پولیس اصلاحات اور بیوروکریسی میں کشمکش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے اندر امن و مان کی صورت حال کو قابو کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، لیکن پولیس کا موجودہ نظام اس قدرفرسودہ اورگلا سڑا ہے کہ گزشتہ چارعشروں سے جو بھی حکمران منتخب ہوا ہے انھوں نے اس نظام میں اصلاحات کا وعدہ ضرورکیا ہے۔ مگرافسوس کہ کوئی بھی حکمران اس فرسودہ نظام کو بدل کروقت کے مطابق جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کرسکا۔ پولیس کے مودہ نظام میں اصلاحات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب دوعشرے قبل جماعت اسلامی، پاکستان اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی تھی تو ”پو لیس کا موجودہ نظام ختم“ قاضی حسین احمد مرحوم کے انتخابی منشور کا حصہ تھا۔ اسی طرح موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی انتخابی مہم کے دوران پولیس میں اصلا حات کا نعرہ لگایا تھا۔ جب سانحہ ساہیوال ہوا تو ایک مرتبہ پھر انھوں نے بیان دیا کہ قطر سے واپسی کے بعد پولیس اصلاحات کا آغاز کریں گے۔ پولیس میں اصلاحات ایک سنجیدہ اور مشکل کام ہے لیکن ایسا بھی مشکل نہیں کہ ناممکن ہو۔

پولیس میں اصلاحات سے قبل اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ یہ صوبائی محکمہ ہے۔ وفاق کی اس پرکوئی گرفت نہیں۔ اس وقت تین صوبوں پنجاب، خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں وفاق میں حکمران جماعت کی حکومتیں ہیں، اس لئے ان تین صوبوں میں پولیس نظام میں اصلاحات وزیراعظم عمران خان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ کہ پولیس اصلاحات کا مقصد ہرگزیہ نہیں ہوناچاہیے کہ اس محکمے کو ایک کی غلامی سے نکال کر دوسرے کے گھر کی لونڈی بنائی جائے۔

اس وقت پولیس اصلاحات کے نام پریہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ بیوروکریسی اور پولیس سروس کے افسران کے درمیان اصلاحات کے نام پراس اہم ادارے کو اپنے اپنے ماتحت کرنے کی جنگ ہورہی ہے۔ ان دونکات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کے بعد کہ پولیس صوبائی محکمہ ہے اور اصلاحات کا مقصد اس کو ایک کی ماتحتی سے نکال کر دوسرے کی غلامی میں دینا ہرگزنہیں بلکہ اصلاحات کا منشا پولیس کوعوام دوست بنانا اور جرائم کا خاتمہ ہے۔

ان دونوں نکات کو سامنے رکھ کر اگر اصلاحات کرنی ہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ پولیس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی کے لئے مسلح افواج کی طرح ایک منظم طریقہ کار وضع کیا جائے۔ صوبائی محکمہ ہونے کے ناتے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا کردار ختم کرکے افسروں کی تقرر کا اختیار صوبائی کمیشن کو دیا جائے۔ سپاہی اورافسروں کی تربیت کے لئے مسلح افواج کی طرز کی اکیڈمیاں بنائی جائے۔ ہرصوبے میں پہلے سے پولیس ٹریننگ سنٹرموجود ہے۔

اس میں کاکول، پی اے ایف اکیڈمی رسالپور یاپاکستان نیول اکیڈمی کے طرزکے مطابق نظام نافذکرنے کی ضرورت ہے۔ سپاہی اورافسروں کی ترقی کے لئے منظم طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح مسلح افواج میں وہی سپاہی اور افسر ترقی کرتا ہے جو دوران ملازمت محکمانہ تربیت کے مختلف کورس مکمل کرتا ہے تو پھر ان کو ترقی دی جاتی ہے۔ یہی طریقہ کار پولیس میں بھی سپاہی اورافسر وں کی ترقی کے لئے رائج کرنا چاہیے۔ اس وقت پولیس وہ واحد محکمہ ہے کہ اس میں تمام تبادلے وائرلیس پرہوتے ہیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ پولیس اصلاحات میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ سپاہی اورافسر ایک سٹیشن میں کتناوقت گزارے گا۔ پھربغیر کسی سفارش کے ان کا تبادلہ کردیا جائے گا۔ میرے خیال میں سپاہی کے لئے تین سال اورافسر کے لئے چارسال ایک سٹیشن پر ڈیوٹی کا دروانیہ ہونا چاہیے۔ اس سے پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ کا خاتمہ ہوجائے گا، جبکہ سفارش کا کلچر بھی ختم ہو جائے گا۔ پولیس اصلاحات میں ضروری ہے کہ اوقات کار کا تعین ہوکہ ایک سپاہی شب و روز میں کتنی ڈیوٹی کرے گا۔

جنرل ڈیوٹی اورتفتیش کے شعبوں کو الگ رکھا جائے۔ دوران تربیت پولیس اہلکاروں اورافسروں کو دوسرے نصاب کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کو بھی پڑھایا جائے۔ پولیس کے نظام میں ”چوکی“ اور ”تھانہ“ کو بنیادی حیثیت حا صل ہے۔ ان دونوں یونٹوں کوجدید ٹیکنا لوجی سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شکایت درج کرنے کے لئے سائل کو باہر سے کاغذلانا پڑتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی رہائش کا مناسب بندوبست نہیں۔ کسی بھی یونٹ میں کھانا تیار کرنے کے لئے کچن تو دور کی بات مناسب اور موزوں جگہ میسر نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس اصلاحات میں اس بات کو شامل کیا جائے کہ ان دونوں یونٹوں میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کا مناسب انتظام ہو۔ کھانا تیارکرنے کے لئے کچن اوردیگرسہولیات کوفراہم کیا جائے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جب پولیس اہلکار کا تبادلہ ہوتا ہے تو اسے اپنی چارپائی کو بھی ساتھ لے جانا ہوتا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ چارپائی ہریونٹ میں موجودہو۔ جب پولیس اہلکار پولیس لائن سے تبادلے کے بعد ”چوکی“ یا ”تھانہ“ میں فرائض سرانجام دیتا ہے تو پھر ان پولیس اہلکاروں کی جسمانی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔

اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں یونٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے جسمانی ورزش کا انتظام ہو جس میں ان دونوں یونٹوں میں موجود تمام اہلکار بغیر کسی تفریق کے حصہ لیں تا کہ ان کی جسمانی ساخت مناسب رہے۔ ساتھ ہی ہتھیاروں کے استعمال کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ اس وقت پولیس کے زیادہ تراہلکار وہ ہیں کہ جنھوں نے بھرتی ہونے کے بعد دوران تربیت بندوق چلائی تھی جبکہ ملازمت میں آنے کے بعد سالوں گزر گئے لیکن انھوں نے نہ کوئی گولی چلائی ہے اور نہ ہی بندوق کو کھول کردوبارہ جوڑنے کی مشق کی ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ مہینے میں ایک مرتبہ نشانہ بازی اور بندوق کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی مشق کو بھی جسمانی ورزش کے ساتھ لازمی قراردیا جائے۔ موجوہ دور چونکہ ٹیکنالوجی کادور ہے اس لئے پولیس اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور جرئم کے روک تھام میں اس کے استعمال کو ان کی تر بیت کا لازمی حصہ قرار دیا جائے۔

لیکن اس تمام اصلاحات کے ساتھ اب سوال یہ ہے کہ صوبائی پولیس سربراہ، ضلعی پولیس چیف، تحصیل پولیس چیف اور ایس ایچ او کے تقرر کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ صوبائی پولیس سربراہ (آئی جی پی) کا تقرر صوبائی پولیس سروس سے ہو۔ پولیس اصلاحات میں اس شق کو شامل کیا جائے کہ کسی بھی آئی جی پی کو ملازمت میں توسیع نہیں ملے گی۔ ہرآئی جی پی کی فارغ الخدمت ہونے سے ایک مہینہ قبل وزیر اعلی ایک بورڈ تشکیل دے گا۔ چیف سیکرٹری اس کا سربراہ ہوگا۔

یہی بورڈوزیراعلی کو صوبائی پولیس سروس کے تین سینئرافسران کے ناموں کو منظوری کے لئے ارسال کرے گا۔ ضلعی پولیس چیف کا تقررآئی جی پی کی سربراہی میں بورڈ کرے گا۔ تحصیل پولیس چیف کا تقرر، ضلعی پولیس چیف کی سربراہی میں بورڈکرے گا جبکہ ایس ایچ او کا تقرر تحصیل پولیس چیف کی سربراہی میں بورڈ کرے گا۔ بورڈ کے ارکان کون ہوں گے؟ مطلوبہ افسروں کے لئے اہلیت کا معیار کیا ہوگا؟ اگر زندگی رہی تو اس کاتذکرہ اگلے کالم میں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •