تقریر اچھی ہو گئی، اب آگے سوچیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقد ہوتا ہے۔ جہاں دنیا بھر کے سربراہان مملکت اپنے ممالک کا نقطہ نظر مختصرا بیان کرتے ہیں۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہے اور اس پلیٹ فارم کا حاصل وصول کچھ بھی نہیں۔ اس بار مگر اس اجلاس اور اس میں وزیراعظم پاکستان کے خطاب کا غیر معمولی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس کی بڑی وجہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے حالات تھے۔

بھارت کے اس اقدام پر عوام میں سخت اشتعال پیدا ہوا اور ملک میں احتجاج اور جلسے جلوس بھی ہوئے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کنٹرول لائن کی جانب مارچ کی خواہش بھی رکھتی تھی۔ لیکن عمران خان صاحب نے مظفر آباد میں خطاب کے دوران ان کو اپنے جنرل اسمبلی کے خطاب تک اس عمل سے روک دیا۔ اسی باعث ان کی تقریر کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

اب جبکہ عمران خان صاحب یہ تقریر کر چکے ہیں۔ میڈیا میں یہ بحث اب تک جاری ہے کہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم پاکستان کا خطاب کیسا تھا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف اور عمران خان کے مداحوں کے نزدیک یہ تقریر اپنی نوعیت کی واحد تھی اور ان کا کہنا ہے کہ آج تک کبھی کسی مسلمان لیڈر نے اتنی عمدگی سے اسلام اور پاکستان کا مقدمہ اس فورم پر پیش نہیں کیا۔ دوسری طرف ان کے ناقدین ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی تقاریر کے حوالے پیش کرتے ہوئے اصرار کر رہے ہیں کہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی تقریریں ہمارے حکمران کرتے رہے ہیں۔

بہرحال ہر شخص اپنے خیالات و نظریات کا اسیر ہے۔ بالخصوص ہمارا معاشرہ جس تقسیم کا شکار ہے کسی کے لیے بھی اپنے تعصبات کو پس پشت ڈال کر آزادانہ تجزیہ آج کے دور میں ممکن نہیں۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے حالیہ سیشن میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے بھی نہایت پر مغز و مدلل تقاریر کی ہیں۔

عمران خان کی تقریر چونکہ چار بڑے نکات پر مشتمل تھی لہذا اس پر بات کرنے کے لیے سب کو مرحلہ وار الگ الگ دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ماحولیاتی آلودگی پر بات سے کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں ماحولیاتی آلودگی کے باعث سنگین خدشات لاحق ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کا حصہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

جو بڑے صنعتی ممالک آلودگی پیدا کرنے میں سر فہرست ہیں وہاں پہلے ہی بہت سے لوگ اور ادارے انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنی حکومتوں کی توجہ اس سنگین مسئلے پر دلانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ حکومتیں مگر اپنے وقتی مفادات کو مقدم سمجھتے ہوئے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ لہذا وزیراعظم صاحب کو اس موضوع پر بات کر کے نقار خانے میں طوطی کی صدا والے حال سے بچنے کے لیے کشمیر تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا۔ خان صاحب کی تقریر کا دوسرا نکتہ منی لانڈرنگ تھا۔

اس میں شبہ نہیں کرپشن تیسری دنیا کے مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ غریب ممالک سے جو پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر منتقل ہوتا ہے اس سے مغربی ممالک میں آف شور کمپنیاں قائم کی جاتی ہیں۔ ہر کسی کے علم میں ہے کہ ملک میں اس وقت احتساب کے نام پر کارروائیاں جاری ہیں جس کا نشانہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ہیں اور ان میں سے اکثر پر منی لانڈرنگ و گمنامی جائیداد وغیرہ جیسے الزامات ہیں۔ اس لیے جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر وزیراعظم پاکستان کی زبان سے منی لانڈرنگ سے متعلق ادا ہوئے الفاظ کو ان کے سیاسی مخالفین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیرر فنناسنگ اور منی لانڈرنگ کے مسئلے پر ہی FATF نے ہمیں گرے لسٹ میں ڈالا ہوا جبکہ انڈیا ہمیں بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ اس نازک مسئلے کو خوامخواہ چھیڑنے سے گریز ہی بہتر تھا۔

اس تقریر کا تیسرا پوائنٹ توہین رسالت ﷺ کے بارے میں مسلمانوں کی تشویش کا مقدمہ مغربی دنیا کے سامنے رکھنا تھا۔ توہین رسالت ﷺ کے واقعات پر مسلم معاشرے میں اتنا شدید ردعمل کیوں ہوتا ہے، اس کی نزاکت کو سمجھانے کی ضرورت تھی۔ درست شکوہ کیا گیا کہ دنیا ہالو کاسٹ کے حوالے سے حساس ہے تو اسے ہماری تشویش کا خیال رکھنے میں کیا امر مانع ہے۔ توہین رسالت ﷺ کے حوالے سے جتنا مدلل و جامع مقدمہ پیش کیا عمران خان کو اس کی داد ضرور ملنی چاہیے۔

آخری پوائنٹ کشمیر کے بارے میں تھا۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا حالات کی سنگینی دنیا پر واضح کرنے کے لیے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کسی بھی وقت دو نیوکلیئر ممالک کے درمیان تصادم کی وجہ بن سکتا ہے۔ جس انداز سے عمران خان نے یہ کیس پیش کیا، یہ بھی لائق تحسین ہے۔ لیکن کچھ کی رائے ہے خطاب میں یکسوئی ہوتی تو شاید اس سے بہتر بھی بہتر ممکن تھا۔

اس سے قطع نظر یہ تقریر فصاحت و بلاغت کا شاہکار تھی یا نہیں۔ سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس تقریر سے حاصل کیا ہوا۔ زمینی حقائق یہ ہیں مقبوضہ جموں کشمیر لاک ڈاؤن سے ابھی تک اجتماعی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس خطاب کے بعد بھی وہاں کے باسیوں کی زندگی اجیرن ہے اور وہ بدستور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ بلکہ گزشتہ دو چار دنوں میں مزید کئی کشمیری نوجوان انڈین فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف والے سیخ پا ہو کر یہ کہتے ہوئے کہ جنرل اسمبلی میں تقریر ہی ہو سکتی تھی، یہ فراموش کر دیتے ہیں نیویارک میں خان صاحب کی تقریر کے علاوہ بھی مصروفیات تھیں۔

نہ تو ثالثی کی پیشکش کرنے والے ٹرمپ نے انہیں پکڑائی دی اور نہ ہی عالمی رہنماؤں میں سے کسی کو وہ کشمیر کے حق میں بیان دینے پر راضی کرسکے۔ لمحہ فکر ہے کہ خالصتا انسانی حقوق پامالی کی مضبوط بنیاد پر استوار ہمارے موقف کو پذیرائی نہیں مل رہی اور ہم تنہائی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کا تدارک لفاظی سے نہیں ٹھوس اقدامات سے ہو گا۔ تحسین کے ڈونگرے ختم کرنے اور خمار خطابت اترنے کے بعد کچھ دھیان اس طرف لگانے کی بھی ضرورت ہے۔

پس تحریر۔ تنقید اور مسائل کی نشاندہی میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تنقید پر حکمران کا رد عمل ہی اس کا ظرف کا پتہ دیتا ہے۔ پچھلے دنوں انگریزی اخبار کے کارٹونسٹ کی فراغت اور اب عمران خان کے بہنوئی اور کزن حفیظ اللہ نیازی پر ایک ماہ کی پابندی حکمرانوں کی برداشت کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی صاحب سے میرا ذاتی طور پر نہایت احترام کا تعلق ہے، وہ اختلاف کرتے وقت بھی کبھی اخلاق سے گری گفتگو نہیں کرتے۔ ان سے متعلق اگر کسی کو شکایت تھی تو پابندی سے بہتر تھا عدلیہ سے رجوع کیا جاتا۔ اس موقع پر میڈیا کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ یہ سلسلہ چند ناموں تک نہیں رکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •