پارلیمنٹ میں بے غیرت بریگیڈ کی فتح: غیرت والے بھی توجہ فرمائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سامیعہ کو ان کے ابا اور سابق شوہر نے قتل کیا، غیر ملکی شہریت کی حامل تھیں تو مجرم پکڑے بھی گئے اور کارروائی بھی جاری ہے، اس \"ramishسے ایسا لگتا ہے کہ جو لڑکیاں غیرت کے نام پہ قتل ہونے کا شوق رکھتی ہوں وہ پہلے کسی اور ملک کی شہریت حاصل کر لیں تاکہ مجرموں کے خلاف کارروائی ہو سکے اور مقتول کو انصاف مل سکے۔ لیکن یہاں ہر دوسرے دن کوئی بےوقوف خاتون اور کبھی کبھار مرد بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے، بدقسمت کیونکہ پاکستانی ہوتے ہیں تو اول مفرور ملزم پکڑ میں ہی نہیں آتا، جو پکڑ میں آ جائے اور کارروائی ہو تو اکثر قاتل کو قریبی ورثاء کی جانب سے معافی مل جاتی ہے۔

سامیعہ غیر ملکی شہریت کی حامل اور قندیل بلوچ ماڈل تھیں سو ان کے کیس کو ہائی پروفائل کیس سمجھا جاتا ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے لاہور میں جس لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا اور پھر گوجرانوالہ میں بھی ایسا ایک واقعہ پیش آیا۔ کراچی مین بھائی نے بہن کو قتل کیا، ایبٹ آباد مین بچی کو زندہ جلایا گیا، ہمارے لیے ان سب مقتولین کی زندگی ایک جتنی اہم تھی، ہاں البتہ ایک مشہور خاتون کے نشانہ بننے سے یہ ہوا کہ حکومت پر دباؤ بڑھا اور پھر بہت کاوشوں کے بعد جمعرات کو بِل پاس ہو گیا جس کے مطابق قصاص کا قانون برقرار رکھا گیا ہے لیکن معافی کے باوجود ریاست سزا دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ ذاتی طور میں سمجھتی ہوں کہ ممبران قومی اسمبلی سمیت وہ تمام افراد جو آواز اٹھاتے اور کام کرتے رہے، مبارک باد کے مستحق ہیں اور ہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس قانون پہ عمل درآمد ہونے سے غیرت کے نام قتل کے بڑھتے واقعات کو روکا جا سکے گا۔

نام نہاد غیرت کے نام پہ کیے جانے والے قتل میں مجھے کوئی غیرت نظر نہیں آتی ہاں مقتول کے مظلوم ہونے پہ مہر ضرور لگ جاتی ہے۔ \"paki-01\"ہم مظلوم اور مقتول کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قانون کا شکنجہ ایسا ہو کہ مجرم کو سزا ضرور ملے تاکہ مزید لوگ ایسے اقدام سے باز رہ سکیں۔ ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ غیرت کے نام پہ قتل گھریلو معاملے کی بجائے ریاست کے دو شہریوں کا معاملہ ہے جنہیں اپنی زندگی جینے کا حق حاصل ہے۔ اگر ایک شہری دوسرے کو اس حق سے محروم کر رہا ہے تو یہاں ریاست کو حرکت میں آنا ہی پڑے گا تاکہ مجرم کو سزا ملے اور ان بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

جماعت اسلامی سے خیر کی توقع ہم کم ہی رکھتے ہیں لیکن سراج الحق صاحب نے اسے غیر اسلامی قانون کیسے کہہ دیا؟ کیا اس قانون میں کسی نے قصاص کو چھیڑا ہے؟ وہ معاملہ تو وہیں کا وہیں ہے۔ سو مذہبی قانون کو تو کچھ نہیں کہا گیا البتہ مجرموں کے گرد شکنجہ کسنے کی خاطر ریاست کو فریق ضرور بنایا گیا ہے۔ اب یا تو ہمیں یہ بتا دیا جائے کہ یہ غیرت کے نام پر کی جانے والی قتل و غارت درست ہے؟ اگر یہ درست ہے تو ٹھیک ہے پھر اسلامی اور غیر اسلامی کی بحث کیسی؟ کسی بھی قانون کی ضرورت نہیں بلکہ تمام لوگوں کو تربیت دی جائے کہ وہ اسلحہ چلا سکیں اور وقت آنے پہ ایک گولی غیرت کے نام پر بھی چلا دیں۔ اگر یہ قتل و غارت گری کا بازار غلط ہے اور جتنا ہم نے اسلام کو پڑھا وہاں تو انسانی جان کی حرمت سب سے زیادہ ہے سو اگر کوئی قانون اس حرمت کی پامالی کرنے والوں کی گوشمالی کی خاطر بنایا جا رہا ہے اور انسانی جان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر سامنے آیا تاکہ کل کو کوئی معافی کی بھول میں قتل نہ کرتا پھرے پھر تو اسلام کے احکامات کی خاطر سراج الحق صاحب سمیت تمام معززین کو اس قانون کی حمایت کرنی چاہیے کہ اس سے بہتر کچھ ہو نہیں سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply