سیکس کی خواہش کرنا عورت کے لیے ہی ممنوع کیوں ہے؟
جبکہ یہی موضوع ہمارا مرغوب ترین موضوع ہے۔ اگر کہیں یہ موضوع زیرِ بحث آجائے تو بناوٹی ناگواری کے باوجود ہمارے کان بات کرنے والے کی زبان تک پہنچنے کے لئے بے چین ہوجاتے ہیں۔ صرف نوجوان ہی نہیں، گور میں پاؤں لٹکائے افراد بھی ایسی باتوں کا یکساں مزا لیتے ہیں۔ یہ مضحکہ خیز اور منافقانہ صورتحال ہماری سیکسؤل فرسٹریشن کا بیرومیٹر ہے۔
شوہر کی طرح بیوی کو بھی پورا حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنی طبع کے مطابق کھل کر اپنی خواہش کا اظہار کرسکے، مگر افسوس کہ مردانہ برتری کی سوچ کی موجودگی میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ مرد کو بہرحال اس برتری سے دستبردار ہوکر برابری کی سطح پر کھڑا ہونا پڑے گا وگرنہ اسے بھنبھوڑنے کے لیے ایک ساکت جسم تو ضرور دستیاب ہوگا، لطف بہم پہنچانے والا پارٹنر ہرگز نہیں۔
ہمارے ہاں شادی شدہ جوڑوں کی عظیم اکثریت اسی طرح کے بے لطف اور بدہیئت تعلق کو جھیل رہی ہے۔ بستر کے تعلق میں بیوی شوہر کے ساتھ موجود ہوئے بھی بھی شریک نہیں ہوتی۔ وہ مرد کو اپنا جسم ضرور دیتی ہے مگر محبت بالکل نہیں۔ ایسے میں مرد بھی اسے ایک کموڈ کی طرح ہی استعمال کرتا ہے جہاں اس نے تیزی سے آیا ہوا پیشاب خارج کرنا ہے بس۔
یہ صرف عورت کے لیے نہیں مرد کے لیے بھی ایک انسلٹنگ اور ڈسگسٹنگ رشتہ ہے۔ اس سماج میں مرد عورت کو پریگننٹ کرکے اپنی مردانگی پر مہر لگوا کر اُڑا پھرتا ہے۔ جبکہ المیہ یہ ہے کہ شادی شدہ عورتوں کی بڑی اکثریت کئی کئی بچے پیدا کرنے کے باوجود آرگیزم سے ناآشنا رہتی ہیں۔ شوہر بے چارہ جانتا ہی نہیں کہ بیوی کو سرشاری کی بلندی تک کیسے پہنچائے۔ یہ نہیں کہ اس میں ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ہاں مگر اسے یہاں گائیڈ کرنے والا ہی کوئی نہیں۔ اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب اس موضوع کو سنجیدہ مان کر اس پر بلا خوف بات کرنے کی اجازت ہوگی۔
ہم نے جس دن فیصلے کرنے کے معاملے میں عورت اور مرد کی برابری کو تسلیم کرلیا تو سمجھو کہ ہم نے عورت کو ہر معاملے پر بات کرنے کے قابل بنادیا۔ تب وہ بستر کے تعلق میں مرد کو انوائیٹ بھی کرسکے گی اور منع کرنے کا حق بھی پورے اعتماد سے استعمال کرسکے گی۔ اور یہی وہ عورت ہوگی جس کے ساتھ صرف بستر کا ہی نہیں بلکہ زندگی بھر کا رشتہ بہت بامعنی بن سکے گا۔
اب جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ مرد تو جب چاہے بیوی کے ساتھ یا جس کے ساتھ بھی چاہے سیکس کرنے کا کہہ کے سیکس کر لیتا ہے۔ میرے خیال میں یہ الزام بیوی کے معاملے میں تو بہت حد تک درست مانا جاسکتا ہے مگر دوسری عورتوں کے ساتھ والا معاملہ مبالغہ آرائی ہے۔ یہاں یقیناً ایکسٹرا میریٹل ریلیشن ہیں مگر اتنی افراط سے نہیں جتنی کہ مرد (اور عورتیں بھی) اس کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمارے سماج میں دونوں کے لیے ایسے مواقع کا حصول خاصی جان جوکھم کا کام ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ عورت اور مرد کی جنسی ضرورت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حقیقت کو جس قدر جلد تسلیم کرلیا جائے، سماج کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اگر مردوں کو کموڈ کی بجائے محبت کرنے والے ساتھ کی ضرورت ہے تو انہیں خود عورت کو اپنے برابر لانے کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ مگر ہماری سوسائٹی کے مرد ایسا کیوں نہیں کرنا چاہتے، اس سوال کے جواب لیے آپ اگلا خط لکھنے کی تیاری کریں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سماج کچھ بھی کہے، آپ سوال اٹھانا مت چھوڑیں اور میں بھی مقدور بھر جواب دینے کی کوشش کرتا رہوں گا۔
خیراندیش
سعید ابراہیم

