وزیر اعظم عمران خان، پاکستانی انتظامیہ کی کشمیر میں مزید پسپائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر اور لائن آف کنٹرول سے متعلق دو ’ٹوئٹر‘ بیان جاری کیے ہیں۔ پہلے بیان میں کہا ہے کہ

” میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیرانسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزادکشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ “

ساتھ ہی دوسرے بیان میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ
” وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر“ اسلامی دہشت گردی ”کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔ “

وزیر اعظم کے یہ بیان ایسی صورتحال میں جاری کیے گئے ہیں کہ جب لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام آزاد کشمیر میں ایک عوامی جلوس مظفر آباد، چکوٹھی کے راستے کنٹرول لائن کی طر ف جا رہا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان شملہ سمجھوتے میں کشمیر کی سیز فائر لائن کو ’لائن آف کنٹرول‘ کا نام دیا گیا جبکہ کشمیری خود کو دونوں ملکوں کے سمجھوتوں کا پابند نہ سمجھتے ہوئے کنٹرول لائن کو سیز فائر لائن ہی سمجھتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس نئے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کشمیر میں انڈیا کی بڑی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے معذرت خواہانہ روئیہ اپنا یا ہے۔ کشمیر پر کمزوری کا یہ ’عریاں‘ نظارہ انڈیا کے عزائم کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور تحریک مزاحمت سے خود کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات پر کام کر رہا ہے۔

انڈیا کے بیانیہ کی سپورٹ تو یہ ہے کہ کنٹرول لائن کو مقدس بناتے ہوئے سرحد بنا لیا جائے، یہی موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کنٹرول لائن کو سرحد تسلیم اور امریکہ میں کشمیر پر ہتھیار ڈال آئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان انتظامیہ اوروزیر اعظم عمران خان نے ان تمام وجوہات کو ختم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے جس سے انڈیا کو حملہ کرنے کا بہانہ مل سکتا ہے۔

کنٹرول لائن پرامن طور پر عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کشمیریوں کو انڈیا کے بیانیہ کو تقویت کا الزام دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کی وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ وہ خود کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کشمیر کو جبری طور پر کرنے والی تقسیم کنٹرول لائن کو مقدس بناتے ہوئے آزاد کشمیر کو سنگین خطرات میں دھکیل رہے ہیں۔

اس وقت عمران خان حکومت مولانا فضل الرحمان کے 27 اکتوبر کو شروع ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے خوف سے لرزہ اندام ہے۔ کشمیر سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے اس نئے بیان سے مولانا فضل الرحمان کے ’آزادی مارچ‘ کے لئے کشمیریوں کی حمایت میں اضافہ ہو گا۔ یوں کشمیریوں کو ظلم اور جبر پر مبنی کنٹرول لائن پرامن طور پر عبور کرنے سے روکتے ہوئے وزیراعظم عمران خان مولانا فضل الرحمان کے ’آزادی مارچ‘ کو تقویت پہنچا ر ہے ہیں۔ سب حیران و پریشان ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور ملک کی مستقل انتظامیہ نیا پاکستان بنا رہے ہیں یا پرانے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر پر دعوے کو ”تحلیل“ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •