مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کر دیا
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی ملین مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپنی جماعت کے مجلس عاملہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ موجودہ حکومت جعلی حکومت ہے۔
”تمام نے اتفاق سے 25 جولائی کے انتخابات کو مسترد کر دیا ہے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ایم اے اس حوالے سے 15 ملین مارچ کر چکی ہے اور عوام میں بیداری پیدا کی ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ناجائز حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملکی معیشت ڈوب گئی اور عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی گئی۔
”جے یو آئی ایف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا ہے۔ 27 اکتوبر کو کشمیری عوام یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور ان سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ 27 اکتوبر سے ہی پورے ملک سے آزادی مارچ کا آغاز کر رہے ہیں اور حکومت کو چلتا کریں گے۔“
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کشمیر پر سودا کیا، اسے بیچ کر اب مگر مچھ کے آنسو بہائے جا رہے ہیں۔ عمران مذہب کی بات کرتا ہے۔ ہم ان کے مذہب کو جانتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالی گئی تو پہلی، پھر دوسری اور پھر تیسری سکیم بھی سامنے ہے۔ حکومت کے ساتھ کسی معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
”ہمارے اصولی تحفظ کو کوئی تحفظ دیتا ہے تو اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ ہمارا مقابلہ ڈینگی سے نہیں، ڈنگے سے ہے۔ ہم اداروں سے کوئی تصادم نہیں کریں گے، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں۔ ہم کمانڈ آف یونٹی کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، کشمیر کا سودا نامنظور ہے۔“


