ایک تقریب میں ادھوری شرکت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اینکر اور کالم نگار، برادر جمیل فاروقی نے الحمرا میں منعقد ہونے والی ایک محفل کی دعوت دی جس سے صدر پاکستان عارف علوی کو خطاب کرنا تھا۔ پہنچنے پر پتہ چلا کہ تحریک انصاف پنجاب کے رہنما اعجاز چوہدری کی جانب سے کافی جاندار انتظامات ہوئے تھے۔ خاموشی سے ہال کے وسط کی ایک قطار کی نشست پر بیٹھ گیا مگر کچھ دیر بعد ہی جمیل فاروقی نے کال کر دی اور اصرار کر کے پہلی قطار میں میرے لئے مخصوص نشست پر لا بٹھایا۔

دعوت نامے پر وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھنے کو کہا گیا تھا جسے جانے کیوں میں سچ جان بیٹھا اور انتظار شروع ہو گیا۔ میرا نوجوان دوست ذیشان بخش جسے میں پیار سے چیتا یا سٹار رپورٹر کہتا ہوں، وہاں چیتے کی طرح ہی گھوم رہا تھا۔ ظاہر ہے فیلڈ رپورٹنگ کا نشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ میرے ساتھ والی نشست پر سجاد میر اور ان کے ساتھ سلمان غنی صاحب تشریف فرما تھے۔ سلام دعا اور پھر خاموشی سے انتظار۔ سٹیج پر جسٹس نذیر غازی، وزیر اعظم کے دست راست نعیم الحق اور سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد بیٹھے تھے اور وہ بھی عارف علوی کی آمد کے منتظر تھے۔

نہ جانے کیوں الحمرا سے میرا رشتہ ختم نہیں ہوتا، شاید اس لئے کہ میرے بچپن کی بہترین یادوں میں الحمرا میں دیکھے ہوئے وہ ڈرامے شامل ہیں جو اسی کی دہائی کے آخری اور نوے کی دہائی کے درمیان تک ہوا کرتے تھے۔ مقام افسوس ہے کہ وہ نوجوان جو اج تیس سال یا اس سے بھی چھوٹے ہیں، جانتے ہی نہیں کہ تھیٹر کے ڈرامے کس قدر حسین اور صاف ستھری تفریح ہوا کرتے تھے۔ لاہور کی اشرافیہ، پڑھے لکھے لوگ، مڈل کلاس، اور لوئیر مڈل کلاس کے لئے بھی ٹکٹ بکتے تھے۔ ہال کی نشستوں کے عین درمیان میں چند نشستیں انتظامیہ کے لئے مخصوص ہوتی تھیں۔ ہال میں فیملیز کی اکثریت ہوتی تھی۔

زندگی میں پہلی مرتبہ جس ڈرامے میں کام کیا وہ اسی ہال میں پیش کیا گیا تھا، اس ڈرامے کو لکھنے والے کا بھی یہ پہلا ڈرامہ ہی تھا جو کسی کمرشل سٹیج پر پیش کیا گیا اس سکرپٹ رائٹر کا نام ہے، ڈاکٹر یونس بٹ۔ یہ 1988 کا سال تھا۔ ڈاکٹر یونس بٹ میرے مرحوم چچا رضا سہیل کے بہت قریبی دوست ہوتے تھے۔ میں اپنے چچا سے ضد کرتا کہ وہ مجھے موٹر سائیکل کی سیر کروائیں تو وہ مجھے اکثر ڈاکٹر یونس بٹ کے پاس لے جاتے جو اس وقت ایک میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتے تھے۔ یہ دونوں باہر سڑک رکھے بنچ پر بیٹھ کر گپیں مارتے تھے۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر اکثر میرے چچا رضا سہیل اور ان کے یار غار سٹوڈنٹ ڈاکٹر یونس بٹ کے پاس اتنے ہی پیسے ہوتے تھے کہ وہ مجھے سموسہ اور ٹھنڈی بوتل پلا سکیں اور خود ہوا کھا کر گزرا کریں۔ رضا سہیل، روزنامچہ جنگ کے کلچرل ونگ کے انچارج تھے۔

اس ہال میں ان گنت تقاریب میں شرکت کا موقع ملا۔ کبھی یہاں نواز شریف گرجتے دیکھے کبھی شہباز شریف کو برستے دیکھا۔ کبھی ڈاکٹر جاوید اقبال کو بولتے سنا کبھی بیگم ناصرہ جاوید۔ یہیں چوہدری برادران کو بولتے سنا اور مجید نظامی کی کشمیر پر نہ ختم ہونے والی تقاریب دیکھیں۔ کبھی یہاں غلام حیدر وائیں بولتے تھے کبھی منظور وٹو، یہاں حامد میر کو رپورٹنگ کرتے دیکھا، شعیب جو چچا کے نام سے مشہور ہیں، خاور نعیم ہاشمی، خشنود علی خان، ضیا شاھد، اطہر مسعود، اسد اللہ خان غالب، ارشاد عارف، عارف نظامی، مجیب الرحمٰن شامی، حسن نثار، عبداللہ ملک، امجد اسلام امجد، افتخار عارف، اصغر ندیم سید، پروفیسر مہدی حسن، اور بے شمار جید اساتذہ کو بولتے سنا۔ قدیر خان کی تقریریں سنیں۔

یہاں شہناز شیخ کی اداکاری کو دیکھا، اور کیا خوب دیکھا، آپ کو بتاؤں کہ شہناز شیخ اور مرینہ خان ڈرامہ تنہایاں کے بعد پورے ملک کا کریز تھیں اور کم از کم شہناز اس چاہت کو سمجھتی بھی تھیں، ایک سین میں وہ سٹیج کے مرکز میں آگے بڑھ کے ایک ڈائیلاگ بولتیں اور واپسی کے لئے مڑتیں، پھر رک کر بولتیں اور پھر واپسی کے لئے مڑتیں، ایسا کم از کم پانچ مرتبہ ہوتا تھا۔ یقین مانیں کہ ہر مرتبہ ان کے رکنے پر، ڈائیلاگ بولنے پر، پھر واپسی پر پہلے سے بڑھ کے تالیاں بجتیں، آخر میں وہ سیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے محض واپس مڑ کر دیکھتیں اور کچھ کہے بغیر صرف مسکراتیں جس پر لوگ یوں دیوانوں کی طرح تالیاں بجاتے کہ لگتا تھا کہ چھت گر جائے گی لیکن مجال ہے کہ کوئی گندی آواز کسے یا بھونڈی بات ہو۔ وجہ یہ بھی تھی کہ سکرپٹ صاف ستھرے ہوتے تھے۔ اگر کہانی میں سستے جذبات ہی بیچنے ہیں یا گانوں پر نچانا ہے تو پھر کیسا آرٹ اور کہاں کا ارٹ۔

بہر حال یہاں طارق عزیز کی نظامت کے گواہ بھی بنے اور دلدار پرویز بھٹی کی شعلہ بیانیاں بھی دیکھیں۔ بکرا قسطوں پہ، نامی ایک سٹیج ڈرامہ اس زمانے میں وی ایچ ایس کیسیٹ پر دستیاب ہوا جو وی سی آر نامی مشین میں چلتی تھی۔ یہ اداکار عمر شریف کے عروج کا آغاز تھا، اس کے بعد جب وہ ڈرامہ کرنے اسی الحمرا میں آتے تو ہال میں لوگوں کا ہنس ہنس کر کیا حال ہوتا تھا یہ بتانا ایک ناممکن سی بات ہے۔ ڈرامہ سیریل الف نون کے الف کمال احمد رضوی کو بھی یہاں کام کرتے دیکھا اور بہروز سبزواری کو بھی جو اس وقت تنہائیاں کے بعد ہٹ ہوئے تھے اور اپنی ننھی سی بیٹی کو گود میں لیے الحمرا آیا کرتے تھے۔ فردوس جمال، انور علی، مسعود اختر، جمیل فخری، قوی خان، وسیم عباس، خالد عباس ڈار، اداکارہ بندیا، عرفان کھوسٹ، افضال چٹا، شعیب ہاشمی اور نہ جانے کتنے بے مثال اداکاروں کا فن کمال دیکھا۔

کبھی یہاں بھارتی اداکار اوم پوری کا ڈرامہ دیکھا جسے میرا دوست بدر خان لاہور لایا تھا اور کبھی بھارتی شاعر جاوید اختر کو سنا۔ 1989 میں حسن جہانگیر کا کنسرٹ سنا جس کے بعد ارم حسن کا گیت سنا، کبھی فریحہ پرویز کا، کبھی شبنم مجید تو کبھی عارف لوہار۔ یہاں ابرار الحق کو گاتے بھی سنا اور جواد احمد کو بھی، سجاد احمد کو، حمیرا ارشد کو بھی، سائیرہ نسیم کو بھی۔ یہیں پر سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی پذیرائی ہوتے دیکھی اور یہیں شیخ رشید کو نواز شریف کی تعریف میں قسمیں اٹھاتے دیکھا۔ اسی ہال کی سر براہی جناب عطاء اللہ الحق قاسمی کے پاس جب تھی تو رونق کا عالم ایسا تھا کہ یہ ادارہ پھر سے جاگ پڑا تھا۔

انہیں یادوں میں کھویا تھا کہ اعلان ہوا، کہ صدر مملکت تشریف لایا ہی چاہتے ہیں بس تھوڑا انتظار اور اس اعلان کو سن کر نہ جانے طبعیت کو کیا ہوا کہ خیال آیا کہ یہ تو مشقت شروع ہوا چاہتی ہے۔ اس تقریب کا موضوع کشمیر اور عمران خان کی کامیابیاں سے ملتا جلتا ہوا تھا۔ اب اس موضوع پر کونسی وہ بات رہ گئی ہے جو کہی نہ گئی ہو۔ اس کا مجھے یقین تھا کہ اگر اس معاملے پر کوئی نئی بات یا نیا فیصلہ ہو بھی گیا تو یہ معاملہ اور اس پر کچھ کرنے کا اختیار صدر عارف علوی کی پہنچ سے اتنا ہی دور ہے جتنا وہ وقت جو کبھی واپس نہیں آ سکتا۔

 مجھے خیال آیا کہ وہی روایتی تقاریر سننے پڑیں گی جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اور یہ حقیقت تقریر کرنے والے بھی جانتے ہیں اور سننے والے بھی۔ کیسے کیسے حسین لوگ آئے اور چلے گئے، رہنا ہم نے بھی نہیں تو پھر یہاں وقت کیوں برباد کیا جائے جبکہ باہر موسم نہایت خوش گوار تھا۔

میری نشست کے پیچھے احمد ولید بیٹھے تھے اور ان کی نشست کے بازو پر ایک صاحب تشریف فرما تھے۔ ولید، الیکٹرانک میڈیا کے مجمع میں ہوتے ہوئے بھی ابھی تک ایک نفیس انسان ہیں اور مہذب لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس طرح کا آدمی تکلف کے ہاتھوں مجبور ہو اور اس کی نشست کے بازو پر دوسرا، شخص براجمان ہو تو ایسی بے بسی دیکھنے کو ملتی ہے جو ولید کے چہرے پر تھی۔ وہاں سے بھاگ نکلنے کا ارادہ کیا، ولید سے کہا کہ وہ میری نشست پر آ جائیں۔ انہوں نے فوراً اپنی اوپر آتی شخصیت کو کہا کہ آپ آگے بیٹھ جائیں۔ وہ بھائی صاحب آگے آئے اور میں باہر کی جانب نکلا۔ ہٹو بچو کا شور تھا کہ صدر کی گاڑی پروٹوکول کے ساتھ اندر آئی۔ میں دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کر کے واپس آ گیا، موسم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گھر آ کر چائے پی اور سچی بات ہے کہ فیصلہ بہت اچھا کیا ورنہ شاید ابھی تک وہاں بیٹھا تقریریں سن رہا ہوتا۔ برادر جمیل فاروقی کا بہت شکریہ اور انہیں مبارکباد کہ ہال بھرا ہوا تو تھا اور تقریب بھی اچھی رہی ہو گی مگر ان سے معذرت بھی کہ نکل بھاگا مگر سارا قصور میرا نہیں تھا، باہر موسم ہی ایسا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •