آرمی چیف سے 6 گھنٹے ملاقات کے بعد ہم اتنے خوش کہ ایک گھنٹہ گپیں بھی ماریں: عقیل کریم ڈھیڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف سرمایہ کار عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ کاروباری افراد کی آرمی چیف کے ساتھ 6 گھنٹے کی ملاقات ہوئی، کاروباری افراد اتنے زیادہ خوش تھے کہ وہاں سے نکل کر ایک گھنٹہ گپیں بھی ماریں۔

آن لائن اخبار انڈیپنڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں عقیل کریم ڈھیڈی (اے کے ڈی ) نے بدھ کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی کاروباری افراد کی ملاقات کا احوال بیان کیا ہے۔ عقیل ڈھیڈی نے کہا کہ آرمی چیف کے ساتھ کاروباری افراد کی ملاقاتیں عموماً ہوتی رہتی ہیں، اس سے پہلے جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقاتیں ہوتی تھیں، سمجھ نہیں آ رہی کہ بدھ کو ہونے والی ملاقات کا سکینڈل کیوں بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ میٹنگ شام سات بجے کے بعد شروع ہوئی اور ہم رات ڈیڑھ بجے میٹنگ سے فارغ ہوئے۔ اس میٹنگ کے بعد کاروباری حضرات اتنے خوش تھے کہ جب ڈیڑھ بجے ہم ہال سے باہر نکلے تو عموماً اتنی لمبی میٹنگ کے بعد انسان تھک جاتا ہے لیکن ایک گھنٹہ ہم نے باہر کھڑے ہو کر گپیں بھی ماریں، یعنی یہ میٹنگ ساڑھے چھ سے سات گھنٹے تک جاری رہی۔‘

انہوں نے کاروباری افراد کی جانب سے شکوے شکایات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری میٹنگ کے دوران ایسا کوئی موقع نہیں آیا جب کوئی بد مزگی پیدا ہوئی ہو۔ ایک لمبے عرصے کے بعد اتنی لمبی میٹنگ کرنے میں اس لیے بھی مزہ آیا کیونکہ اس میں ہر مسئلے پر کھل کر بات کی گئی اور کاروباری افراد کو مکمل طور پر مطمئن کیا گیا۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران صنعت کاروں نے یہ ضرور کہا کہ ہمیں تھوڑے اعتماد کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد مثلاً میاں منشا اور ملک ریاض وغیرہ نے نیب کیسز کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا، باقی کاروباری افراد نے میٹنگ کے دوران ریفنڈ کے مسائل کا تذکرہ کیا جس پر حکومتی نمائندوں نے اس پر ہمیں 100 فیصد مطمئن کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ہمارے تحفظات وزیر اعظم کے سامنے رکھے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •