باقی رہے نام اللہ کا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعلیٰ حضرت جناب جسٹس (ر) ثاقب نثار صاحب کہ (جن کے نام سے قبل ریٹائرڈ لکھتے ہوئے اب بھی انگلیاں کپکپا اٹھتی ہیں ) ، جنت مکانی، خلد آشیانی نے اپنے دورِعدل میں ہم عوام کو عدل و انصاف کے نئے مفہوم سے روشناس کرایا تھا۔ ہم کم فہم کہ عدل و انصاف کو ایوانِ عدل کی چاردیواری کی حد تک محدود خیال کرتے تھے۔ خدا کا کرم ہوا کہ اس نے ایک ایسی شخصیت کو مسندِ عدل پر متمکن فرمایا کہ جس نے ہم کوتاہ بینوں کو ایسی وسعتِ نظری عطا کی کہ ہم پر دائرہء عدل کی نت نئی وسعتیں آشکارا ہوئیں۔ تب ہی ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہمارے ہر دکھ درد کا مداوا مسند نشینِ عدل کے ہاتھ میں ہے، اور کوئی بھی شعبہء زندگی دستِ عدل کی دستبرد سے ماورا نہیں۔ مقننّہ اور انتظامیہ کے ادارے صرف اتمامِ حجت کی خاطر معرضِ وجود میں لائے گئے تھے وگرنہ ان سے منسوب معاملات اعلیٰ عدلیہ کے حیطہء عمل سے باہر نہیں۔

مگر وائے قسمت کہ اس دنیائے فانی میں دوام صرف ذاتِ بزرگ و برتر کو ہے۔ سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں سموئے ہمارا ”بابا رحمتا“ ہمیں داغِ مفارقت دے گیا۔ کاوِ کاوِ سخت جانی، ہائے تنہائی نہ پوچھ۔ آنکھوں کی ویرانی اور چہرے کی پریشانی، چیخ چیخ کر یہ سوال کرتے تھے کہ یہ خلا اب کیسے پر ہو گا۔ اب کون ہو گا کہ جو قوم کے ہر درد کو اپنا درد جانے گا۔ کیا اب ہمارا مقدر ان نام نہاد منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہو گا؟

کیا اب کوئی اپنے اونچے سنگھاسن سے اتر کر ہم مسائل کے انبوہ میں گھرے عوام کو گلے سے لگانے نہیں آئے گا؟ کیا اب کوئی ہمارے درد کو اپنا درد نہیں سمجھے گا؟ کیا اب ہمیں ہمیشہ کے لیے اس نا اہل اہلِ قیادت کے حوالے کر دیا گیا ہے؟ ملک و قوم کی خدمت کا جو میعار وہ متعین کر گئے ہیں، کیا کوئی اس میعار کو برقرار رکھ پائے گا؟

ایسے میں خدائے بزرگ و برتر سے اپنی عاجز مخلوق کی یہ کسمپسری دیکھی نہ گئی۔ بحرِ رحمت نے جوش مارا اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے خدا نے ہمیں مانندِ ماہتاب تابندہ و رخشاں، ایک گوہرِ نایاب سے نواز دیا۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہمارے غموں کا مسیحا بھیس بدل بدل کر ہمارے درمیان آ موجود ہوتا ہے۔ یقیناً جس مملکتِ خدادا کی بنیاد کلمہء طیّبہ پر رکھی گئی ہو اس کو نصرتِ غیبی ہمہ وقت کسی نہ کسی صورت میں میّسر رہتی ہے۔ ہماری نظر کے آگے سے غفلت کے پردے اٹھے اور ہم پر منکشف ہوا کہ ملکی سرحدوں کا مفہوم صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں۔ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ، معاشی و سیاسی استحکام کا حصول، داخلی اور خارجی محاذ پر کمک کی فراہمی، اداروں کی حدود کا تعیّن، آزادیء اظہار کے نام پر بیرونی ایجنڈے کے فروغ کا قلع قمع، یہ سب بھی ملکی دفاع کے لوزمات میں سے ہے۔

ہم اپنی خوش بختی پر نازاں ہیں کہ اب ہمیں اپنے دکھ درد کا مداوا کرنے کی خاطر حاکمِ وقت کا در کھٹکھٹانے کی حاجت نہیں۔ ہمارا نجات دہندہ ہم سے چند ہاتھ کی دوری پر ہے۔ ابھی ہمارے تاجر بھائی معاشی عدم استحکام اور حکومتی کارکردگی سے دل چھوڑے بیٹھے تھے۔ کسی سیانے کے مشورے پر ایک ملاقات کی اور ایسی تسلی ہوئی کہ منہ بسورتے اندر جانے والے ہنستے کھیلتے باہر نکلے۔ دیر سے ہی صحیح مگر عوام کو یہ ادراک ہونے لگا ہے کہ نسخہ ہائے شفا کس مطب خانے میں میسر ہے۔ کیا منظر ہوگا کہ مریضانِ نیم جاں جوق در جوق سوئے مطب روانہ ہوں گے۔ آہ وزاری کرتے مطب کی دیلیز پھلانگنے والے، شفاء کامل پا کر ہشاش بشاش باہر آئیں گے۔ حکومت بھی خوش، عوام بھی مطمئن۔ باقی رہے نام اللہ کا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •