مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان عمران خان آج اپنے مختصر دورے پر گلگت بلتستان پہنچ رہے ہیں یا پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ اپنے دورے میں وہ سکردو کے میونسپل گراؤنڈ میں عوام سے خطاب کریں گے جس میں متوقع طور پر گلگت بلتستان کے لئے کسی قسم کے ’پیکج‘ کا اعلان کریں گے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و جی بی علی امین گنڈاپور، گورنر جی بی راجہ جلال حسین مقپون، وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن، تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور جی بی انتظامیہ ان کے استقبال کے لئے سکردو میں موجود ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے دورہ سکردو سے قبل علی امین گنڈاپور نے بھی طویل انتظار اور جھوٹے بہانوں کے بعد اپنا پہلا دورہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق بھی ’کشمیر بچاؤ مہم‘ کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور گھڑی باغ چوک میں جمعرات کے روز عوامی جلسے سے خطاب کیا ہے۔ علی امین گنڈا پور نے روایتی سیاستدانوں کی طرح سکردو میں ایک مختصر خطاب میں سڑکوں، ہسپتالوں اور دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا پیغام پہنچایا ہے۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھی روایتی تنظیمی اور ریاستی موقف کو پیش کیا بھارت کے حالیہ اقدامات پر سخت تنقید کی۔ سینیٹر سراج الحق نے البتہ یہ بات بڑے دانشمندی سے اٹھائی کہ گلگت بلتستان میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے، یہاں کا وزیراعلیٰ اسلام آباد میں اپنے فنڈز کی کمی کی شکایت لے کر گریڈ 18 کے افسر وں کے دفاتر میں گھومتا ہے تو ہمیں سخت افسوس ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ ان کا دور روایتی نہیں ہوگا بلکہ روایات کے بتوں کو پاش پاش کریں گے۔ اس دعوے کے عملی اقدامات کے طور پر قومی سطح کی لیڈرشپ کو جیلوں میں بھیج دیا ہے اور معاشی سطح پر حکومتی منشور میں آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر نہ جانے سمیت کئی دیگر اعلانات شامل تھے جن میں سے متعدداعلانات ہوائی ثابت ہوگئے ہیں اور عوام پر نزلہ گرچکا ہے۔ دیگر معاشی زنجیروں سے نکلنے کے لئے بھی پھڑپھڑارہی ہے لیکن قفل تادم تحریر کھل نہیں سکا ہے۔

یہ تحریک انصاف کے دعوے کا امتحان تھا یا بدقسمتی کہ ان کے دور حکومت میں ہندوستان نے بھی روایات کی زنجیر توڑ تے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ 5 اگست کو اٹھائے گئے بھارتی اقدامات سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان لفظی گولہ باری اور عالمی سطح کی لابنگ جاری ہے جو حسب روایت پاکستان کے حصے میں کمزور ہی رہی ہے۔

مسئلہ کشمیر کے تین انتظامی یونٹوں میں سیاسی طور پر سب سے اہم انڈیا کے زیر تسلط کشمیر ہے جسے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت دی گئی تھی جبکہ 35۔ A کے تحت مراعات بھی دیے گئے تھے۔ دوسرا اہم سیاسی مرکز آزاد کشمیر رہا ہے جس کی حیثیت پاکستان کے آئینی ایکٹ کے تحت وضع ہے جبکہ سیاسی طور پر سب سے کم زیر بحث گلگت بلتستان رہا ہے البتہ بدقسمتی سے اپنی جغرافیائی محل و قوع کی بنیاد پر سب سے زیادہ اہمیت اسی خطے کی رہی ہے۔

مسئلہ کشمیر سے قبل بھی یہ خطہ گریٹ گیم کا حصہ رہا ہے کیونکہ یہ خطہ بیک وقت چائینا، افغانستان، انڈیا، کشمیر کے دیگر یونٹوں، وسطی ایشیائی ممالک اور کچھ فاصلے پر روس سے بھی ملتا ہے جس کی وجہ سے ان تمام قوتوں کا یہاں مفاد وابستہ رہتا ہے جس طریقے سے افغانستان کے سیاسی خلاء میں دیگر ممالک کو اپنا ایجنڈا اور مفاد موجود ہے۔ قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان کے دور میں انگریزوں کو یہ غم کھائے جارہا تھا کہ اس خطے کے ذریعے روس اپنا کمیونسٹ نظام پوری دنیا تک لے کر آسکتے ہیں، اسی بنیاد پر میجر براؤن نامی کردار کا تاریخی کردار تاریخ میں محفوظ ہوچکا ہے۔

ہندوستان اپنے جغرافیائی عقیدت کی بنیاد پر ہمیشہ اس دعوے میں رہا ہے کہ گلگت بلتستان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، مسئلہ کشمیر سے جڑنے کی وجہ سے ان کو دعویٰ دہرانے میں مزید آسانی پیداہوگئی، نریندر مودی سمیت دیگر ہندوستانی لیڈرز کے اس حوالے سے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور گلگت بلتستان سطح پر سیاسی قیادت کی عدم موجودگی کی وجہ سے دونوں علاقوں کا قانونی رشتہ اور انتظامی معاملات بھی کمزور رہے ہیں۔ 62 سالوں تک گلگت بلتستان حکمرانوں کے من پسند اور من مانے طور طریقوں پر چلتا رہا۔ 2009 سے قبل کا یہاں پر رائج نظام نہ کسی علاقے میں تھا اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی شکل تھی البتہ پیپلزپارٹی حکومت نے 2009 میں پہلی مرتبہ صدارتی حکمنامے کے مطابق صوبائی طرز حکومت دیدی اور مسلسل تیسری حکومت اسی طرز کی حامی نظر آرہی ہے۔ صوبائی حیثیت یا صوبائی طرز حکومت بظاہر خودمختار سیٹ اپ ہے جبکہ عملاً بے اختیار اور کھوکھلا نظام ہے جس کی نشاندہی سینیٹر سراج الحق نے اپنی تقریر میں بھی کردی ہے۔

گلگت بلتستان میں پائے جانے والے خلاء پر مقامی سطح پر تفریق پائی جاتی ہے البتہ اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اور طرز حکومت ناکافی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے گلگت بلتستان میں مقبوضہ کشمیر طرز حکومت کا نعرہ بڑی مقبولیت پارہا تھا کہ انڈیا نے اس کا وجود ہی ختم کردیا۔ مسئلہ کشمیر پر اٹھائے گئے اس بھارتی اقدام کی وجہ سے ایک نیا اور خطرناک تاریخی موڑ آگیاہے۔ گوکہ ہندوستان کی نظریں ’ڈومور‘ پر ہیں لیکن ابھی تک خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ردعمل کو سنبھال نہیں پائے ہیں، جسے 52 روزہ طویل کرفیو کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔

لیکن اس اقدام کے بعد گلگت بلتستان کی صورتحال کیا ہوگی یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ارباب اختیار و فکر کو اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں اس وقت متعدد ایسے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جو ملک کے لئے لائف لائن قرار دیے گئے ہیں جن میں چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ، دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ اور دیگر شامل ہیں۔ جبکہ وسطی ایشیاء سے گیس پائپ لائن کا ایک منصوبہ بھی اسی علاقے سے گزررہا ہے مذکورہ منصوبہ سردست کسی حتمی شکل تک نہیں پہنچا ہے۔

انتہائی حساس صورتحال میں مرکزی قیادت کا علاقے کا رخ کرنا اہمیت کا حامل ضرور ہے لیکن اگر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کی طرح صرف پانی سڑک اور سکول تک محدود رہیں گے تو پیچیدگی میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان آج اپنا خطاب کرچکے ہوں گے کیا اعلانات کرتے ہیں اور عوام کو کس سٹریٹیجی کے پیچھے لگائیں گے یہ بہت غور طلب بات ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا انتہائی ناگزیر بھی ہے کہ گلگت بلتستان کسی بھی نئی (منفی) روایت کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، موجودہ معروضی حالات میں انتہائی محتاط ہوکر قومی مفاد کا قدم اٹھانا پڑے گا، وزیراعظم پاکستان سے علاقے کے مستقبل اور شناخت کا سوال ضرورہوگا لیکن قومی سطح پر از خود اس سوال کو زیر غور لاناہوگا۔ پسماندگی کے خاتمے کے لئے پوری قوم ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وزیراعظم کو دل سے خوش آمدید کہے گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •