کابینہ ہے کہ گاڑی کے ٹائر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے میں عزت تب ہی ملتی ہے اگر آپ کے نیچے گاڑی ہو، کوئی شریف آدمی اوکھے سوکھے گاڑی خرید بھی لے تو اس کے اخراجات اس کی سکت میں نہیں ہوتے جس پر وہ اپنی سفید پوشی چھپانے کے لئے سیکنڈ ہینڈ پارٹس جو کہ کباڑیوں سے سستے داموں مل جاتی ہے ڈلوا کر گاڑی کو چلائے رکھنے کی کوششوں میں رہتا ہے، سفید پوش کے لئے سب سے مشکل وقت اس وقت آتا ہے جب گاڑی کے ٹائر جواب دیدیں، سکینڈ ہینڈ ٹائر ڈلوائے تو دھڑکا ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں لانگ روٹ پر ٹائر برسٹ نہ کر جائے اور جان ہی نہ چلی جائے، اس طرح کے کئی وسوسے اسے گھیر لیتے ہیں، بالآخر وہ اپنے مکینک (کاریگر) کے پاس مشاورت کے لئے چلا جاتا ہے۔

کاریگر بڑی مہارت اور دانشمندی کے مشورے دیتا ہے کہ دیکھیں جی حالات جو بھی ہوں آپ کی گاڑی چلتی رہنی چاہیے، آپ اس طرح کریں کہ لاہور ریلوے سٹیشن سے دو مرمت شدہ ٹائر خرید لیں، نئے ٹائروں سے بہت کم قیمت پر ملیں گے، ان ٹائروں کو آگے ڈلوا لیں اور پرانے اگلے ٹائروں کو پیچھے کرالیں اور پرانے پچھلے ٹائروں میں سے جو اچھی حالت میں ہو اس کو سٹپنی رکھ لیں اس طرح آپ کا خرچ بھی کم ہوگا اور 6، 7 ماہ گزر جائیں گے پھر اللہ خیر کرے گا جب پیسے آئیں گے تو زیرو میٹر نئے ٹائر ڈلوالیجیے گا، بندہ خوشی خوشی اگلے ٹائر پیچھے اور پچھلے ٹائر کو سٹپنی بنا لیتا ہے اور پھر اچھے وقت کا انتظار کرنے لگتا ہے، نہ اچھا وقت آتا ہے اور نہ ہی نئے ٹائر خریدے جاتے ہیں اور سفید پوش اسی عمل سے زندگی گزار دیتا ہے۔

کچھ ایسا حال ہی ہمارے میانوالی کے ”خان“ کی حکومت کا ہے، ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے، وفاق میں کابینہ بنانے کے لئے ہیرے چنے جاتے ہیں، احمق عوام کو خوشحالی کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں اور عوام تبدیلی کی آس میں ان خوابوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد کپتان کو پتہ چلتا ہے کہ میں نے جو ہیرے چنے تھے وہ تو کوئلہ ثابت ہوئے ہیں جن کے کرتوتوں سے حکومت کا منہ ہی کالا ہوا ہے، پھر کپتان جی تڑیاں لگانے پر اترآتے ہیں جو وزیر کام نہیں کرے گا اسے فارغ کردیا جائے گا۔

بار بار کی تڑیوں سے کام نہ چلا تو بلآخر کپتان جی کو کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا اور گاڑی کے ٹائروں کی طرح کابینہ میں کچھ وزیر نئے لا کر آگے لگا دیے اور جن میں کچھ دم خم تھا انہیں پیچھے کردیا اور پیچھے والے جن وزیروں میں کچھ جان باقی تھی ان کو سٹپنی بنا دیا۔ کابینہ کے ٹائر آگے پیچھے کرنے سے عوام کو پھر آس بندھی کہ شاید حالات بہتر ہوجائیں مگر کپتان کو تو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ وزیر آگے پیچھے اور سٹپنی بدلنے سے کام زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، بس وہی 6 یا 7 ماہ والی بات۔

ایک سال کی حکومت کے 6 یا 7 ماہ بعد گھسے پٹے وزیر آگے، پیچھے کرنے کے بعد اب پھر وہی پریکٹس دہرانے کی تیاری کی جارہی ہے، پھر وارننگ جاری کردی گئی ہے، مگر اب کی بار صورتحال بہت دلچسپ ہے پاہ فردوس کا کہنا ہے جو بھی ہو گزارا میرے ساتھ ہی کرنا ہے۔

مانا کہ معیشت کی گاڑی تباہ حالت میں تبدیلی سرکار کو ملی، ضرورت اس امر کی تھی کہ جیسے بھی ہو گاڑی چلتی رہے چاہے اس کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو مگر ایک سال کی حکومت نے تو معیشت کی گاڑی کو ہی جام کرکے رکھ دیا ہے، گلی محلے کی دکان سے لے کر بڑی بڑی صنعتوں تک سب کا پہیہ جام ہوچکا ہے، حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شاید تاریخ میں پہلی بار صنعتکار اور سرمایہ دار آرمی چیف سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور صنعتوں کی بربادی کا رونا رو رہے ہیں۔

ہماری قوم ہمیشہ جمہوریت کی بات کرتی ہے مگر جب مشکل پڑتی ہے تو ہمیشہ فوج کے دروازے پر ہی دستک دیتی ہے، بچپن سے سنتے آئے کہ ملک کی خوشحالی جمہوریت سے وابستہ ہے، ملک پر فوج 35 سال حکومت کرتی رہی جس کی وجہ سے ادارے مضبوط نہیں ہوسکے مگر اب کیا ہوا ہے؟

 2002 ء سے لے کر 2019 تک جمہوریت کی گاڑی بلا تسلسل فراٹے بھرتی دوڑ رہی ہے مگر آج حالت یہ ہے عام آدمی ایک وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے، اب کیسے فوج کو موردالزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ 17 سالہ جمہوریت کا پھل یہ ملا ہے کہ لاکھوں لوگ بیروز گار ہوچکے ہیں، حکومتی ادارہ ہو یا نجی، ہر ادارے میں ڈاؤن سائزنگ کی تلوار چل رہی ہے، مہنگائی ساتویں آسمان سے بھی اوپر چلی گئی ہے، قوم آج جمہوریت کا مزہ لے رہی ہے۔

22 سال کی جدوجہد کے بعد حکومت میں آنے والے میانوالی کے خان کے پاس اتنے کھلاڑی بھی نہیں کہ وہ اپنا بیٹنگ آرڈر بنا سکے، حد تو یہ ہے ”خان“ کے پاس اوپنر بھی نہیں ہیں، مانگے تانگے کے کھلاڑی ہانک کر ٹیم بنانے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے، بہتر ہوتا خان صاحب اپنے پارٹی ورکرز پر بھروسا کرتے اور ان کو آزماتے مگر خان نے اپنی ٹیم میں ریلو کٹے شامل کیے جس کا نتیجہ خان سمیت پوری قوم بھگت رہی ہے۔

کسی نے بھوکے سے پوچھا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو بھوکے نے جواب دیا چار روٹیاں، قوم روٹی کو ترس رہی ہے اور ہمیں کرپشن کے خاتمے کا سیرپ پلایا جارہا ہے، شاباش خان صاحب، کرپشن کے خاتمے کے سیرپ سے عوام کو بہت افاقہ ہو رہا ہے، آپ اپنی کابینہ کے پرانے اور گھسے پٹے ٹائر آگے پیچھے کرتے رہیں، مزید 6، 7 ماہ گزر ہی جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •