نیویارک ٹائمز میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں اداریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

27 ستمبر کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بڑی جاندار اور تاریخ ساز تقریر کی۔ جس میں تہذیبوں کے تصادم، اسلاموفوبیا اور دہشت گردی پرنہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی دنیا کا موقف بھی واضح کیا۔ عمران خان نے تقریر کا بیش تر حصہ کشمیر کے لئے وقف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی امن کے لئے خطرہ قراردیا۔ جو حل نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف پاکستان اور ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو نیوکلیئر جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ پاکستان میں عمران خان کی تقریر کے حوالے سے مختلف ردعمل سامنے آئے اور اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ بعض تجزیہ نگاروں کی طرف سے بھی تقریر کوتنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور اس تنقید کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی ابتر معاشی صورت حال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم میں نے امریکہ میں موجود کشمیری شہریوں سے جب عمران خان کی تقریر پر بات کی تو ان سب نے متفقہ طورپراس بات کا اقرار کیا کہ اس تقریر نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تقریر کے بعد کشمیری نوجوانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین بھی بھارت مخالف مظاہروں میں حصہ لے رہی ہے اور ان مظاہروں میں کہیں زیادہ شدت دیکھی جا سکتی ہے۔

یاسمین سائیکیا جو کہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ، فلسفہ اور مذہب میں بطور پروفیسر پڑھا رہی ہیں کے مطابق عمران خان نے کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ مس اطہر ضیا جو کہ یونیورسٹی آف ناردرن کولوراڈو میں شعبہ جینڈر اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں کے مطابق بطور کشمیری وہ پاکستان اور عمران خان کی شکر گزار ہیں جہنوں نے ایک عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے موثر انداز میں پیش کیا۔

عمران خان کی مذکورہ تقریر کے بعد اہم پیش رفت مورخہ 02 اکتوبر، 2019 کو سامنے آئی جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کشمیر کے حوالے سے اداریہ بعنوان

” The UN Can ’t Ignore Kashmir Anymore“

شائع کیا۔ نیویارک ٹائمز میں اداریہ شائع ہونا نہ صرف تحریک کشمیرکے لئے امریکہ میں پائے جانے عوامی جذبات اور بیانیہ کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ امریکہ کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا بھی واضح اشارہ ہے۔ کیونکہ نیویارک ٹائمز کے بارے میں عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی کو مدنظر رکھتا ہے۔

اس اداریے کی خاص بات الفاظ کا چناؤ اور استعمال ہے۔ اخبار نے بڑے واضح الفاظ میں مودی کو قوم پرست ہندو کہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے نیوکلئیر ہتھیاروں اور مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی صورت میں ان نیوکلئیر ہتھیاروں کے استعمال اور اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ نریندرا مودی کے دعوی ”جس میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کوبنیادی انسانی حقوق کی فراہمی قراردیا“ کو غیر منطقی اور غیر مناسب کہتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی بھارتی جمہوریت کو مارشل لاؑ قرار دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے مسئلہ کشمیر حل نہ کرنے پر نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ دوسرے ممالک جن کے مالی و تجارتی مفادات بھارت سے ایک بڑی تجارتی منڈی ہونے کے ناتے جڑے ہیں ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اور سیکورٹی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مودی کو اس کے ظالمانہ اقدامات سے روکے اور اگر مودی سمجھتا ہے کہ وہ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جدوجہد کو دبا سکتا ہے تو ایسا بالکل نہیں۔

نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے اسی اداریے میں اخبار نے غیر متعصب اور مدلل انداز میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کے متعلق تجزیہ و تنقید نگاری ایک لمبے عرصے تک زیر بحت رہنے کی امید ہے۔ لیکن ایک حقیقت بڑی واضح ہے کہ اس تقریر کے بعد عالمی رائے عامہ میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کو جہاں اسلاموفوبیا اور دہشت گردی جیسے تصورات کو ازسر نو دیکھنا اور سمجھنا پڑرہا ہے وہی مسئلہ کشمیر کو بھی مالی و تجارتی مفادات کے بجائے عالمی امن اور انسانی بنیادی حقوق کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس کا کریڈٹ عمران خان کو نہ دینا نا انصافی ہو گی۔

مزید براں کشمیر، اسلام، ہندو قوم پرستی، ہندوتوا اور دہشت گردی کے متعلق جو بحث شروع ہوئی ہے اس کو حکومتی سطح پر سفارتی ذرائع استعمال کر کے مزید موثر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ انفرادی سطح پر بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اس بیانیہ کی ترویج کی جانی چاہیے۔ تا کہ آنے والی نسلوں کے لئے اس دنیا کو ایک بہتر جگہ بنایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •