سرکاری ملازمین کا عوام سے ناروا رویہ اور اس کا ممکنہ سدباب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے ایک سرکاری دفتر کی چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو منظر عام پہ آئی ہے۔ اس ویڈیو کو بغور دیکھنے سے مملکت خداداد کے سرکاری دفاتر کی عمومی حالت زار کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

ویڈیو میں ایک خاتون سائلہ اپنی درخواست ہاتھ میں تھامے ”صاحب“ کی توجہ کی منتظر کھڑی ہیں۔ شاید زبانی ان کی منت سماجت بھی کر رہی ہوں گی (لیکن ہم ان کی آواز سن نہیں پا رہے ) لیکن ”صاحب“ ان کو یوں نظر انداز کر رہے ہیں جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔

دفتر میں اہلکاروں کی فوج ظفر موج مکھیاں مار رہی ہے لیکن کسی میں اتنی غیرت اور شرم نہیں کہ اس خاتون سائلہ کی بات ہی سن لیں۔ سب اپنی اپنی کرسی پہ فرعون بنے بیٹھے ہیں اور وہ خاتون اپنی درخواست پکڑے ملتجی نظروں سے ”صاحب“ کو دیکھ رہی ہیں۔

زچ ہو کر خاتون اپنی درخواست ”صاحب“ کے سامنے رکھتی ہیں کہ وہ اس پہ شاھی فرمان جاری کریں۔ خاتون کی اس جرآت پہ ”صاحب“ کی فرعونیت اپنی آخری حدوں کو چھو لیتی ہے اور وہ درخواست اٹھا کے زمین پہ پٹخ دیتے ہیں۔ خاتون جھک کے فرش سے اپنی درخواست اور تار تار عزت سمیٹتی ہیں اور کوئی احتجاج کیے بغیر ”صاحب“ کے دربار سے نکل جاتی ہیں۔

خدا جانے اس خاتون کے دل پہ کیا گزر رہی ہو گی لیکن دفتر میں بیٹھے عوام کے ان ”خادمین“ کو ذرہ برابر پرواہ نہیں۔ یہ منظر تو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا اور ان صاحب کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی ہو گیا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اندوہناک مناظر سرکاری دفاتر میں روزانہ پیش آتے ہیں اور عوام وقت کے ان فراعین سے ڈرتے ہوئے شکایت لب پہ نہیں لاتے۔

یہ حضرت جن کے در پہ خاتون فریاد لے کے حاضر ہوئیں تھیں، گریڈ سولہ کے ملازم ہیں اور لینڈ ریکارڈ افسر کہلاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سے کم درجے کے سرکاری ملازمین کے رویے میں ان سے بھی زیادہ فرعونیت ہوتی ہے۔ جوں جوں ملازمت کا درجہ کم ہوتا جاتا ہے، فرعونیت بڑھتی جاتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں سب سے بڑے فرعون ”صاحب“ کے دفتر کے باہر کھڑے چپراسی صاحب ہوتے ہیں جو سائلین اور عوام کو پرے پرے دھتکارتے رہتے ہیں۔

اسی ضلع وہاڑی میں تعینات ہم سب کے ایک عمدہ لکھاری، اے ڈی سی جی قمر زمان قیصرانی صاحب ایک اعلی افسر ہیں لیکن انتہائی شفیق اور منکسر المزاج شخص ہیں اور عوام کے ساتھ ہمیشہ بہت اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ ڈی سی کاٹھیہ صاحب بھی بہت اچھے انسان ہیں۔ لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈی جی حافظ شوکت صاحب میرے بیچ میٹ ہیں۔ انتہائی مٹی ہوئی اور نفیس شخصیت ہیں اور سب کے ساتھ انکسار سے پیش آتے ہیں لیکن ان سینیئر افسران کے مقابلے میں ان لینڈ ریکارڈ افسر ”صاحب“ کا رویہ دیکھ کے لگتا ہے کہ یہ خود کو ایک الگ ہی مخلوق سمجھتے ہیں۔

مجھے سرکاری ملازمت کرتے سولہ سال ہو گئے ہیں۔ آج تک کا تجربہ یہی کہتا ہے کہ مجموعی طور پر گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے ملازمین زیادہ تر شفیق اور با اخلاق ہوتے ہیں اور نچلے درجے کے ملازمین درشت مزاج اور جلے کٹے۔ شاید یہ حضرات معاشرے سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لے رہے ہوتے ہیں۔

لاس اینجلس کے پاکستانی قونصل خانے کی ملازمت کا میرا سارا عرصہ اپنے جونیئر ساتھیوں کا عوام سے پیش آنے والا رویہ ٹھیک کرنے کی کوشش میں گزرا۔ ان میں سے بعض تو میرے ذاتی دشمن ہو گئے اور جھوٹی شکائتیں لگانے لگے۔ لیکن اتنا ضرور ہوا کہ عملے کے دل میں یہ تصور راسخ ہو گیا کہ ہم نے دفتر آنے والوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے اور مسکراتے ہوئے ان کی خدمت کرنی ہے۔ دفتر میں لکھ کے لگا دیا تھا کہ عوام کے کسی بھی کام سے میرے علم میں لائے بغیر انکار نہیں کیا جا سکتا۔

عوام کے ساتھ سرکاری ملازمین کے اس تحکمانہ سلوک کو ختم کرنے کے لئے ہم سب کو مل کے کردار ادا کرنا ہو گا۔ سرکاری ملازمین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی خادم ہیں، حاکم نہیں۔ تمام سرکاری دفاتر میں آڈیو ریکارڈنگ والے کیمرے لگنا چاہئیں تا کہ بڑے افسران کو بھی پتہ چلتا رہے کہ ان کی ناک کے نیچے عوام کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔

عوام کو بھی اپنے دلوں سے سرکار کا خوف نکالنا ہو گا۔ یہ انگریز کی سرکار نہیں، جو حاکم تھی اور ہم لوگ محکوم۔ پاکستان کے مالک سرکاری ملازم نہیں بلکہ عوام ہیں۔ آپ لوگ ہیں۔ اپنی ملکیت کے لئے اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کیجئے تاکہ اس لینڈ ریکارڈ افسر جیسے ملازمین کو آئندہ کسی عام آدمی سے ہتک آمیز رویہ رکھنے کی جرات نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •