ لائحہ عمل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور جو بھی سیاسی لیڈر ایسا کرنے کا حوصلہ یا غلطی کرے گا ، اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ میمو گیٹ اسکینڈل کی وجہ تسمیہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے خود مختارانہ اقدامات اور اٹھارویں ترمیم کی راہ ہموار کرنے جیسے معاملات پر حکومت کو سبق سکھانا تھا۔ اس لئے ایک ایسے خط کا سراغ لگایا گیا جو مبینہ طور پر آصف زرداری کے قریب شمار کئے جانے والے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے کسی امریکی پاکستانی منصور اعجاز کے ذریعے امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملر بھیجا تھا تاکہ صدر باراک اوباما کی حکومت پاکستانی فوج کو ملک میں مارشل لا لگانے سے باز رکھے۔ اس معاملہ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نواز شریف مدعی بنے اور سپریم کورٹ نے سیاسی فریق کا کردار ادا کیا۔ میمو گیٹ اسکینڈل کی بنیاد پر 2011 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت کومسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھا گیا۔

اسی طرح اکتوبر 2016 میں روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد نواز شریف کی حکومت کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا۔ اس رپورٹ میں انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں وہی باتیں کی گئی تھیں جنہیں اب ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں ہو بہو قبول کرتے ہوئے ، پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ لیکن جب سیرل المیڈا کی رپورٹ میں اس حوالے سے بعض سول حکام کے تحفظات کا اظہار سامنے آیا تو اسے قومی سلامتی کا معاملہ بنا کر نواز حکومت کو دیوار سے لگانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ سول ملٹری قیادت کے درمیان براہ راست تصادم کی یہ صورت حال اگرچہ نومبر 2016 میں جنرل (ر) راحیل شریف کے بطور آرمی چیف ریٹائرمنٹ کے بعد پس منظر میں چلی گئی تھی لیکن اس کا منطقی نتیجہ پہلے نواز شریف کی نااہلی اور پھر گزشتہ برس عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔

اس پس منظر میں اگرچہ عمران خان کا رویہ اس حد ’معقول اور قابل فہم ‘ہے کہ وہ اپنی حکومت بچانے کے لئے بدستور فوج کا تعاون حاصل رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہیں آرمی چیف کی قیادت میں ان معاملات پر غور و فکر اور فیصلوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو صریحاً وزیر اعظم اور منتخب حکومت کا دائرہ اختیار ہیں۔ وہ نیب کے خلاف اور معاشی امور پر تاجروں کی دیگر شکایات پر عمل درآمد کے لئے آرمی چیف کے مشوروں کو پوری تندہی سے ماننے کا اعلان کررہے ہیں۔

 تاہم یہ صورت حال ملک میں جمہوریت، اداروں کی خود مختاری، آئینی حدود کی پاسداری اور فوج کو صرف ملک کے دفاع تک محدود رکھنے کے اصول سے میل نہیں کھاتی۔ منتخب یا سلیکٹڈ حکومت کو خواہ اس پر کوئی اعتراض نہ ہو لیکن ملک میں قانون کی بالا دستی اور پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے کا ایوان سمجھنے کے اصول کی روشنی میں اسے جمہوریت اور آئین کے خلاف اقدام کہا جائے گا۔ اس طرح منتخب حکومت کا دائرہ کار محدود ہوگا اور وہ اپنے سیاسی منشور پر عمل درآمد کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

تاجروں سے ملاقات میں قومی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے آرمی چیف کے خیالات عمران خان کے ’فلاحی اور عوام دوست‘ ریاست کے تصور سے بھی متصادم ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کو سیکورٹی اسٹیٹ سمجھتے ہیں اور اسی کو مستحکم رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس اصول کو سیاسی پالیسی کے طور پر قبول کرلیا جائے تو عوامی بہبود کے منصوبہ کو خیرباد کہنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1284 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali